63

سیاسی منظراورپیپلزپارٹی کاطرزسیاست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ یہ کہنادرست ہے کہ وطن عزیز کے طول عرض میں سیاسی افق پرموجود پیپلزپارٹی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طورپر شہرت رکھتی ہے جو1970 ء سے 2008تک مختلف ادوارمیں کئی دفعہ برسراقتداررہی مگرکہنایہ بھی شائد غلط نہیں ہوگاکہ بے نظیر بھٹوشہید کی شہادت کے بعدقیادت کے فقدان کے باعث اندرونی اختلافات اور تنازعات کی زد میں رہنے سے اس جماعت نے سیاسی طورپر غیرمعمولی نقصان بھی اٹھایاہے یہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر کہلاتی یہ جماعت اختیارواقتدارکے لحاظ سے اس وقت ایک صوبے تک محدودہوکررہ گئی ہے ، اگرخیبرپختونخوامیں پیپلزپارٹی کے سیاسی عروج وزوال کاجائزہ لیاجائے تو اس حقیقت کورد نہیں کیاجاسکتاکہ1997 ء کے عام انتخابات میں پارٹی کی بدترین شکست اوربعض دیگرامورپر اختلافات کے نتیجے میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ اوربے نظیر بھٹو شہیدکے راستے الگ ہونے کے بعد 2016تک 19سال پرمحیط عرصہ کے مختلف ادوارمیں بیرسٹر مسعود کوثر،خواجہ محمد خان ہوتی، ظاہرعلی شاہ ،رحیم داد خان، سردارعلی ، انورسیف اللہ اور خانزادہ خان کوپارٹی کی صوبائی قیادت سونپی گئی مگر پیپلز پارٹی کوآفتاب شیرپاؤ جیساصوبائی قائد نہیں ملایہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی جڑیں عوام میں ہیں،طاقت کاسرچشمہ عوام ہیں اور روٹی ،کپڑااورمکان کانعرہ لگاتی بھٹو کی پیپلزپارٹی خیبرپختو نخوا کے سیاسی منظرنامے سے غائب ہوتی دکھائی دی اور پارٹی قیادت کے غلط فیصلوں اورناپسندیدہ اقدامات پر ناراض اور دلبرداشتہ جیالوں میں سے بیشترنے یاتو سیاسی کنارہ کشی اختیارکرکے چپ سادھ لی یاپھرجئے بھٹوکے نعرے کو دفناکرنئی سیاسی بساط اپنائی ،قارئین 2008کے عام انتخابات کے نتائج کی روشنی میں وفاق سمیت صوبہ سندھ اور بلوچستان کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی پیپلزپارٹی مخلوط حکومت تشکیل دینے میں کامیاب رہی تھی مگر اس کی حقیقت بھی سب جانتے ہیں کہ وہ کامیابی بے نظیر بھٹو شہید کے لہوکی قربانی کی بدولت تھی ،97ء کے بعدانتخابی صورتحال کامجموعی جائزہ لیاجائے تو پیپلزپارٹی کی پوزیشن ہرانتخابی معرکہ میں بہت کمزورہوتی دکھائی دی ہے ،قارئین کرام ،پیپلزپارٹی خیبرپختونخواکی قیادت کی باگ ڈور اس وقت سابق صوبائی وزیرخزانہ انجینئرہمایون خان کے ہاتھ میں ہے جنہیں اچھے کی امید میں کئی تلخ اور ناکام تجربات کے بعد صوبائی صدر بنایاگیاہے ، پارٹی میں اچھی شہرت کے حامل مدبر سیاستدان حنیف خان مرحوم کے فرزندانجینئر ہمایون خان خود بھی پارٹی میں اچھی ساکھ اور ایک متحرک رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں اور نہ صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت کوان سے بہترکارکردگی کے توقعات ہیں بلکہ پارٹی کے کارکن بالخصوص پچھلے دو دہائیوں سے مسلسل نظراندازہونے والے جیالوں کو بھی ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ،ہمایون خان پارٹی قیادت اور جیالوں کے توقعات پر پر پورااترنے میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں اس بارے وثوق سے کچھ کہناقبل ازوقت ہوگاکیونکہ پارٹی کی صوبائی صدارت کاعہدہ سنبھالے ابھی انہیں اتناعرصہ نہیں ہواجبکہ 2018 کاجنرل الیکشن ان کی ناکامی اور کامیابی کااصل امتحان ثابت ہوگا،البتہ تجزیاتی لحاظ سے احوال بتاتے زمینی حقائق یہ ہیں کہ بحیثیت صوبائی صدر پارٹی کی گری ہوئی ساکھ اٹھاناان کے لئے بہت بڑاچیلنج ہوگا کیونکہ پارٹی اب بھی وہیں کھڑی نظرآرہی ہے جہاں ان کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل دکھائی دیتی تھی،ورکرزکے گلے شکوے اب بھی موجودہیں اور انہیں سننے والاکوئی نہیں ،قارئین کرام پیپلزپارٹی کے اعلامیے کے مطابق پارٹی کے صدر آصف علی زرداری25اپریل کو ضلع مالاکنڈکا دور ہ کررہے ہیں جہاں وہ سابق وفاقی وزیرلعل محمد خان کی رہائش گاہ پر ظہرانے میں شرکت جبکہ بدرگہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے،بلاشبہ آصف زرداری کادورہ اہمیت کاحامل ہوگا کیونکہ بے نظیربھٹوکی شہادت کے بعد یہ پہلاموقع ہے کہ پارٹی کے مرکزی صدر مالاکنڈڈویژن کادورہ کررہے ہیں اوربقول ہمایون خان کہ ملاکنڈ ڈویژن میں قیام امن اور یہاں کی ترقی سمیت فوجی اپریشن راہ راست،28 جولائی 2010کوآنے والے تباہ کن سیلاب اورزلزلہ کے متاثرین کی ریلیف اور بحالی میں آصف علی زرداری کاکلیدی کرداررہاہے لیکن اس کے باوجوداٹھتاسوال یہ ہے کہ یہ دورہ بلاول بھٹوزرداری کیوں نہیں کررہے جبکہ وہ پارٹی کے مرکزی چیئرمین اور بے نظیربھٹوکے فرزند ہیں،اٹھتاسوال یہ بھی ہے کہ بدرگہ میں عوامی اجتماع منعقد کرانے کی بجائے اس کاانعقاد مینگورہ،تیمرگرہ یابٹ خیلہ جیسے مرکزی مقامات پر کیوں نہیں کیاگیاجہاں ڈویژن بھرکے عوام کو آنے جانے میں آسانی رہتی ،یااس کامطلب یہ لیاجائے کہ چونکہ ملاکنڈایجنسی میں پارٹی کے منتخب ایم پی اے محمد علی شاہ باچاجن کے چھوٹے بھائی ڈسٹرکٹ ناظم بھی ہیں عوامی سطح پر مقبول شخصیت ہیں اور بڑی تعدادمیں لوگوں کو لاکرزرداری کے استقبال کے لئے منعقدہ اجتماع کوکامیاب بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اجتماع ناکام ہونے کے خوف کے پیش نظرپیپلزپارٹی نے کہیں اورورکرزاجتماع کرانے کارسک لینامناسب نہیں سمجھا،بہرحال یہ سرگرمی کس حد تک کامیاب رہتی ہے اور مستقبل میں ملاکنڈڈویژن کے اندر پیپلزپارٹی کی سیاست پر اس کے کیااثرات مرتب ہوتے ہیں یہ کہناابھی قبل ازوقت ہے البتہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے مرکزی صدراورسابق صدرمملکت آصف زرداری کے دورہ ملاکنڈ کاکریڈٹ بلاشبہ پارٹی کے نومنتخب صوبائی صدرانجینئرہمایون خان اوران کی ٹیم کونہ دینازیادتی ہوگی۔قارئین کرام ،ہمایون خان ایک سیاسی رہنماء کے فرزند ہونے کے ناطے سیاسی سمجھ بوجھ تورکھتے ہیں لیکن صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ کارکنان کے لئے کس حد تک آئیڈیل ثابت ہوتے ہیں یایہ کہ ان کاانجام بھی پارٹی کے سابقہ صدورکی طرح سامنے آتاہے یہ فیصلہ آنے والاوقت کرے گاالبتہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ اگرہمایون خان ورکرزکے خدشات دورکرنااور ان کے دل میں جگہ بناکرپارٹی کی کمزورساکھ کوبہتر کرناچاہتے ہیں تو انہیں خودکو ملاکنڈ ڈویژن یاصوبائی دارالحکومت پشاورتک محدود کرکے ڈرائنگ روم کی سیاست کی بجائے صوبہ بھر توجہ دیناہوگی اورچاہے کوئی مرکزی لیڈر خیبرپختونخواکادورہ کریں یانہ کریں ہمایون خان کو صوبے کے چپے چپے میں جاکر ورکرزکواپنی موجودگی کااحساس دیناہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں