114

حکومت چترال کے لوگوں کی بے عزتی پر اُتر آئی ہے ۔ حد نظر تک گاڑیاں کھڑی ہیں ۔ اور دن دو بجے سے انتظار میں ہیں،مولاناجمشیداحمد

چترال ( محکم الدین ایونی) جمعہ کے روز لواری ٹنل کے شیڈول کے باوجود سینکڑوں مسافروں کو ٹنل پر دانستہ طور پر روک کر انسانیت کی تذلیل کی گئی ۔ شدید سردی اور بغیر کسی خوراک کے پشاور سے آنے والے مسافرجو دو بجے ٹنل پر پہنچ چکے تھے ۔ اُن کو رات گیارہ بجے تک ٹنل میں سے چترال جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے خواتین بچے ، بیمار مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار تھے ۔ ایک مسافر حضرت کریم نے ہمارے نمائندہ سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ تقریبا دو سو سے زیادہ گاڑیاں لواری ٹنل پر اس انتظار میں ہیں ۔ کہ کب اُن کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ گاڑیوں میں محبوس مسافر ٹھہٹھرتی سردی میں باہر نکلنے سے بھی قاصر ہیں ۔ خصوصا خواتین انتہائی پریشانی میں ہیں ۔ کیونکہ اس ایریے میں انسانی ضروریات کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ حضرت کریم نے کہا ۔ کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ہفتے میں دو دن لواری ٹنل کھلنے کے شیڈول مقرر ہونے کے باوجود مسافروں کو تنگ کیا جا رہا ہے ۔ اور اُن کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس سے قبل صبح دس بجے سے رات گئے تک گاڑیوں کو گذرنے کی اجازت دی جاتی تھی ۔ جس پر مسافروں کو کافی سہولت حاصل ہو گئی تھی ۔ لیکن اب گاڑیوں کے قافلے کی نصف ٹنل میں سے گزرنے سے پہلے ہی کام کا بہانہ بنا کر مسافروں کیلئے راستہ بند کیا جاتا ہے ۔ اور جمعہ کے روز بھی اسی طرح کیا گیا ۔ کچھ گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی ۔ اُس کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا ۔ امیر جماعت اسلامی چترال مولانا جمشید احمد جو اس موقع پر ٹنل پر موجود تھے ۔ ہمارے نمائندے سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ حکومت چترال کے لوگوں کی بے عزتی پر اُتر آئی ہے ۔ حد نظر تک گاڑیاں کھڑی ہیں ۔ اور دن دو بجے سے انتظار میں ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں حکومت اپنے رعایا کی اس طرح تذلیل نہیں کرتا ۔ جس طرح چترال کے سادہ لوح اور مجبور لوگوں کا کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ این ایچ اے فوری طور پر چترال کے لوگوں کی آمدورفت کیلئے مناسب اقدامات کرے ۔ اور مسافروں کو شیڈول کے دن بلا روک ٹوک ٹنل میں سے گذرنے کی اجازت دی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں