Breaking News

واپڈا چترال کی طرف سے ایک مظلوم عورت کو بجلی کا 1,06,343/- روپے کا ناجائز بل جمع کرنے یا سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں ۔

چترال(بشیر حسین آزاد) محکمہ پیسکو چترال کے ظلم کا شکار ایک عورت نے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گاؤں فیض آباد (ہون) تحصیل وضلع چترال کا رہائشی ہوں میرے شوہر اکرام الدین نے نیا مکان تعمیر کرنے کے بعد محکمہ واپڈا / پیسکو سے بجلی کا سنگل فیز میٹر سال 2012 ؁ء میں حاصل کیاتھا۔ میٹر لگنے کے بعد 6 مہینے تک بجلی کا بل نہیں آیا اور 6 مہینے کے بعد 5/6 ہزار روپے کا بل آیا۔ اس کے بعد بلوں کا سلسلہ شروع ہوا اور میں بل ادا کرتی رہی۔ میں نے مورخہ 5جون 2015 ؁ء کو مبلغ 18,000/- روپے کا بل واپڈا کو ادا کیا۔ اسطرح مورخہ 18/09/2015 کو ایس ڈی اؤ پیسکو چترال نے مجھ سے مبلغ 40 ہزار روپے بقایاجات کے نام سے جمع کرانے کے لئے کہا تو میں نے جی پی او چترال میں 40,000/- روپے کا بل جمع کرایا ۔ ماہ نومبر میں ایک اور بل مبلغ 1,06,343/- روپے کا مجھے موصول ہوا تو میں بل جمع کرانے سے انکاری ہوئی توایس ڈی اؤ پیسکو اور اُس کا دیگر عملہ مورخہ 28/11/2015 کو بجلی کا کنکشن بھی منقطع کردیا اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر 500گھرانوں کے بلوں کو اکھٹا کیا جائے تو اتنے بل نہیں بن سکتے ہیں۔ میں کوئی فیکٹری نہیں چلارہی ہے اور نہ ہی بجلی سے کوئی کاروبار کررہی ہوں۔ میری تین ممبران پر مشتمل چھوٹی فیملی ہے جس میں ضروریات زندگی کے محدود سامان ٹیلی وژن اور فریج موجود ہیں۔ میرا شوہر بچوں کے نان نفقہ پیدا کرنے کے سلسلے میں ملک سے باہر سعودی عرب میں محنت مزدوری کررہاہے۔ میں اُس کی غیر موجودگی میں اپنے تین بچوں کے ہمراہ اپنے گھر میں رہائش پذیر ہوں۔ محکمہ پیسکو / واپڈا کے ذمہ داروں کی جانب سے مجھے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان کا بھی خطرہ ہے۔ پورے محلے کے میٹر کہیں دور کھمبے میں نصب شدہ ہیں اور واپڈا کے اہلکار اپنی مرضی سے بجلی کا میٹر تبدیل کرتے رہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ واپڈا کے اہلکار ضرور کوئی ڈیفالٹر میٹر میری میٹر کی جگہ نصب کئے ہونگے اور اُس کے بقایا جات میرے کھاتے میں ڈال رہے ہونگے۔ میں وزیر اعظم پاکستان ، چےئرمین واپڈا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ ،ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے قابل رحم حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ واپڈا / پیسکو کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاکر ناجائز طور پر وصول شدہ زائد رقم مجھے واپس دلوائی جائے۔ نیز محکمہ پیسکو / واپڈا کے ظلم و ستم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مجھے اور میری فیملی کو محفوظ فرمائی جائے جوکہ پاکستان کے آئین کے مطابق مجھے حاصل ہیں اور فوری طور پر بجلی کنکشن بحالی کی جائے۔

About ایڈیٹر انچیف

سید نذیر حسین شاہ چترال ایک جانے مانے صحافی ہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے مختلف اخباروں اور ٹی وی چینلز کے ساتھ بطور رپورٹر منسلک ہیں انہوں نے ابلاع عامہ میں ڈپلوما حاصل کی ہوئی ہے اور ان کے اخبار ڈیلی چترال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ چترال سے شائع ہونے والا یہ دوسرا اخبار ہے جس کو حکومتی سطح پر سرپرستی حاصل ہے۔

Check Also

گلگت چترال روڑ حکومت پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان بالخصوص ضلع غذر کے عوام کے لئے تحفہ ہے،اگر فنڈز کی فراہمی یقینی ہو تو یہ شاہراہ 18 ماہ تک مکمل ہوسکتی ہے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان

غذر (نامہ نگار)چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا نے غذر پریس کلب کے ممبران …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *