170

وادیِ مینو اساس۔۔۔۔ احسان شہابیؔ

fff2
چترال کے انتہائی شمال میں اونچے سنگلاخ پہاڑوں میں گھری ایک وادی کا نام ریچ ہے۔ دور افتادہ ،برفیلی،ٹھنڈی پسماندہ ہونے کے باوجو د یہ اتنی دلکش ہے کہ اس پر جی آنے لگتا ہے۔ پہاڑوں پر روئیدگی بہت کم ہے ۔ گرمیوں میں الف ننگے رہنے والے پہاڑ سردیاں آتے ہی برف کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔
کچے مکانات کی دھول سے اٹی چھتوں پر دھوب سینگتے بزرگوں، بچوں، جوانوں میں زندگی اپنی تمام تر محشر سامانیون کے باؤجود مسکراتی نظر آتی ہے۔ ستمبر کے وسط ہی میں وادی پر برفانی نور اتر آتی ہے۔ دنوں میں گھٹنوں برف میں دھنستے لوگ بڑی سخت جانی کے ساتھ وادی کے سینے پر منڈلاتے ،کوئی کوسوں دور جاکر پانی ڈھو کر لاتے ، کوئی دور کی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے سودا سلف لاتے ،عورتیں صحن میں جھاڑو بہارو کرتیں، مرد گھر کے آنگن میں سوختنی لکڑیاں کاٹتے نظر آتے ہیں۔ جاڑوں میں صبحیں اتنی ٹھنڈی ہوتی ہیں کہ بہت کم لوگ گھر سے باہر نظر آتے ہیں ۔ گھروں میں دہکتے انگاروں یا جلتے آلاؤ کے گرد بچے کھیلتے،تتلاتے،منڈلاتے ،بزرگ آگ سینگتے اور بولتے رہتے ہیں ۔ ان کی باتوں ،خیالوں اور تصور میں ماضی بولتا ہے۔وہ ماضی سوچتے ، بولتے اور حال میں جیتے ہیں ۔ پرانی باتیں بڑے مزے سے چٹخا رے لے لے کر سناتے ہیں ۔ اس وقت کی باتیں جب سڑکوں کی جگہ پیدل کے تنگ راستے تھے ۔ جہاں اجل دندناتی پھرا کرتی تھی۔ جہاں لوگ خاموشی کیساتھ لڑھکتے پتھروں، برفانی اور مٹی کے تودوں کا شکار ہوجاتے ۔ جہاں پُل پُلِ صراط ہوا کرتی تھیں اور ان’’ تیز دھار پلوں‘‘ کو پار کرتے ہوئے سینکڑوں مسافر آبی دوخ کی زد میں آیا کرتے تھے۔ چترال ٹاؤن سے وادی تک لوگ پیدل آتے جاتے تھے۔ جان جوکھوں کا یہ سفر ہفتوں میں طے ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں صبح تڑکے نکلتے ، دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے رات ہو جاتی تو کسی مسجد میں ڈھیرہ ڈالتے یا کسی رشتہ دار کے گھر ٹھر تے ۔ صاحب ثروت لوگ سواری کے لئے گھوڑے بھی استعمال کرتے تا ہم راستے اتنے کٹھن اور پُرپیچ ہوتے کہ سوار گھوڑے کے پیٹھ پر کم اور نکیل پکڑ کر آگے آگے زیادہ ہوتا۔ برف باری کے موسم میں سفر کی مشکلات دوگنی ہو جاتیں۔ چاروں اور برف ہی برف ہوتی اور راستہ ایک تنگ لکیر کی صورت سامنے ہوتا ۔ مسافر ایک دوسرے کے پیچھے سر جھکائے اپنے اپنے ساماں اٹھائے چلتے رہتے ۔
بزرگ یہ ساری باتیں بتانے کے باوجود بھی ماضی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کہتے ’’پہاڑ جیسے سخت جان لوگ تھے ، اس زمانے کے خوراک میں بھی بھلا کی قوّت تھی ،ہر چیز گھر میں تیار ہوتی تھی اور اصلی دیسی گھی ، تازہ گوشت، دیسی کھانے، دودھ کی فراوانی، گیہوں اور جَو کی روٹیاں ، جنہیں کھا کر لوگ ہر دم صحت مند ، تندرست و توانااور چست رہتے تھے ، نہ بیماریاں تھیں نہ ہی ہسپتال تھے۔ جوانوں کو دیکھوں تو بھرا بھرا جسم، سر خ و سفید رنگت، سارے زندہ دل ، سب کے جزبے جواں ، موسیقی کی محفلیں برپا ہوتی تو سارے مل کر گاتے ، ناچتے، ستار بجاتے، دف پیٹتے ، آسمان سر پر اٹھاتے، مہینوں کا کام دنوں میں کر چھوڑ تے ،نہ کے آج کل کے مصنوعی خوراک کے پروردہ پیلے پیلے ، تھکے تھکے کاہل ،سست اور بیمار سے جوانوں کی طرح ۔ ‘‘ ماضی پرست بزرگ اس قسم کی گفتگو کر کے حال کو ماضی سے پٹوا کر خوش رہتے۔
مارچ کے اوائل میں سورج کی تمازت میں اضافہ ہو تا ہے ۔برف سر غت کے ساتھ پگھلنا شروع ہو جاتی ہے۔جل اور تھل ایک ہو جاتے ہیں۔سڑکوں گلیوں میں گھٹنوں گھٹنوں دلدل میں چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دلدل میں آمدِ بہار کی جانفزا نوید ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ برف دم توڑ تی ہے۔ کیچڑ بیٹھ جاتی ہے۔ٹھنڈی تندہواؤں میں نرمی آجاتی ہے۔ پورب اور پچھم سے بادِ صبا خوشبو بر دوش آتی ہے اوروادی کے کونے کھدروں کو معطر کر دیتی ہے۔ندی نالوں کے کناروں میں ننھے ننھے رنگ برنگے پھول کھل اٹھتے ہیں ۔ سبزہ دھیرے دھیرے دھرتی کا سینہ چیر کر ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے۔ پیڑوں کی ٹہنیوں میں لالی عود کر آتی ہے۔ غرض فطرت اپنی صناعی کو یکسر نئی کروٹ دیتی ہے۔ دھرتی کے اوراق پر تازہ نقش و نگار کے تانے بانے پھیل جاتے ہیں ۔
تیری صناعی ہویدا تیری تخلیق سے ہے
تو نے ہر چیز کو اندازِ دگر بخشا ہے
صبح پرندوں کی پہلی چہکار اور پھولوں کی مہکار کے ساتھ ہی دہقان اپنے اوزار اٹھائے کھیتوں کی اور چل دیتا ہے تواس کے اطراف میں بادِ صبا رقص کرتی ہے تو خار و خس بھی گلاب کی طرح مہک اٹھتے ہیں ۔مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو اٹھتی ہے اور اپنے ساتھ کئی امنگوں ، ترنگوں اور امیدوں کو لے کر گلے ملتی ہے۔
شام کو گاؤں کے آس پاس لڑکے دیر تک کھیلتے، شور مچاتے ہنستے کھِلکھلا تے رہتے ہیں ان کی آوازیں سنگلاخ پہاڑوں سے ٹکرا کر جب واپس آتی ہیں تو وادی پر کسی افسانوی بستی کا گمان ہوتا ہے۔سورج ڈھوبتے ہی گھروں کے آنگن بجلی کی ہلکی ہلکی روشنیوں سے جھلملا اٹھتی ہیں۔ننھے ننھے بچے ، بچیاں اپنے دروازوں پہ کھڑے اپنے اپنے گھروں کے لڑکوں کو آوازیں دیتے ہیں تو مغرب کی اذان گونجتی ہے ا ور فضا میں طلسمی خاموشی چھا جاتی ہے۔ اکّے دکّے نمازی مسجدوں سے تیز تیز قدم اٹھائے گھروں کو جاتے ہے تو گردو نواح میں گیدڑوں کا شور ضرور سنتے ہیں ۔
یوں ترقی یافتہ دنیا سے بہت دور کئی صدیوں سے یہ بستی اپنے مکینوں کے کئی نسلوں کو بہلا پھسلا کر ، کبھی رُلا ہنسا کر اپنے سینے پر پرورش کرتی ہے اور پھر فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں موجود سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قبرستانوں میں منتقل کرتی ہے۔ ہزاروں جوانیاں بڑی جولانیوں میں اٹھتی ہیں اپنا دورانیہ گزار کر خاک میں اترتی ہیں مگر سخت جانوں کی یہ ٹھنڈی اور دلکش وادی اسی طرح ایستادہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں