114

سوست بارڈر کو ڈیڑھ سال بعد یکطرفہ تجارت کیلئے کھول دیا گیا، سرحد کھولنے سے قبل کسٹمز، ایف آئی اے اور محکمہ انسداد منشیات کے تمام اہلکاروں کی ویکسی نیشن مکمل کی گئی

سوست بارڈر کو ڈیڑھ سال بعد یکطرفہ تجارت کیلئے کھول دیا گیا، سرحد کھولنے سے قبل کسٹمز، ایف آئی اے اور محکمہ انسداد منشیات کے تمام اہلکاروں کی ویکسی نیشن مکمل کی گئی، چینی حکام کی رضا مندی کے بعد دفتر خارجہ نے سرحد کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، سخت ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے صرف چینی سامان درآمد کیا جاسکے گا جبکہ پاکستان کو برآمدات کی اجازت نہیں ہوگی، ڈپٹی کمشنر ہنزہ فیاض احمد نے کے پی این کو بتایا کہ بارڈر کھولنے کیلئے وزارت خارجہ نے مراسلہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف چینی سامان کی درآمد کی جائے گی جبکہ پاکستان کی جانب سے برآمدات کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرونا کی صورتحال سرحد کے دونوں جانب جب معمول پر آئے گی تو دوطرفہ تجارت کی اجازت ہوگی۔ ڈی سی نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے سخت ایس اوپیز کے تحت ہی بارڈر کھولنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سامان سے لدے کنٹینرز خنجراب ٹاپ پر پاکستانی حدود میں ان لوڈ ہوگا۔جہاں سے خصوصی مشینری کے ذریعے سوست ڈرائی پورٹ تک سامان پہنچایا جائے گا۔ اس دوران کسی تاجر یا شخص کو آپس میں ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاک چین سرحد بند ہونے سے 2 ہزار سے زائد تاجر اور سیکڑوں مزدور سخت مالی پریشانیوں سے دوچار ہوگئے تھے۔ اس ضمن میں ایک تاجر نے بتایا کہ چین سے سامان ڈرائی پورٹ کے بجائے بارڈر میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تجارت اور سفر معطل ہونے کے بعد دونوں ممالک میں سرحدی تجارت سے وابستہ سیکڑوں افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے قبل تجارتی اداروں نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ آئندہ سیزن سے تجارتی سرگرمیوں کے ہموار تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے اپنے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں سرحد بند ہونے کے بعد سے پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک سے متعلق شپمنٹس روکنے کے باعث خزانے کو 8 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔ بعدازاں ایک تاجر نے بتایا تھا کہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد بشمول تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور ہوٹل مالکان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کے تقریبا 30 فیصد افراد سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔ اور اگر بات کی جائے چین میں کورونا وائرس کی صورتحال پر تو چین نے کورونا وائرس کی وبا پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ چین میں 31 مئی کو مزید 27 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ کوئی اموات ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اب تک چین 62 کروڑ سے زائد لوگوں کو ویکسین دے چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email