100

علاقے کی پسماندگی دور کرنے ،خواتین کے مسائل حل کرنے اور علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بھر پور کو شش کریں گی،کالاش نمائندے

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال) بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں تینوں کالاش وادیوں کی نمایندگی کیلئے کامیاب ہونے والی اقلیتی کالاش خواتین ممبران ولایت گُل بمبوریت ، جمشاہی رمبور اور زرگل بریر ویلی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے ۔ کہ وہ علاقے کی پسماندگی دور کرنے ،خواتین کے مسائل حل کرنے اور علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بھر پور کو شش کریں گی ۔ ہفتے کے روز چترال شہر میں حلف برداری کی تقریب کے بعد انہوں نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ کالاش ویلیز پہلے سے ہی پسماندہ ہیں اور حالیہ سیلاب نے اس علاقے میں زندگی مزید مشکل بنا دی ہے ۔ خصوصا اقلیتی برادری کو بہت زیادہ مصائب اور مسائل کا سامنا ہے ۔ علاقے میں انسانوں اور حیوانات کیلئے خوراک کی شدید قلت ہے ۔ روڈ تباہ و برباد ہو چکے ہیں ۔ تعلیمی اداروں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے ۔ اور صحت کے حوالے سے کالاش خواتین کو کو ئی سہولیات دستیاب نہیں ۔ ایام زچگی کیلئے ا ستعمال کئے جانے والے کالاش میٹرنٹی ہوم بشالینی انتہائی خستہ حالت میں ہیں ۔ اور صاف پانی کے بوند بوند کو لوگ ترس رہے ہیں ۔ ملت گُل نے کہا ۔ کہ اُنہوں کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ ہی اسلئے لیا ہے ۔ کہ کالاش خواتین کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اُن کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا ۔ علاقے میں ڈاکٹر کا وجود نہیں ۔ اس لئے بیماری کی صورت میں خواتین کو ہسپتال میں ڈاکٹر اور ادویات کی سہولت فراہم کرنے کی بجائے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں خواتین پر ہونے والی اس ظلم و زیادتی کی روایت اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے کیلئے میدان میں آئی ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سیلاب نے تمام زرعی آراضی برباد کردیا ہے ۔ سینکڑوں مال مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اور جو بچ گئے ہیں اُن کو چراگاہوں میں خوراک دستیاب نہیں ۔ ایسے حالات میں حکومت کو علاقے کی طرف بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ بڑے پیما نے پر تباہی کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں ہو رہے ۔ صرف طفل تسلیوں کے ذریعے ٹرخایا جا رہا ہے ۔ تینوں کالاش خواتین نے مرکزی ، صوبائی اور ضلعی حکومت سے کالاش ویلیز کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

Back to Conversion Tool

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں