جہانِ خیال…… جماعت اسلامی کا دھرنا آخر کس لیے؟….. جب عوام کے مسائل پر سیاست خاموش ہو جائے…. تحریر: عتیق الرحمن

پاکستان کی سیاست میں احتجاج، دھرنے اور جلسے کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر آتی رہی ہیں۔ کبھی حکومت کے خلاف تحریک چلتی ہے، کبھی اپوزیشن اقتدار کے لیے احتجاج کرتی ہے اور کبھی سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مگر جماعت اسلامی کے موجودہ احتجاج کو صرف اسی روایتی سیاسی تناظر میں دیکھنا شاید کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا دھرنا آخر کس لیے ہے، اس کے مطالبات کیا ہیں اور عوام کو اس احتجاج سے کیا حاصل ہوسکتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آج اقتدار میں موجود جماعتیں ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی قوتیں، جماعت اسلامی کے احتجاج کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جو ایک بڑے عوامی مسئلے کے لیے ہونی چاہیے۔ کوئی اسے سیاسی سرگرمی قرار دے کر نظر انداز کر رہا ہے، کوئی تنقید کر رہا ہے اور بہت سے لوگ خاموش ہیں۔ دوسری طرف عوام بھی مہنگائی، بجلی کے بلوں، پٹرول کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے بوجھ کے باوجود ایسے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں جیسے یہ سب ان کی زندگی کا حصہ نہیں۔
جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے۔ وہ مہنگے پٹرول، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، پٹرول کی قیمت کم کی جائے، بجلی کے نرخوں میں کمی لائی جائے، آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے اور عام آدمی کو حقیقی معاشی ریلیف دیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ مطالبات صرف جماعت اسلامی کے ہیں یا کروڑوں پاکستانیوں کے؟
پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی چلانے والا متاثر نہیں ہوتا۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے کے گھر تک پہنچتا ہے۔ بجلی کا بل بڑھتا ہے تو صرف ایک صارف پریشان نہیں ہوتا؛ دکان، کارخانہ، دفتر اور پورا کاروباری نظام متاثر ہوتا ہے۔ یوں توانائی کی مہنگائی پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے باوجود ہماری سیاست کا بڑا حصہ ان بنیادی مسائل کے بجائے اقتدار کی کشمکش میں الجھا ہوا ہے۔
یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اکثر عوامی مسائل کو اسی وقت اہم سمجھتی ہیں جب انہیں ان سے سیاسی فائدہ نظر آتا ہے۔ اگر احتجاج کسی بڑی جماعت کی طرف سے ہو تو اسے قومی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے، میڈیا کی توجہ حاصل ہوتی ہے، حکومت مذاکرات پر مجبور ہوتی ہے اور سیاسی ماحول گرم ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جماعت اسلامی عوامی مسائل لے کر میدان میں آتی ہے تو اسے اکثر سیاسی وزن کے ترازو میں تول کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
یہ رویہ جمہوری معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔
جماعت اسلامی کی سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف بھی ایک جمہوری حق ہے۔ مگر کسی جماعت کے مطالبے کو صرف اس لیے مسترد کرنا کہ وہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے، انصاف نہیں۔
اصل سوال جماعت کا نام نہیں، مطالبے کی حقیقت اور دلیل ہے۔
اگر پٹرول مہنگا ہے تو اس پر بات ہونی چاہیے۔ اگر بجلی کے نرخ عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو رہے ہیں تو اس کا حساب ہونا چاہیے۔ اگر آئی پی پیز کے معاہدوں میں عوامی مفاد متاثر ہوا ہے تو ان کا شفاف جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل عام آدمی پر منتقل کیا جا رہا ہے تو اشرافیہ کی مراعات اور حکومتی اخراجات پر بھی سوال ہونا چاہیے۔
یہاں حکومت سے ایک سنجیدہ سوال بنتا ہے: اگر جماعت اسلامی کے مطالبات قابلِ عمل نہیں تو حکومت کھل کر عوام کو بتائے کہ کیوں نہیں۔ معاشی اعداد و شمار سامنے رکھے جائیں، متبادل راستہ بتایا جائے اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ صرف احتجاج کو سیاسی سرگرمی قرار دے کر نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
اسی طرح اپوزیشن جماعتوں سے بھی سوال ہے کہ اگر وہ بھی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور عوامی مشکلات کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں تو جماعت اسلامی کے احتجاج کے وقت ان کی آواز مدھم کیوں پڑ جاتی ہے؟ کیا عوامی مسئلہ اس وقت تک اہم نہیں ہوتا جب تک اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی جماعت نہ ہو؟
یہاں سیاسی موقع پرستی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
کچھ لوگ جماعت اسلامی کے احتجاج کے خلاف اس انداز میں زہر اگلتے ہیں جیسے عوام کے مسائل پر بات کرنا ہی کوئی جرم ہو۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی جماعت کے خلاف نفرت میں اس حد تک آگے بڑھ جانا کہ اس کے ہر عوامی مطالبے کو بھی غلط قرار دیا جائے، سیاسی تعصب ہے۔ قوم کو شخصیات اور جماعتوں کے نام سے نہیں بلکہ مسائل اور دلائل کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔
جماعت اسلامی کے لیے بھی یہ احتجاج ایک بڑا امتحان ہے۔
اگر یہ دھرنا صرف جماعت کے کارکنوں، عہدیداروں اور سیاسی حلقوں تک محدود رہا تو اسے ایک روایتی احتجاج سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر جماعت اسے حقیقی عوامی تحریک میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے عام آدمی کے ساتھ مسلسل رابطہ بڑھانا ہوگا۔ کسان، مزدور، تاجر، طلبہ، صنعت کار، تنخواہ دار طبقہ اور گھریلو صارف—سب کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مہنگی بجلی، پٹرول اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام ان کی زندگی کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔
صرف نعرہ کافی نہیں ہوگا؛ دلیل، اعداد و شمار اور قابلِ عمل متبادل بھی دینا ہوگا۔
جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ملک گیر احتجاج، شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور اسلام آباد مارچ جیسے اقدامات کی بات بھی کی ہے۔ یہ سب سیاسی دباؤ بڑھانے کے ذرائع ہوسکتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب احتجاج عام آدمی کی آواز بن جائے اور حکومت کو سنجیدہ مذاکرات پر مجبور کرے۔
دوسری طرف حکومت کو بھی احتجاج سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سننا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ حکومت جواب دیتی ہے، اپوزیشن سوال اٹھاتی ہے اور عوام اپنی رائے دیتے ہیں۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیاں ناگزیر ہیں تو اسے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اور اگر ان پالیسیوں میں اصلاح کی گنجائش ہے تو ضد کے بجائے اصلاح کی طرف بڑھنا چاہیے۔
سب سے افسوس ناک صورتحال عوام کی بے حسی ہے۔
ہم مہنگائی پر چند لمحے غصہ کرتے ہیں، بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں، پٹرول مہنگا ہونے پر شکایت کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہم نے اپنے مسائل کو تقدیر سمجھ کر قبول کرلیا ہو۔
یہ غفلت خطرناک ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت سوال کرنے، جواب طلب کرنے اور اپنے حقوق کے لیے پرامن آواز بلند کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر عوام اپنے مسائل پر خاموش رہیں گے تو سیاسی جماعتیں بھی انہیں اپنی ترجیحات میں پیچھے رکھیں گی۔
اس لیے جماعت اسلامی کے دھرنے کو بھی اسی پیمانے سے دیکھنا چاہیے۔ نہ اندھی حمایت، نہ اندھی مخالفت۔
اگر مطالبہ درست ہے تو حمایت کی جائے، اگر دلیل کمزور ہے تو دلیل سے جواب دیا جائے، اور اگر مطالبات ناقابلِ عمل ہیں تو حکومت واضح طور پر عوام کو آگاہ کرے۔
جماعت اسلامی کا دھرنا آخر کس لیے؟
اگر صرف اقتدار کی سیاست کے لیے ہے تو عوام کو سوال کرنا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد سستی بجلی، کم قیمت پٹرول، ٹیکسوں کے منصفانہ نظام، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور عوام کو معاشی ریلیف دلانا ہے تو اسے محض جماعت اسلامی کا احتجاج کہہ کر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔
کیونکہ مہنگا پٹرول کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔
مہنگی بجلی کسی سیاسی کارکن کا مسئلہ نہیں۔
مہنگائی کسی ایک طبقے کی شکایت نہیں۔
یہ پاکستان کے عام آدمی کی زندگی کا مسئلہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر عوام کے مسائل کو سیاست کا مرکز بنائیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، جماعت اسلامی ہو یا کوئی دوسری جماعت—جس کے پاس عوامی مسائل کا حل ہے، اسے سنا جانا چاہیے۔
اور عوام کو بھی اب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا۔
کیونکہ اگر عوام اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو اقتدار کی سیاست اپنی جگہ چلتی رہے گی، مگر عوام کے مسائل وہیں کھڑے رہیں گے۔
سیاست میں اختلاف ضرور کریں، مگر عوامی مسئلے پر تعصب نہ کریں۔ جماعت کا نام بعد میں دیکھیں، پہلے یہ دیکھیں کہ بات عوام کے حق میں ہے یا نہیں۔



