52

تیمرگرہ میڈیکل کالج کا منصوبہ ترک نہیں بلکہ نئے تعلیمی سال میں کلاسوں کے اجراء کیا جا رہا ہے۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے تیمرگرہ میڈیکل کالج کا منصوبہ ترک کرنے سے متعلق اطلاعات کو محض افواہ اور ڈس انفارمیشن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ ترک نہیں کیا جا رہا بلکہ اگلے نئے تعلیمی سال میں کالج میں کلاسوں کے باضابطہ اجراء کیلئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں اجلاس سی ایم سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس بلایا گیا ہے جس میں وہ خود بھی شریک ہونگے پشاور میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی سعید گل کی زیرقیادت ملاکنڈ ڈویژن کے زعماء کے ایک نمائندہ وفد سے باتیں کرتے ہوئے جس نے مبینہ طور پر منصوبہ ترک کرنے سے متعلق اپنی تشویش سے صوبائی حکومت کو اگاہ کیا انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں حالیہ اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا اور محکمہ ہائے صحت و خزانہ کے حکام کالج کے قیام اور فوری فعالیت پرمکمل اتفاق کر چکے ہیں اور موجودہ تناظر میں خطے میں اسکی اہمیت اور افادیت کا بھی اظہار کر چکے ہیں انہوں ے بتایا کہ 2018 کے تعلیمی سیشن سے کالج کے آغازکیلئے تیمرگرہ میں رانڑئی کے مقام پر 30کنال اراضی پر محیط نئی تعمیر شدہ خالی عمارت منتخب کر لی گئی ہے جو کالج میں کلاسوں کے فوری اجراء کیلئے بالکل موزوں قرار دی گئی ہے اور اس کیلئے ساڑھے چار سو افراد پر مشتمل عملہ کی تعیناتی کی ایس این ای بھی آخری مراحل میں ہے جبکہ اگلے مرحلے میں اسکی مستقل عمارت کیلئے زیادہ وسیع اراضی خریدی جائے گی اور اسے چار ارب روپے کی تخمینہ لاگت سے مرحلہ وار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ میڈیکل کالج کا قیام ملاکنڈ ڈیژن کے سات پسماندہ ترین اضلاع کے علاوہ ملحقہ باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے لاکھوں عوام اور ہزاروں میڈیکل طلبہ و طالبات کیلئے ناگزیر بن چکا ہے جسکی ضرورت گزشتہ کئی دہائیوں سے محسوس کی جا رہی تھی اور موجودہ اتحادی حکومت نے اس پر عملی پیشرفت کا آغاز کیا ہے اسلئے منصوبہ ترک کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ منصوبے پر پیشرفت سے انہیں اگاہ کرتے رہیں گے اسلئے تشویش کی کوئی بات نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں