81

کرپشن کے خلاف عالمی دن اور ہم۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ کہاجاسکتاہے کہ دورحاضرمیں روئے زمین پروجودرکھتے بعض ممالک اور انسانی معاشروں کے اندر کرپشن قدرے کم ہوتی ہوگی تاہم کوئی معاشرہ کرپشن سے مکمل پاک ہوگا اس کا احاطہ نہیں کیاجاسکتا ۔زندگی کے کسی بھی شعبے میں مختلف اندازسے کرپشن کی جاتی ہے سواس تناظرمیں کرپشن کی مخصوص تعریف کرناتو مشکل ہے البتہ بدعنوانی کے زیراثررہنے والے معاشروں کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توشائد یہ کہناغلط نہ ہوکہ کرپشن وہ وباء ہے جو جس معاشرہ میں سرائیت کرتی ہے اس کی جڑوں کوکاٹتی اور وہاں کے ریاستی وجود کوکوکھلاکردیتی ہے ۔ کرپشن بلاشبہ ایسے معروضی حالات کے جنم کاسبب بنتی ہے جس میں شہریوں کی اجتماعی سوچ قومی مفادکی بجائے انفرای مفادکی جانب مڑجاتی ہے اس سے معاشرتی زندگی بری طرح متاثرہوجاتی ہے کیونکہ کرپشن کے باعث وسائل کی منصفانہ اور برابری کی بنیادپرتقسیم اور ترسیل نہیں ہوتی اوراحساس محرومی پر مبنی معاشرہ پروان چڑھتاہے۔ ترقیافتہ ممالک کے ماحول ،وہاں کے شہریوں کے طرزعمل ، ان کے حب الوطنی کے جذبے اور فرائض کی آدائیگی کے اندازسے واقف لوگ بخوبی جانتے ہوں گے کہ وہاں ذاتی اور انفرادی فائدے سے زیادہ قومی اور اجتماعی مفادکی سوچ رکھی جاتی ہے جس میں کرپشن کاتصوربہت کم ہوتاہے اور شائد یہی ان کی کامیابی اور ترقی کاراز ہے ۔9 دسمبردنیا بھرمیں کرپشن کے خلاف عالمی دن کے طورپر منایاجاتاہے۔دیگرممالک کی طرح وطن عزیز میں بھی اس دن کی مناسبت سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں اورسیمینارزمنعقد کئے جاتے ہیں۔اس دفعہ بدعنوانی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت ممنون حسین نے کہاہے کہ کرپشن میں تیزرفتاری سے ناانصافی اور محرومی میں اضافہ ہورہاہے۔کرپشن معاشرے میں انتہاپسندی اوردہشت گردی کاسبب بن رہی ہے۔صدرمملکت کے مطابق حکومت کاکرپشن کے خلاف پختہ عزم باعث مسرت ہے۔ قومی احتساب بیوروکی کاکردگی اچھی ہے لیکن اسے مزید متحرک اور مؤثرہوناچاہئے کیونکہ اس سے قبل کہ کرپشن ہمارے وجود کوختم کردے اس کاخاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بدعنوان عناصرکوووٹ کے ذریعے مسترد کرکے اچھی حکمرانی کوفروغ دیاجائے۔صدرمملکت کی لب کشائی بجامگرووٹ کے ذریعے بدعنوان عناصر کومستردکرنے اور اچھی حکمرانی کوفروغ دینے کی بات ہوتویہاں دودھ کادھلاتوکوئی بھی نہیں نہ ہی بدعنوان ہے کہ نہیںیہ کسی کے ماتھے پر لکھاہوتاہے ۔قومی دھارے کی ایسی کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں جس کی قیادت سمیت منتخب ممبران اسمبلی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات نہ لگے ہوں فرق ہوتاہے توبدعنوانی کی نوعیت اور کمی بیشی کا۔یہاں توغضب کرپشن کی کہانی ہی عجب ہے۔سیاسی قیادت ہویاسابق وزرائے اعظم سب کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں۔ خیبر پختونخوامیں پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی سابق مخلوط حکومت کاخاتمہ ہواتواحتساب بیورو نے کرپشن کے الزام میں سابق وزیراعلیٰ کے بھائی،ایک سابق صوبائی مشیراور اس وقت کے انسپکٹرجنرل پولیس کوگرفتارکرلیا۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اہم اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی کے دووزراء پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کئے تھے اور ان کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے مذکورہ وزراء سے وزارتوں کے قلمدان واپس لئے تھے مگرسیاسی کھیل کاتماشہ بھی نرالہ ہے کہ آج وہی جماعت ایک بارپھراسی مخلوط صوبائی حکومت کاحصہ بنی ہے۔خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے دوسابق صوبائی وزراء جبکہ کراچی میں پیپلزپارٹی کے دور کا مشیرپٹرلیم سمیت کئی بیوروکریٹس اور سرکاری اہلکار کرپشن کے الزام میں نیب ،رینجرز،ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ہاتھوں گرفتارہیں۔سندھ میں پیپلزپارٹی کاایک سابق صوبائی وزیرجوبظاہرعلاج معالجے کی غرض سے ان دنوں بیرون ملک مقیم ہے تاہم معاملہ کچھ اور بھی احوال بتارہاہے۔1997ء جب مسلم لیگ نون اقتدار میں آئی تھی اور میاں نوازشریف وزیراعظم بنے تھے توسینیٹرسیف الرحمان کواحتساب بیوروکاچیئرمین بنایاگیاتھا۔اگرچہ انہوں نے آصف علی زرداری سمیت کئی دیگر سیاسی مخالف افراد کامحاسبہ کرنے میں تو پھرتی دکھائی تھی مگرکرپشن سے اپنا دامن بچانے سے قاصررہے تھے۔ بہرحال اگر ہم نے کرپشن کے ناسور کاخاتمہ کرناہے تویہ محض ایک دن کے منانے ،ریلیاں نکالنے،نعرے لگانے اور لگوانے ،وعدے اوردعوے کرنے اور تقاریب منعقد کرنے سے نہیں ہوگابلکہ اس کے لئے بے رحم احتساب کے عمل کویقینی بناناہوگا۔ احتساب کرنے والے اداروں کومکمل بااختیار غیرجانبداراور سیاسی وحکومتی اثرورسوخ سے آزادکرناہوگا۔چورچورہوتاہے چاہے چھوٹے لیول کاہویابڑے لیول کاسب کے ساتھ یکساں سلوک ہوناچاہئے نہ کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق کسی کوپکڑاتوکسی چھوٹ دے دی۔صدر مملکت قومی احتساب بیوروکی تعریف کرتے ہوئے اس کاکردار مزید متحرک اور مؤثربنانے پر زوردے رہے ہیں ۔صدرمملکت کی اس بات اور تجویزکوصدارتی فرمان کے طورپرلینے کی ضرورت ہے اور اگرذکرہوقومی احتساب بیوروکی کارکردگی کاتوعوامی حلقوں کی جانب سے اٹھتایہ سوال جواب طلب ہے کہ قومی خزانے کوبے رحمی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کے ساتھ رعایت کیوں کی جاتی ہے۔ اگرکوئی پچاس کروڑکی کرپشن میں ملوث ہے تو رضا کارانہ آدائیگی کے نام پر آدھی رقم وصول کرکے اسے چھوڑاکیوں جاتاہے ۔ہوناتویہ چاہئے کہ کرپشن کرنے والے لٹیروں سے جیل اور جرمانہ سمیت لوٹی ہوئی متعین رقم وصول کی جائے۔حکومتی دعوے اپنی جگہ مگرجب تک پسندوناپسندکی پالیسی کی بجائے غیرجانبداربے رحم احتساب نہیں ہوگاکرپشن کاخاتمہ ممکن نہیں۔یہ خیال کرناکہ محض عالمی دن کی مناسبت سے تقاریب منعقد کرانے اور ریلیاں نکالنے سے کرپشن پر قابوپالی جائے گی ایساہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں