227

کون کہتاہے، موت آئی تو مر جاؤں گا ۔۔۔ایم سرورصدیقی

OOO سو کر اٹھا محسوس ہوا گھروالوں کی عجب کیفیت ہے چولہے میں دھواں ہے نہ ناشتے کی کوئی تیاری ۔۔میں نے پوچھا اماں!ناشتے میں کیاہے؟ ۔۔انہوں نے کوئی جواب نہ دیا مجھے لگا جیسے اماں کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔والد صاحب کی طرف دیکھا افسردہ افسردہ ،غمگین،دل گرفتہ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑائی تو بڑے بھائی ریاض ایک کونے میں کھڑے رو رہے تھے میں نے ان کا ہاتھ تھام کر دریافت کیاآپ کیوں رورہے ہیں ؟ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا البتہ ان کے رونے کی آواز مزیدبلند ہوگئی چارپائی پر بیٹھے بھائی نسیم کی بھی یہی حالت تھی ۔۔دل میں سوچا الہی کیا افتاد آن پڑی ہے کہ ہر کوئی پریشان پریشان ہے بتاتا بھی کچھ نہیں شاید کوئی رشتہ دار عزیز وفات پاگیاہے منہ ہاتھ دھو کر گھرسے باہر نکلا تو یوں لگا میاں چنوں کا ہر شہری سہماسہما،ڈرا ڈرا اور سوگوارہے کچھ آگے بڑھا تو ایک خبطی قسم کا بوڑھا ننگی گالیاں دے رہا تھاکبھی کبھی وہ جیوے جیوے کا نعرہ لگاتا پھر گالیاں دینے میں مصروف ہو جاتا درجنوں بچے خبطی کے ارد گرد جمع تھے شاید ان کی دانست میں کوئی تماشاہورہا تھااسی اثناء میں ایک واقف کار لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچتاہوا ایک طرف لے گیا موڑ مڑتے ہی ایک عجوم پر نظر پڑی ان میں بچوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی ان کے ارد گرد جمع لوگ کچھ کھا رہے تھے ہم بھی آہستہ آہستہ ان کے پاس پہنچ گئے معلوم ہوایہاں حلوہ بانٹا جارہا ہے سوچا شاید کوئی نذر نیاز ہے یا پھر ختم شریف اسی دوران سپید دودھ سے بالوں والا ایک بابا ( جس کی صورت فرشتے جیسی تھی) آکر ہمارے قریب آکھڑا ہواوہ بلند آواز میں چیخ چیخ کر کہنے لگاشرم کرو! حیا کرو! موت پر اتنا جشن ۔۔۔
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا
وہاں مجھے علم ہوا کہ آج صبح معزول وزیرِ اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی اسی وجہ سے میرے گھر کی فضا میں یاسیت رچی ہوئی تھی شہر کے بیشتر لوگ سوگوار تھے اور یہاں کچھ لوگ ان کی موت پر حلوے بانٹ رہے تھے۔۔ایک مقبول ترین قومی رہنما کی اس انداز میں موت ۔۔ایک سانحہ سے کم نہیں
پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑی طلسماتی شخصیت ذوالفقارعلی بھٹو بلاشبہ حضرت قائدِ اعظم ؒ کے بعد سب سے بڑے لیڈر بن کر ابھرے۔’’ آیا اور چھا گیا ‘‘کا مقولہ صحیح معنوں پرذوالفقارعلی بھٹوپر صادق آتاہے ان کی آمدسے قبل سیاست جاگیرداروں،حکومتی منظورِ نظر لوگوں ۔۔اور۔۔وڈیروں کے گھرکی لونڈی سمجھی جاتی تھی وہ قومی امور کے فیصلے اپنے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے اور کسی کو دم مارنے کی بھی تاب نہ تھی ذوالفقارعلی بھٹونے سیاست کو عوامی رنگ دیا انہوں نے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر ہوٹلوں،تھروں،ٹی سٹالوں اور باربروں کے حمام میں لا پھینکااور پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین سیاستدان بن گئے انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑڈالے ۔۔بڑے بڑے بھاری بھر کم سیاستدانوں کے مقابلے پرPPP کے امیدوار ایسے تھے جن کو محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا بلکہ لوگ انہیں مذاق کرتے تھے نتیجہ آیا تو بڑے بڑے برج الٹ گئے یوں سمجھئے سیاسی انقلاب آگیا ذوالفقار علی بھٹو کی طلسماتیشخصیت کی بدولت پیپلزپارٹی کے غیر معروف امیدواروں نے مخالفین کی ضمانتیں ضبط کروادیں 1977ء کے الیکشن میں امیدواروں کی شخصیت، سیاسی جدوجہد، خاندانی پس منظر سب مائنس ہوگئے بھٹوکا نام جس نام کے ساتھ نتھی ہوگیا معتبرہوگیاوہ دنیا کے پہلے سول چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بھی رہے۔صدرِ پاکستان بھی اور وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائزرہے ان کے دورحکومت میں طاقتور وزیرِ اعظم کاتصور ابھرا جس وقت ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت ملی قوم سقوطِ ڈھاکہ کے باعث شکست خوردہ تھی۔زخم ہرے تھے دور دور تک ان کے پایہ کا کوئی لیڈر نہ تھااس صورتِ حال نے انہیں ایک مطع العنان حکمران بنا دیا پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے لئے اختلاف رائے بھی جرم بن گیا خود پیپلزپارٹی کے لوگ کہنے لگے بھٹوکی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے۔شاید اسی لئے متعدد قریبی ساتھی معراج محمد خان، جے اے رحیم، مختارراناوغیرہ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ان خوبیوں یا خامیوں کے باوجود ان کے پاکستان پر بہت سے احسانات ہیں 1977ء کا متفقہ آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ہی کارنامہ ہے،اسلامی سربراہی کانفرنس،پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز،اسلامک بلاک کی تشکیل،تیل کو ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے کی سوچ،قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا اور ایک لاکھ پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی۔ان کی بہترین کاوشیں قراردی جا سکتی ہیں۔ یہ بات اکثرسننے میں آ تی رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی قسمت کا فیصلہ اسی روز ہوگیا تھا جس روزپاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیادرکھی گئی تھی بھٹو نے کہا تھاہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹمی پروگرام ہر قیمت پر جاری رہے گا اسلامی بلاک کے ایک محرک شاہ فیصل کو ایک سازش کے تحت بھتیجے کے ہاتھوں شہید کروادیا گیادوسرے محرک کو منظر سے ہٹانے کیلئے پھانسی دیدی گئی پیپلزپارٹی کے رہنماایک عرصہ سے یہ بھی کہہ رہے ہیں بھٹوکی پھانسی عدالتی قتل ہے بہرحال اس بات میں سچائی ہے یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج سے40سال قبل اس لیڈر کوموت دیدی گئی۔جو غریبوں کی بات کرتا تھا۔ جس نے پاکستان کی سیاست اور سیاست کاانداز بدل کر رکھ دیا۔جس تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا خواب دیکھا۔جو دل سے چاہتا تھا اسلامک بلاک کی کرنسی ،دفاع اور تجارت مشترکہ ہو۔ لوگ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ بھٹو اتنا بڑا لیڈر تھا کہ اس کی شخصیت کے پاکستانی سیاست پر اب تلک اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔اس کی حمایت اور مخالفت میں اب بھی ووٹ ملتے ہیں حضرت قائدِ اعظم ؒ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کانام آج بھی معتبرہے وہ اب اس دنیا میں نہیں لیکن وہ لاکھوں،کروڑوں لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں غالب خیال ہے کہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹونے پاکستان،جمہوریت اور سیاست کیلئے اپنی جان قربان کردی لیکن اصولوں پر سمجھوتہ کرنا گوارا نہ کیا۔یہ بھی کہا جاتاہے وہ پاکستان کے ایک متنازع کردار تھے۔ان پر پاکستان توڑنے کاالزام بھی لگایا جاتاہے ۔یہ بھی کہا جا سکتاہے ذوالفقار علی بھٹوکا کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر صنعتیں قومی تحویل میں لیناملکی معیشت،تجارت اورکاروبار کو بے انتہا نقصان کا موجب بنا اس کے بعدکاروباری لوگوں نے کسی حکومت پراعتبارکرنا گناہ سمجھ لیاان ساری باتوں سے صرفِ نظرپیپلزپارٹی کے بانی اپنے مخصوص نظریات،غریبوں سے محبت اور اپنی طلسماتی شخصیت کے باعث ہمیشہ زندہ رہیں گے۔جنرل ضیاء الحق سمیت ان کے کٹر مخالفین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ لاکھ کوششوں کے باوجود پیپلزپارٹی ختم کیا جا سکا نہ بھٹو لوگوں کے دلوں سے کھرچے جا سکے بھٹو کے متعلق کچھ بھی منفی یا پلس کہہ لیجئے لیکن ان کے بدترین مخالف بھی ان پر کرپشن کاایک بھی الزام لگانے کی جسارت نہیں کرسکتے آج اکثرو بیشتر سیاستدانوں کی حالت کرپشن کے باعث ایسے ہوچکی ہے جس کے متعلق بے خوف و خطر ان پر کالا منہ، نیلے پیرکی کہاوت صادق آتی ہے اس لئے کہا جاسکتاہے بھٹو ایک سچے اور کھرے سیاستدان تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے( آمین) اس حوالہ سے جب بھی4اپریل آتاہے لگتاہے سپید دودھ سے بالوں والا اور فرشتے کی سی صورت والا ایک بابا میرے کان میں سرگوشی کرتاہے
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا
اور میں تائیدمیں سر ہلاکر رہ جاتاہوں کہ واقعی زندگی کی سب سے بڑی سچائی موت ہے او ربھٹو اپنی تربت سے فکری اندز میں آج بھی اپنی برسی کے موقعہ پر دنیا کے طول و عرض سے آئے لوگوں سے مخاطب تو ہوتے ہوں گے
کون کہتاہے، موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں