74

کالاش ویلی بریر کے جنگل پشپوگول اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے ۔ اور آگ کے شعلوں میں کمی آگئی

چترال ( محکم الدین ) کالاش ویلی بریر کے جنگل پشپوگول اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے ۔ اور آگ کے شعلوں میں کمی آگئی ہے ۔ تاہم متاثرہ مقام پر آگ کے انگارے بدستور موجود ہیں ۔ اور کم مقدار میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ 34 ہیکٹر پر پھیلی اس آگ سے دیودار کے سینکڑوں دیو قامت درخت اور پودے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں ۔ اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ اس آگ کو بجھانے کیلئے کم پیمانے پر کوشش تین چار دنوں سے ہوتی رہی ۔ لیکن جب آگ نے ایک وسیع ایریے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اور یہ قابو سے باہر ہو گیا ۔ تو بریر و ایون و ملحقہ علاقوں تقریبا تین سو افراد، ریسکیو 1122 کی ٹیم ، چترال پولیس ، چترال لویز کے جوانوں اور محکمہ فارسٹ کے اہلکاروں نے ریسکیو میں حصہ لیا ۔ اور آگ کو کنٹرول کرنے کیلئے متاثرہ مقام کے اردگرد خندق کھودی ۔ تاکہ جل کر گرنے والے دیوقامت درختوں کے انگارے دور جانے نہ پائیں ۔ اور دوسرے درختوں کو محفوظ بنایا جاسکے ۔ جو کہ کامیاب رہی ۔ اور آگ پھیلنے سے محفوظ رہا ۔ تاہم مکمل طور پر آگ کو بجھانے کیلئے اب بھی کام اور وقت درکار ہے ۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی ہے ۔ لیکن بیک وقت دو مختلف مقامات پر لگنے والی آگ نے سوالات کو جنم دیا ہے ۔ کہ کیا ممکنہ طور پر تخریب کاری یا غفلت کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اصل حقیقت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو جائے گی ۔ محکمے کے ایک اہلکار نے بتایا ۔ کہ اس حوالے سے ایک غیر معمولی اجلاس دروش میں منعقد ہوئی ۔ جس میں انتظامیہ ، محکمہ فارسٹ کے جملہ آفیسران نے شرکت کی ۔ جس میں جنگل پشپو گول بریر کمپارٹ نمبر 16-15 اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ۔ اور وجوہات کے بارے میں نتیجہ خیز تفتیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ اور آگ کو مکمل طور پر بجھانے تک ریسکیو کاروائیاں جاری رکھنے اور آگ پر نگاہ رکھنے کے فیصلے کئے گئے ۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ۔ کہ شام کے وقت تیز ہوائیں چلنے سے آگ دوبارہ بھی بھڑک سکتی ہے ۔ حکومت نے جنگلات کی بے دریغ اور غیر قانونی کٹائی کو روکنے اور جنگلات کے تحفظ کیلئے کلوژر سسٹم متعارف کیا ہے ۔ اس نظام کے تحت کمیونٹی کے ساتھ مشاورت سے نگہبان مقرر کئے گئے ہیں ۔ جن کو محکمہ فارسٹ کی طرف سے فکسڈ تنخواہ دی جاتی ہے ۔ اس نظام کے تحت جنگلات کی افزائش و فروغ میں بہت مدد ملی ہے ۔ خصوصا نوزائیدہ قدرتی جنگلاتی پودوں کی افزائش حوصلہ افزا ہے ۔ لیکن جنگلات سے استفادہ حاصل کرنے والے افراد جنگل کی اہمیت اور احتیاطی تدابیر سے لاعلم ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایسی غفلت و لاپرواہی کا ارتکاب کرتے ہیں۔کہ اس سے پوری قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ کالاش ویلی بریر پشپو گول کے جنگل میں آگ لگنے سے صدیوں سے کھڑے دیو قامت دیودار کے درخت راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں ۔ اور یہ انسانی غلطی کا ہی نتیجہ ہے . لوئر چترال کے 6796 مربع کلومیٹر رقبے پر صرف دو فیصد قدرتی جنگلات ہیں ۔ اور اپر چترال قدرتی جنگلات سے محروم ہے ۔ لیکن لوئر چترال کی 278434 اور اپر چترال کی 169434آبادی جن کی مجموعی تعداد 447800 بنتی ہے ۔ مکانات و سرکاری تعمیرات پر ان ہی جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے کم رقبے پر پھیلے جنگلات کے تحفظ میں غفلت برتنا سنگین غلطی کے مترادف ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں