تازہ ترین
آل پارٹیز اور سول سوسائٹی چترال کے نمائندوں کا متفقہ قرار داد کے ذریعے لینڈ سٹلمنٹ کے حتمی ریکارڈ کی درستگی کیلئے دوسال کے لئے موخر کرنے کا مطالبہ


ریور بیڈ اورچراگاہوں کی تعریف واضح نہیں ۔ جبکہ حکومتی اہلکار انہیں اسٹیٹ لینڈ قرار دے کر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف یہ بھی واضح نہیں کہ اس حوالے سے مجاز آفیسر کون ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نوٹیفیکیشن میں واجب العرض بھی واضح نہیں ۔ کہ علاقائی لوگ کس طرح اور کس رواج کے مطابق ان کو استعمال کرتے رہے ہیں ۔ شرکاء نے کہا ۔ کہ یہ چترال کے لوگوں کیلئے زندگی اور موت کا سوال ہے ۔ اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا ۔ کہ اس نوٹیفیکیشن کے بعض شقوں کو چیلنج کرنے کیلئے اعلی عدالت سے رجوع کیا جائے گا ۔ جس کیلئے ممبران اسمبلی ، ضلع ناظم اور دیگر ناظمین ، آل پارٹیز کے قائدین اور ویلج سطح کے عہدہ دار مالی وسائل مہیا کریں گے ۔ شرکاء نے اس سلسلے میں فوری طور پر ڈپٹی کمشنر چترال سے رابطہ کرکے ریکارڈ کو آگے بھیجنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اور اس سلسلے میں صدر تحریک انصاف چترال عبد اللطیف کو ذمہ داری تفویض کی ۔ اجلاس سے صدر ڈسٹرکٹ بار خور شید حسین مغل ، سابق صدر بار ساجد اللہ ایڈوکیٹ ،محمد حکیم ایڈوکیٹ ، محمد کوثر ایڈوکیٹ ، میجر (ر) احمد سید ، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد ، صدر مسلم لیگ ن سید احمد ، صدر تحریک انصاف عبد اللطیف ، رہنما پی پی پی عالمزیب ایدوکیٹ ، سنیئر نائب صدر مسلم لیگ زار عجم خان ، عنایت اللہ اسیر ، ممبر بار خیبر پختونخوا بار کونسل عبد الولی ایڈوکیٹ ، ، برھان شاہ ایڈوکیٹ ، صدر تجار یونین شبیر احمد،صدر آل ایمپلائز امیر الملک ، قاری نسیم ، جنرل سیکرٹری مسلم لیگ صفت زرین ، غلام حضرت انقلابی اور ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ نے خطاب کیا ۔