89

انتخابات کے دوران گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی صوبے سمیت اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے خواب دکھائے گئے مگر عملدرآمد کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں سعدیہ دانش

پیپلز پارٹی کی رکن گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سیکرٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ ہر معاملے میں یوٹرن لینے والی تبدیلی سرکار کا کوئی اعتبار نہیں۔ لگتا ہے تحریک انصاف عبوری صوبے کے وعدے سے مکر رہی ہے۔ کونسل الیکشن کے امکانات سے لگ رہا ہے کہ عبوری آئینی صوبے کا وعدہ الف لیلیٰ کی داستان تھا۔  گلگت بلتستان اسمبلی سے متفقہ قرارداد پاس ہونے کے باوجود دھوکہ دہی کی گئی تو پھر صوبائی حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ انتخابات کے دوران گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی صوبے سمیت اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے خواب دکھائے گئے مگر عملدرآمد کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان صوبائی حکومت کو وقت دے رہی ہے کہ وہ انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کرے تاکہ ان کے پاس یہ جواز نہ رہے کہ اپوزیشن ہمیں الجھا کر کام نہیں کرنے دے رہی اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر بھرپور اپوزیشن کی جائے گی۔ گلگت بلتستان میں سیاحت، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کو فروغ دے کر نہ صرف بیروزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی معیشت اور ترقی سیاحت سے وابستہ ہے۔ گلگت بلتستان قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے اس مقصد کے لئے تمام سیاحتی مقامات تک بہترین سڑکیں تعمیر کرنی ہونگی اور جدید سہولیات فراہم کرنی ہونگی نیز نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں تاکہ وہ سیاحتی سرگرمیوں سے روزگار حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کے بڑے منصوبے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بجلی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email