پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور یونیورسٹی، جامعہ پشاور کے فیسوں میں حالیہ بے تحاشا اضافے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور یونیورسٹی کے صدر سید ضیاء الدین نے اخباری بیان جاری کرتے ہوے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فیسوں میں اضافے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے لیں۔
اس وباء کے افراتفری کے عالم میں جامعہ کا یہ فیصلہ سرسر ظلم اور جبر پر مبنی ہے۔
کرونا کے وباء کی وجہ سے غریب طلباء کے والدین کے معاشی حالات خراب ہو چکے ہیں کہ وہ صرف اپنی روزمرہ کے ضروریات پورا کرنے میں معاشی جدو جہد کر رہے ہیں اور ایسے وقت میں جب طلباء آنلائن کلاسز لے رہے ہیں بجائے فیسوں میں کمی کردیں اس کے برعکس فیسوں میں بے تحاشا اضافہ انتہائی افسوس ناک اور تعلیم دشمن اقدام ہے۔ غریب طلبہ پر کبھی سیمسٹر کے فیس کبھی ہاسٹل کے فیس بڑھا بڑھا کر ان کیلیے تعلیمی دروازے بند کروائے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیز کو کارخانہ بنایا جا رہا ہے۔
جامعہ پشاور کو حکومت کی طرف سے حال ہی میں بیل آؤٹ پیکج مل چکے ہیں اور اس کے باوجود اگر مالی حالات پر قابو نہیں پایا جارہا تو جامعہ کے انتظامی امور کے ڈھانچے میں خرابی ہے جس کا ملبہ غریب طلباء پر نہ ڈالا جائے۔
جامعہ پشاور کے مالی بحران کی وجہ مالی بے ضابطگی، بدعنوانی اور غلط پالیسیز کا نتیجہ ہے۔پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پشاور کے مالی بے ضابطگیوں ، بد عنوانیوں اور تمام پالیسیز کا فرانسک آڈٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔
پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور یونیورسٹی سے فیسوں میں اضافے کا نوٹس واپس لے لینے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ ایچ ای سی سے ہمارا مطالبہ ہے کے جامعہ پشاور کیلیے نئے اسکالرشپ کا اجراء کرے اور حکومت جامعہ پشاور کے طلبہ کیلیے کورونا ریلیف پیکیج کا اعلان کرے۔



