64

غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس، احتساب عدالت نے آصف زرداری کو بری کردیا

راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری  کو 16 سال بعد غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق آصف علی زرداری پر غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا جس کا ریفرنس 2001 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی اثاثہ جات ریفرنس میں بریت کی درخواست منظور کرلی۔ سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے انہیں بری کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔احتساب عدالت نمبر ایک کے جج خالد محمود رانجھا نے بریت کی درخواست منظور کی جب کہ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب نے جو ریفرنس دائر کیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ احتساب عدالت کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس میں نیب کوئی شہادت پیش نہیں کرسکا، ریفرنس فوٹو اسٹیٹ نقول پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حثیت نہیں۔واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف نیب نے 2001 میں ریفرنس نمبر 14 دائر کیا تھا جس میں انہیں سیکیورٹی وجوہات کے بناء پر عدالت میں حاضر ہونے سے استثنیٰ حاصل تھا۔

مشرف دور کا اثاثہ جات ریفرنس این آر کے تحت بند ہوا، سپریم کورٹ کے حکم پر کھلا

آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس 2001 میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا جو بعدازاں اس وقت کے صدر مشرف کی جانب سے جاری کردہ این آر کے تحت 2007 میں بند کردیا گیا۔ دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کے تحت بند کئے جانے والے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔ زرداری اس وقت صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے جس کی وجہ سے انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔ نیب نے چیئرمین آصف زرداری کے خلاف ریفرنس کو اپریل 2015 میں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے اس ریفرنس پر کارروائی سست روی کا شکار تھی۔ رواں برس کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ۔ زرداری کے وکیل بیماری کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔ رواں سال کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کہ کرپشن ریفرنس کا ایک اہم گواہ پراسرار طور پر غائب ہوگیا تھا۔ بعدازاں بیرسٹر جواد مرزا نامی گواہ کو راولپنڈی احتساب عدالت سے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا تھا۔ تاہم عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی، جن میں سے 5 کیسز میں انہیں پہلے ہی بری کیا جاچکا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email