57

قر اقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں علم تدریس پر دو روزہ قومی کانفرنس شروع

گلگت ( پ ر ) قر اقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں دوسری قومی کانفرنس بعنوان “علم تدریس میں معیار کا مسئلہ” کے موضوع پر شروع ہوگئی ہے۔ جس میں ملک بھر سے نامور سکالرز نے شرکت کی۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان تھے۔کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے کہا کہ اساتذہ اس نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں،جو ملک کو ایکسویں صدی کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل کرنے کی ضمانت ہے۔دنیابھرمیں جن ممالک اور سلطنتوں نے فتوحات اور کامیابیاں حاصل کیاہے ان کے پیچھے تعلیم ہے تعلیمی میدان میں آگے جاکر ہی کامیابی اور ترقی ممکن ہے ۔قوم کی ترقی کے لیے اساتذہ کا کردار ضروری ہے ۔اساتذہ اپنی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لیے مزید جہدو جہد کرے۔انہوں نے کہاکہ استاد اور طالب علم لازم و ملزوم ہیں،بغیر استاد کے طالب علم کو حصول علم میں مشکلات کا سامناکرناپڑتاہے،۔انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ یہ کانفرس تعلیمی میدان میں درپیش مسائل کے حل کا زریعہ بنے گی ۔اس وقت پوری دنیاکی طرح ہمارے ملک میں بھی تعلیمی مسائل پائے جارہے ہیں مگر امید ہے اساتذہ کی مدد سے ان مسائل کو ختم کیاجائے گا۔اس قسم کے سیمنارز اور ورکشاپس کروانا وقت کی ضرورت ہے جن کے زریعے تعلمی مسائل کوختم کیاجاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سیمنار سے سے جہاں تعلیمی مسائل جو اساتذہ کو درپیش ہیں نہ صرف ان کے حل میں آسانی ہوگی بلکہ اس پر ریسرچ بھی کروا سکیں گے ۔ تاکہ مستقبل میں ان مسائل سے نکلنے میں ہمیں آسانی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ملک و قوم کی ترقی کی ضامن اساتذہ ہیں جن کے بغیر تعمیرو ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاہے۔تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے ۔ہمارے نبی ؐ اورقرآن پاک میں تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اس سے قبل کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر محمد آصف خان نے کہاکہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کی مشہور جامعات کے مشہور ماہریں تعلیم اور دانشور اساتذہ اس خطے میں تشریف لائے ہیں ۔اس سیمنارسے جامعہ قراقرم کے اساتذہ سمیت طلبہ درس وتدریس و تحقیق کی راہ میں رہنمائی ملے گی۔انہوں نے کہاکہ تعلیمی نظام میں بنیادی ضرورت کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں جن پر خصوسی دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل برائے ٹیچر ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ تدریسی عمل میں درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنا صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے بدقسمتی سے تمام تعلیمی اداروں میں چاہے اساتذہ ہوں یا طلبہ ان کی صلاحیتوں کو نہیں بلکہ ڈگری کی بنیاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی صورتحال بہتری کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن رہتی ہے ۔ہمیں آئے روز واقعات دیکھنے کوملتے ہیں کہ طلبہ نمبرات کے پیچھے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے انکی صلاحیتں ماند پڑ جاتی ہیں ،مسائل کا حل صرف لیڈروں کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ اری ہے ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری ایکریڈیٹیشن کونسل ڈاکٹر اشاد احمد نے نیکٹاکے تعارف کراتے ہوئے اب تک نیکٹاکے تحت ہونے والے پروگرامز اور ٹریننگ سیشن کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ایف سی یونیورسٹی کے وائس ریکٹر ڈ اکٹرسی جے دوباش نے کہا کہ ہم جس کلاس کے اندر جاتے ہیں وہاں سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے اس مستقبل کے ساتھ ہم کیا کررہے ہیں۔یہ ہم ہی ہوتے ہیں کہ کسی کو بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں تعلیمی اداروں میں ڈگری مانگی جاتی ہے مگر کہیں بھی ٹریننگ کئے ہوئے افراد کی مانگ نہیں ہوتی جس کا نتیجہ ہمیں تعلیمی اداروں سے ماہرین کی کمی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہاہے ۔افتتاحی تقریب کے بعد مختلف سکالرز نے تعلیمی ایشوز پر لیکچر دیئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں