97

چترال امتیازی سلوک کا شکار؛ کوہستان بازی لے گیا /تحریر: کمال عبدالجمیل

صوبہ خیبر پختونخوا جو کہ کسی زمانے میں صوبہ سرحد کہلاتا تھا، اسکا کل رقبہ 74521مربع کلو میٹر ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ایک خود مختار ریاست یعنی چترال نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ چترال کو باقاعدہ طور پر 1969ء میں صوبہ خیبرپختون خوا (سرحد) میں مدغم کیا گیا اور چترال کو ضلع کا درجہ ملا۔ اسکے ساتھ ہی یہ اعزاز بھی حاصل ہوگئی کہ یہ ضلع صوبہ خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ضلع قرار پا یا جو کہ اس صوبے کے 20 فیصدسے کچھ زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ ضلع چترال کسی زمانے میں دو اضلاع یعنی مستوج اور چترال پر مشتمل تھی ۔خیبر پختونخوا کا یہ سب سے بڑا ضلع مالاکنڈ ڈویژن میں شامل ہے اور اس ڈویژن میں چترال کے علاوہ اپر دیر، لوئر دیر، مالاکنڈ، سوات، بونیر، شانگلہ وغیرہ کے اضلاع شامل ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن کا کل رقبہ یعنی ان تمام ضلعوں کو مل ملاکر 29872مربع کلو میٹر ہے اور اکیلے ضلع چترال کا رقبہ 14850مربع کلومیٹر ہے اور دیگر 6اضلا ع کا مشترکہ رقبہ 15022مربع کلومیٹر بنتا ہے یعنی اکیلا چترال پورے مالاکنڈ ڈویژن کا نصف ہے۔ چترال کا یہی بڑا رقبہ اس علاقے کو پسماندہ رکھنے کی کئی ایک وجوہات میں سے ایک اہم وجہ بھی ہے کیونکہ سرکاری مالیات کی تقسیم آبادی کے تناسب ہوتی ہے اور بد قسمتی سے چترال کا ضلع آبادی کے لحاظ سے صوبہ خیبر پختونخوا کا سب سے چھوٹا ضلع ہے اور بڑے رقبے کے باوجود فنڈ ز کم ملتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ دیگر فوائد کے حصول کی اور مواقع کی راہ میں بھی یہ بڑا رقبہ ایک اہم رکاوٹ ہے۔ چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ کسی زمانے میں اس مطالبے کے حامیوں کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی تھے مگر اب زمینی حقائق کے پیش نظر مخالفت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اب یہ پورے چترال کی آواز ہے کہ وسائل اور مواقع کے حصول کے لئے چترال کو بہر حال دو اضلاع میں تقسیم کرنا لازمی ہے۔ اگر منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو صوبے کے اس اہم، حساس اور بڑے ضلع کوانتظامی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کرنا نہایت ضروری ہے اور یہ اولین ترجیح ہو نی چاہئیے۔اسوقت انتظامی بنیادوں پر اس ایک ضلعے میں کم از کم سات تحصیلیں اور 24یونین کونسلیں (نئے بلدیاتی سسٹم میں یونین کونسل کی جگہ وارڈز بنائے گئے )ہیں۔ ضلعی صدر مقام چترال سے سرحدی تحصیل ارندو کے مرکز ارندو خاص کا تیز ترین سفر 3گھنٹے کا ہے، شاہ سلیم سرحد تک کا سفر 4/5گھنٹے کا ہے، اہم ٹاؤن اور سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹر بونی تک کا سفر 2گھنٹے کا ہے۔ بروغل پاس تک پہنچنے کے لئے گھنٹے نہیں دن درکار ہیں، اسی طرح تحصیل تورکہو اور موڑکہو میں کے مراکز تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ اسکے علاوہ ان دور دراز تحصیلوں میں ایسے دیہات آباد ہیں جہاں تک پہنچنے کے لئے پورے دن اور بعض کے لئے ایک سے زیادہ دن درکار ہو تے ہیں اور ان علاقوں کے لوگوں کو اپنے ضروری امور بالخصوص دفتری کام ، صحت کے حوالے سے مسائل، تعلیم کے حوالے سے ضروریا ت اور عدالتی مسائل وغیرہ کے لئے چترال ٹاؤن آنا پڑتا ہے جو کہ دنوں کی مسافت پر ہے۔ ایسے بھی علاقے یہاں پر موجود ہیں جہاں قیام پاکستان سے لیکر آج تک کوئی انتظامی آفیسر یا اعلیٰ سرکاری اہلکار نہیں گیا ہے ۔
چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے سے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی آئیگی اور ترقی کے نئے دور کا آغا ز ہو گا۔ سب ڈویژن مستوج او ر سب ڈویژن چترال ۔۔۔ دونوں کے عوام کو اس کا فائدہ ہوگا ۔ صوبہ خیبر پختونخوا کا شمالی ضلع چترال ایک ضلع نہیں بلکہ بذات خود ایک صوبہ ہے۔ قیام پاکستان سے قبل یہ ایک مکمل ریاست تھی ، پھر دو ضلعے بنے بالآخر دونوں ضلعوں کو مدغم کر کے ایک ایسا ضلع بنایا گیا جسکے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں گھنٹے نہیں بلکہ ایک سے زیادہ دن لگتے ہیں۔ ہر لحاظ سے چترال دو ضلعوں میں تقسیم ہونے کے لئے کوالیفائی کرتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ تور غر (سابقہ کالاڈھاکہ) ایک چھوٹی سی وادی ہونے کے باوجود ایک الگ ضلع بن سکتا ہے۔ تورغر کا کل رقبہ تقریباً 500مربع کلومیٹر ہے۔ اب گذشتہ دنوں صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کوہستان میں ایک اور ضلع کے قیام کا اعلان کیا۔ کوہستان اور چترال میں مماثلت ہے۔ کوہستان ضلع کا قیام غالباً اکتوبر 1976کو عمل میں آیا۔ ضلع کوہستان بھی دورافتادہ، پہاڑی اور پسماندہ علاقہ ہے۔1998کے مردم شماری کے مطابق کوہستان کی آبادی پونے پانچ لاکھ تک تھی۔مطلب کے کوہستان کی آبادی اور چترال کی آبادی بھی لگ بھگ برابر ہے۔ یہاں کی آبادی بھی دوردراز اور دشوار گزار وادیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ دورافتادگی، پسماندگی، انتظامی مشکلات وغیرہ کو بنیاد بنا کر سابقہ ’’ضلع کوہستان ‘‘ کو2014میں دو ضلعوں میں تقسیم کیا گیا اور ’’اپر کوہستان ‘‘ و ’’لوئر کوہستان ‘‘ معرض وجود میں آئے۔ اب اسی کوہستان میں ایک اور ضلع کا اضافہ ہو گیا جو کہ ’’کولائی ‘‘ اور ’’پالس‘‘ سب ڈویژن پر مشتمل ہو گا۔ وزیر اعلیٰ نے گذشتہ دنوں ایک جرگے میں اس امر کا اعلان کیا اور اعلان میں اس ضلع کے قیام کے لئے جن محرکات کا ذکر کیا وہی سب ’’ ضلع مستوج ‘‘ یا ضلع ’’اپر چترال‘‘ کے لئے دستیاب ہیں۔ اگر1976میں قائم ہونے والے ایک ضلع کو2014میں دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کے بعد 2017میں تیسرا ضلع بھی بنادیا جاسکتا ہے تو 1969میں دو ضلعوں کو ملاکر ایک ضلع بناگئے چترال کو 2017 میں دو اضلاع میں تقسیم کیونکر نہیں کیا جاسکتا؟ ایک ہی ضلع کو دو نہیں تین ضلعوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے تو مستوج ضلع کیوں نہیں بن سکتا؟اب تو کوہستان کے نئے ضلع کے قیام کے بعد تحصیل ارندو اور تحصیل دروش پر مشتمل ایک اور ضلع بھی بن سکتا ہے۔ پسماندگی، دورافتادگی اور انتظامی مشکلات چترال میں بھی ہیں بلکہ کوہستان سے زیادہ ہیں اس لئے چترال کو بھی دو نہیں تین اضلاع میں تقسیم کرنا چاہئے۔ چترال کے سب ڈویژن مستوج کا رقبہ تقریباً 8ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ اگر کالا ڈھاکہ میں بد امنی ، شر پسندی اور لاقانونیت اور کوہستان میں پسماندگی، غربت، دورافتادگی اور انتظامی مشکلات کو بنیاد بنا کر اضلاع بنائے جا سکتے ہیں تو ضلع چترال ا ور سب ڈویژن مستوج کے عوام کو انکے امن پسندی، حب الوطنی ، محبت اور خلوص کی بنیاد پر الگ ضلع کا تحفہ دیا جانا عین انصاف ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے جو دلائل نے ضلع کوہستان کی تقسیم کے حوالے سے پیش کئے گئے ہین اگر ان کو دیکھا جائے تو کوہستان سے پہلے ضلع چترال کو دو اضلا ع میں تقسیم کرنا قرین انصاف تھا مگر شومئی قسمت کے ہر دور میں چترال کو نظر انداز کرنیکا سلسلہ اس دور میں بھی جار ی ہے۔ کوہستان ضلع کا کل رقبہ 7500مربع کلومیٹر ہے، یہاں پر 4تحصیلیں تھیں جو پہلے دو اضلاع بنیں اور اب تیسرا ضلع بھی وجود میں آیا جبکہ ضلع چترال کا کل رقبہ لگ بھگ 15ہزار مربع کلومیٹر ہے اور یہاں پر 7تحصیلیں اور 24یونین کونسلیں ہیں۔ کوہستان کے7500مربع کلومیٹر رقبے والے ضلع کے دور دراز علاقوں میں مختلف انتظامی امور کے حوالے سے اگر 28کروڑ روپے خرچہ ہوتے ہیں تو یقینی طور پر چترال کے 15ہزار مربع کلومیٹر والے دور دراز پہاڑی علاقے میں انتظامی امور اور خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں یہ اخراجات کم ازکم 50/60کروڑ سے تجاوز کر جاتے ہونگے ۔ چترال کے ایسے بھی یونین کونسل موجود ہیں جہاں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پہنچنے میں دن صرف ہوتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں حقوق اور خدمات مانگنے سے نہیں دئیے جاتے ، شائستہ اور باوقار انداز میں بات کریں تو ایسے بات کو کمزوری سمجھی جاتی ہے مگر دوسری طرف دھونس ، دھمکی اور’’ ٹاخ پٹاخ‘‘ کی وجہ سے چھوٹے بڑے غرض ہر قسم کے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ اسکا ثبوت پہلے بھی ملتے رہے ہیں اور اب بھی مل گئے ہیں اور آئندہ بھی ملتے رہینگے۔ ضلع چترال کو ماڈل ضلع بنانے کا اعلان تو صوبائی حکومت نے کر رکھا تھا جس پر ہنوز عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی ۔ ماڈل ضلع بنانے سے بہتر یہ ہو گا کہ صوبائی حکومت کو زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنیکا فیصلہ کرے تا کہ انتظامی امور بہتر طریقے سے انجام پذیر ہوں اور یہ پسماندہ علاقے ترقی کی راہ پر چل پڑے۔ انصاف پسندوں کی حکومت میں چترال بھی انصاف کا متلاشی ہے۔
چلتے چلتے ایک بات کا ذکر بھی کروں،اوپر سطور میں کوہستان اور چترال میں مماثلت کا ذکر کیامگر چترال اور کوہستان میں ایک واضح فرق بھی ہے وہ یہ کہ تمام ترجغرافیائی اور انتظامی مماثلت کے باوجود چترال کے لوگ پر امن، شریف ، دھونس دھمکیوں اور ماورائے قانون اقدامات سے نفرت کرنے والے لوگ ہیں جبکہ کوہستان کے ہمارے بھائی جب مطالبات کو منوانے پر نکل آئیں تو پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ پاک چائنہ راہداری کو بند کرتے ہیں یا اعلیٰ افسران کو یرغمال بناتے ہیں، وہ لاٹھی لے کے بھی نکلتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہر وہ راستہ اپنانے سے نہیں کتراتے جس سے حکومتوں کو اپنے تلوے چاٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو پھر چترال آج تک دو ضلعوں میں تقسیم ہو چکا ہوتا ۔ چترال کے ساتھ تعصب اور امتیاز کا یہ سلسلہ اسلام پسند حکومت میں بھی جاری رہا ، فوجی حکومت میں بھی، قوم پرستوں کے دور میں بھی اور اب انصاف کے دعویداروں کا رویہ بھی یہی رہا۔ اس پر ہمیں صرف افسوس اور مذمت نہیں کرنا چاہئے بلکہ چترال کے لوگوں کا اپنا صحیح سمت متعین کرکے اپنے اہداف مقرر کرنے ہونگے اور تمام تر سیاسی وابستگیوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف چترالی بن کر چترال کے لئے سوچنا ہوگا ورنہ ہماری کوئی نہیں سننے والا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں