69

پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دینے کے لیے بجٹ میں تعلیم کا حصہ سب سے ذیادہ رکھنا ہوگا۔۔۔عنایت اللہ اسیر

پاکستان بننے سے آج تک ہم نے بجٹ میں تعلیم کا حصہ 2سے 3فیصد سے ذیادہ نہیں رکھا جس میں سکولوں کی تعمیر و مرمت، اساتذہ کی تنخواہیں، درسی کتب، اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ بچوں کے لیے 80فیصد اور بچیوں کے لیے 20فیصد ، حالانکہ آبادی کے تناسب میں خواتین 52فیصد ہیں۔ جدید طرزِ تعلیم ، تحقیق، ایجادات، سائنس لیبارٹریز، لائبریریاں اور مطالعاتی دوروں کے لیے کوئی خاص بجٹ مختص نہیں رہا جس کی بناء پر ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر ثمر مبارک اور ڈاکٹر قدیر خان کے بعد کوئی نمایاں نام پاکستان سے سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ دنیا بجلی پیداکرنے کے لیے پانی ، تیل اور کوئلہ کی محتاج نہیں رہی بلکہ ایٹم کی مختلف توانائیوں کے حصول کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔ ہمارے ملک میں تو کسی دیہاتی نے پانی سے کار چلا کر دکھائی تو اس کا مذاق اڑایا گیا حالانکہ ڈاکٹر انعام الرحمان جیسے نامور سائنسدان جو پاکستان اٹامک انرجی کمشن کا 1952سے ممبر استاد اور محقق رہا ۔ خود اپنے لیکچر میں پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے پانی کو ابال کر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو الگ الگ کرنے کی کوششوں کی بات انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ایک اسلامک اورئنٹیشن پروگرام کے تربیتی کورس کے دوران اظہار کیا تھا اور یہ الفاظ کہے تھے کہ ”ایک کلو پانی سے 10لیٹرپٹرول کا کام لے سکیں گے”۔ گیس سے چاول ، آٹا اور خوراک کی تیاری کی باتیں کی تھی مگر تحقیق ایجادات اور کمالات کے میدا ن میں خاموشی نے پوری قوم کو مایوس کر دیا ہے۔ کیا ہم نے تجدید و تحقیق کا راستہ از خود ترک کر دیا ہے یا کسی بیرونی قوت کے اکسانے پر GIKکا نام لینا اور اس کے کام کو آگے بڑھانے کا کام روک دیا ہے۔ ہمارا ٹا مک انرجی کمیشن کے ممبران صرف لکیر کے فقیر ہوگئے ہیں یا حکومتیں ان قوم کی زندگی کے اداروں کی مالی سرپرستی نہیں کرتے۔
مسلم لیگ ا، ب، پ، ت، ث، ق، ن جتنے بھی ہیں سب پاکستان کے خالق جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے جو ایک مسلم حقیقت بھی ہے مگر کیا پاکستان بنانے سے ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے حالانکہ قوموں کو رہنے کے لیے مسلسل جدوجہد، ترقی اور محنت درکار ہوتی ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
یقین محکم ، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ ذندگانی میں ہیںیہ مردوں کی شمشیریں
مگر ہم یقین محکم سے خالی عمل پیہم سے عاری اور محبت کو نفرت میں بدل چکے ہیں۔ کسی بھی راستے ہو سکے کرسی تک پہنچنا ہمارامقصد ہوگیا ہے ۔ حالانکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ ہمارے گھر (پاکستان) کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور اندر بھی ملک دشمن قوتیں ہمارے تعلیمی اداروں ، مساجد اور حفاظتی حصاروں پر دہشت گرد حملے اور اس ملک میں مسلکی فسادات برپا کرنے کے لیے کبھی ہزارہ قوم پر کبھی صفورہ کا واقعہ اور کبھی کوہستان کے شاہراہ پر مسافروں کا قتلِ عام اور پہاڑی کی چوٹی پر مہم جو سیاحوں کا قتل ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کے دشمن مسلسل اس ملکِ خداداد پاکستان جو کہ اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی قوت ملک ہے جس میں دعوتِ دین کے عالمی مراکز موجود ہیں اس عظیم ملک کو ہر لحاظ سے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
الحمدوللہ شکر ہے پاکستان کی سول حکومت اورتمام سیاسی جماعتیں مل کر پاک فوج کو ملک دشمنوں کے قلع قمع کرنے میں مکمل ساتھ دینے کا فیصلہ کر کے پوری قوم کو اس سلسلے میں ایک صفحہ پر لا کر کھڑا کیا اورآج قوم کو امید کی کرن ،امن، خوشحالی اور رونقیں پھر نظر آنے لگی ہیں۔
مگر کیا ان حالات میں پاکستانی قوم دھرنوں ، ہرتالوں اور دو سال پہلے ہی انتخابی مہم کامتحمل ہو سکتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ایک جلسہ میں ہزاروں افراد کام سے فارغ ، سڑکیں بند، بازار بند اور جلوسوں میں جانے والی گاڑیاں کسی پھاٹک پر ٹال ٹیکس ادا نہیں کرتے جس سے حکومت کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔
ایک دن میں مختلف مقامات پر مختلف پارٹیوں کے جلسے اور ملازمین کی ہرٹالیں اور دھرنوں نے آگاہی دینے کے ساتھ معاشی تباہی کا سبب بھی بنے ہیں۔ یہ سب تعلیم ، شعور، ملکی مفادات اور تحفظ سے عدم دلچسپی کا مظہر لگتے ہیں۔
اس عظیم قوم کو گرین ٹرین، موٹرویز، سولربجلی گھر، CPECاور ڈیموں کے ساتھ ساتھ تعلیم میں نمبر 1کرنے کے لیے 1947 ؁ء کی مسلم لیگ کا کردار اپناتے ہوئے تمام مشکلات کو انگیز کرتے ہوئے تعلیم کے بجٹ کو اس دفعہ کم از کم 10فیصد کر کے انفراسٹرکچر ، تحقیق و تجسس، سائنس، میتھ اور ریسرچ کے کاموں کی سر پرستی کے لیے وقف کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران یہ فیصلہ کر یں کہ جس نے بھی نئی ایجاد کی اس کو ایوارڈ ، سہولیات اور ان کے تمام اخراجا ت حکومت برداشت کرے پھر دیکھیں لنڈی ارباب پشاور کا قاضی اسد جہاز بنا کر ہیلی کاپٹر تیار کرکے اڑا کر بے روزگار نہیں رہے گااور حیدر آباد کے پانی پرکار کا انجن چلانے پر کوئی مذاق نہیں کرے گا اور ڈاکٹر قدیر خان ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے مالی مشکلات اور شخصی آزادی سے محروم نہیں رہے گا۔ ڈاکٹر انعام الرحمان اپنی عمر کے آخری حصہ میں پھر اس ملک کے لیے کچھ کر کے جانے کے قابل ہو جائیگااور دل کے ارما ن لیے رخصت نہیں ہوگااور عنایت اللہ اسیر بہتے پانی سے پانی اور بجلی بنانے اور دیگر جدید روشنی کے حصول کے موجود ذرائع پر تجربہ کرنے کے لیے مالی مشکلات کا شکار نہیں رہے گا۔
امید ہے مرکزی اور صوبائی حکومتیں الف اعلان کے ازاں حق علم ہی سب کچھ ہے کا ساتھ دیں گے اور آنے والے بجٹ کو علم دوست بنا کرہر ویلج کونسل میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ہائی سکولز ہر تحصیل میں کونسل انٹر اور ڈگری کالجز بچوں اور بچیوں کے لیے اور ہر ضلع میں یونیورسٹی لیول کے اداروں کے قیام کے لیے کمر بستہ ہو کر پاکستان کو پورے عالم میں صفحہ اول کا ملک بنانے میں اپنا کردار نبھائیں گے۔
خاص کر بچیوں کے تمام تعلیمی اداروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دینے ہی سے دور دور کے طالبات ہائی سکولوں تک آ سکیں گے اور تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو اساتذہ اور استانی صاحبان کو سیکنڈ شفٹ چلانے کی قانونی اجازت دی جائے تب ہی ہم سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گول حاصل کر سکیں گے۔
.

Print Friendly, PDF & Email