رضاکاروں نے ہرمشکل وقت میں شہری اوردیہاتی علاقوں میں قوم کی بے لوث خدمت کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں/ڈپٹی کمشنر عمران خان یوسفزائی چترال کے بچوں کے اندر ٹیلنٹ کی کمی نہیں بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے جدید دور کے چیلنجوں کے لئے تیارکر ناہم سب کی ذمہ داری ہے/ڈی سی محمدعمران خان یوسفزئی اے کے آرایس پی چترال کے ای سی پراجیکٹ کے زیراہتمام یونیورسٹی آف چترال میں “ہم ملکرصنفی تشددکے خلاف کھڑے ہیں” کے موضوع سمینار محکمہ ایلمنٹر ی اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اسپیشل امپلی منٹیشن یونٹ کے زیر اہتمام چترال میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام میاں نوازشریف کی بریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر جمہورکی آواز …………….. ٹیلنٹ کا قتل ……….. ایم سرور صدیقی شہید اسدالرحمن ولد عبدالرحمن کو ہفتے کے روز آبائی قبرستان احمد آباد بمبوریت میں پورے فوجی اعزازکے ساتھ سپرد خاک داد بیداد…نئی اتھارٹی کا قیام…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔”کھوار ادب کی چھتری ۔۔۔انجمن ترقی کھوار۔۔“۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات آیوڈین ملا نمک کی اہمیت اجاگرکرنے کے لئے آگہی واک کا اہتمام کیا گیا جوکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سے شروع ہوکر ہسپتال چوک پر اختتام پذیر
514

صوبائی اور مرکزی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکام

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)سابق ایم این اے چترال اور جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر چترالی نے حکومت کو خبردار کیا ہے ۔ کہ پندرہ دنوں کے اندر چترال میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو بسانے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ۔ تو تنظیم تحفظ حقوق سیلاب زدگان چترال کے پلیٹ فارم سے شدید احتجاج کا آغاز کیا جائے گا
۔چترال پریس کلب میں بدھ کے روز جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں اخونزادہ رحمت اللہ ، عبدالحق اورحکیم مجیب اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ چار مہینوں سے چترال کے طول و عرض میں سیلاب سے تباہ حال پانچ سو خاندان انتہائی مایوسی اور محرومی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں ۔صوبائی اور مرکزی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اور لوگ مختلف مخیر اداروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ جبکہ سردیوں کا آغاز ہو چکا ہے ۔اب بارش اور برفباری میں خیموں یا کھلے آسمان تلے وقت گزارنا ممکن نہیں ۔اس لئے فوری طور پر ان متاثرین کیلئے چھت کا انتظام کیا جائے ۔
مولانا چترالی نے کہا ۔ کہ چترال کے سیلاب کے دوران وزیر اعظم ،چیف آف سٹاف اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے چترال کا دورہ کیا ۔ لیکن اس دورے سے چترال کے سیلاب متاثرین کو کچھ بھی نہیں ملا ۔ جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ جبکہ متاثرین یہ توقع کر رہے تھے ۔ کہ اعلی حکومتی شخصیات کی آمد سے اُن کی بحالی کیلئے زیادہ دلچسپی سے اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ لیکن یہ اُن لوگوں کیلئے محض ایک خواب ثابت ہوا ۔ وزیر اعظم کی طرف سے جانی نقصان کیلئے پانچ لاکھ اور مکمل تباہ شدہ مکان کیلئے چار لاکھ معاوضے کے اعلان پر ابھی تک عمل در آمد نہیں ہوا ۔
انہوں نے کہا ۔ کہ پاک فوج نے سیلاب کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ تاہم ایف ڈبلیو او کا کام غیر اطمینان بخش رہا ۔مولانا چترالی نے کہاکہ پاک فوج نے ریلیف کے مرحلے میں زبردست کارکردگی دیکھائی اور آرمی چیف نے خود چترال کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیاجس کے لئے چترال کے عوام ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہاتاہم چترال کے عوام بونی روڈ، گرم چشمہ روڈ اور بمبوریت روڈمیں ایف ۔ڈبلیو ۔ او کے کام سے مطمئن نہیں ہیں جس کا آرمی چیف کا سخت نوٹس لینا چاہئے انہوں نے چیف آف سٹاف اور کور کمانڈر پشاور سے ایف ڈبلیو او کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق احکامات دینے کا مطالبہ کیا ۔ ۔
مولانا عبد الاکبر نے کہا ۔ کہ گورنر کی طرف سے تعلیمی اداروں کے طلباء کی فیسوں کی معافی کے اعلان سے صرف کالج کے طلباء کو فائدہ پہنچا ہے ۔ جبکہ اس کا اطلاق یونیورسٹی سطح پر بھی ہونا چاہیے ۔ اور سیلاب سے متاثرہ چترال کے طلباء کو ایک سال کی بجائے دو سالوں کے فیسوں کی ریلیف دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے جنگلات کی کٹائی شدہ عمارتی لکڑیوں کو مقامی سطح پر نیلام کرکے متاثرین سیلاب کو دیا جائے ۔ تاکہ وہ اپنے مکانات تعمیر کر سکیں ۔ مولانا چترالی نے حکومت سے فوری طور پر سیلاب متاثرین کیلئے دس ارب روپے کے پیکج کے اعلان کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے پشاور یونیور سٹی میں بیا لوجی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ تمام ڈیپارٹمنٹ میں چترال کے ختم کردہ سیٹوں کی دوبارہ بحالی کا بھی مطالبہ کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں