89

بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا واویلا مچانے کا اب کوئی جواز باقی نہیں اور عوام بھی اپوزیشن کی احتجاجی کال پر سڑکوں پر نہیں نکلے/سی ایم

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے اپوزیشن کے سہ فریقی اتحاد کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی یا بدنظمی کی شکایات تھیں وہاں الیکشن کمیشن نے دوبارہ پولنگ بھی کرا دی ہے جس سے بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے سرکاری نتائج کے اجراء کے بارے میں لگائے گئے الزام کے جواب میں واضح کیا کہ نتائج کا سرکاری اعلان صوبائی حکومت کا کام نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومت خود الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری نتائج کے اعلان کا انتظار کر رہی ہے تا کہ بلدیاتی سطح پر حکومت سازی کا عمل آگے بڑھ سکے اور بلدیاتی ادارے اپنا کام شروع کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا واویلا مچانے کا اب کوئی جواز باقی نہیں اور عوام بھی اپوزیشن کی احتجاجی کال پر سڑکوں پر نہیں نکلے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کی طرف سے صوبائی حکومت پر دھاندلی کے الزامات دراصل اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ہے۔ وزیراعلیٰ نے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا ذمہ دار بھی صوبائی حکومت کو ٹھہر انے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن انتخابی قواعد اور طریقہ کار سے اس قدر بے خبر ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان حکومت کی ذمہ داری ہے یا الیکشن کمیشن کی؟ انہوں نے کہا کہ سرکاری نتائج الیکشن کمیشن جاری کرے گا تا ہم اس میں تاخیر کی وجہ شاید منتخب کونسلروں کی بھاری تعداد ہے۔ وزیراعلیٰ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں خامیوں سے متعلق الزام کے جواب میں کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ایوان میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے منظور کیا گیا ہے اس لئے اپوزیشن کی کسی پارٹی کی جانب سے اس پر تنقید اب بلا جواز ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے امتیازی احتساب کا الزام بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق شاہد ہیں کہ برسراقتدار حکومت کے وزیر کو بھی کرپشن کے الزامات پر احتساب کے کٹہرے میں لایا گیاہے اور اس کیلئے حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ احتساب کمیشن کو اس قدر مضبوط اور با اختیار بنایا گیا ہے کہ وہ ایسے الزامات پر وزیراعلیٰ پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔
<><><><><><>

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں