مضامین

ایک بیٹااپنے شفیق باپ کی جدائی میں آنسوبہانے کے سوااورکچھ نہیں کرتاہے۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

مجھ کوچھاوں میں رکھااورخودجلتاہے رہادھوپ میں

میں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کے روپ میں

جانے والی ہستی اس جہاں سے چلی جاتی ہے لیکن اپنے پیچھے محبتوں اور اپنائتوں کا وہ بیش  بہاسرمایہ چھوڑ جاتی ہے کہ انہیں اگر فراموش کوئی کرنا بھی چاہے تو فراموش نہیں کر سکتا۔ جانے والا جاتے نہ صرف یہ کہ اپنا جسم اور روح لیکر رخصت ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے ساتھ محبت‘ قربت‘ اپنائیت‘ شفقت اور وابستگی کے سینکڑوں جذبے بھی لے جاتا ہے اسی لئے شاید لوگ روتے ہیں۔ میرے ولدمحترم  پیار اور محبت کاایک آئینہ تھا۔آج سے چندماہ پہلے ہمیں تنہا چھوڑ کر موت کے سنسنان ویرانے میں جا بسے۔ دسمبرکامہینہ تھا۔  جمعرات کا دن تھا اور شب جمعہ کا آغاز ہونے والا تھا۔ پیارے والدہم سے روٹھ کر بہت دور چلے گئے۔ اتنی دورکہ جہاں تک میری آوازاورپکاربھی نہیں پہنچ سکتی۔موسموں کی آندھیاں چلتی ہیں توکئی چراغ گل ہوجاتے ہیں لیکن ان کے گل ہوجانےپربھی ان کی یادوں کے چراغ روشن رہتے ہیں  اوراُن کی سنہری باتیں ہمیشہ یادوں کی شکل میں دل ودماغ میں گھوم پھرتی ہیں۔ جدائی کے زخم بہت گہرے ہوجاتے ہیں ،یادیں تیروں کی طرح ذہن پراثرانداز ہوتی ہیں ۔زمانہ لاکھ چاہیے اُن یادوں اورسوچوں کونہیں چھین سکتاہے بچھڑ جانے والے دل میں ایسازخم چھوڑ کرجاتے ہیں جس کاذکرزبان سے ہوتانہیں ،آنسوبتاتانہیں ،آہ کوئی سنتانہیں ؟؟

باپ کی عظمت کو سلام پیش کرنے کے لیے  بیسویں صدی کے اوائل میں فادرز ڈے (والدکاعالمی دن)منانے کا سلسلہ شروع ہوا  ۔اس کے بعد ہرسال  یہ دن ماہ جون کی تیسری اتوار کو منایا جاتا ہے۔انٹرنٹ سروس سے دورہونے کی وجہ سے اپنے والدمخترم کی جدائی میں لکھی گئی چندالفاظ مقریرہ دن پرقاریں تک پہنچا نہ سکی جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔

ابا،باپ،ابو یہ سب لفظی حروف دراصل ایک ہی ہستی کیلئے استعمال ہوتے ہیں وہ ہستی کہ جو سراپا پیار ہوتی ہے۔ اُن کے  پیار،محبت ، شفقت سے بھراہواہوتاہے ۔ ایک بیٹااپنے شفیق باپ کی جدائی میں  آنسوبہانے کے سوااورکچھ نہیں کرتاہے اُن کی یاد زندگی بھربھول نہیں جاسکتاہے ۔بس یہ دنیاایک عارضی ٹھکانہ لوگ آتے ہیں کچھ دیرکے لئے ٹھہرتے ہیں اورپھراپنی منزل کی طرف جاتے ہیں ۔وہ ایسی منزل ہے  جہاں لوگ جاتے ہیں کبھی لوٹ کرنہیں آتا۔باپ جیسے عظیم ہستی کے جدائی کے بعدانسان کس قدربے بس اورمجبورہوتاہے  مجھے معلوم نہ تھا کہ انسان اپنی آرزوں اوراُمیدوں کوکھوکرجب تنہاہوجاتاہے اوراُن عظیم چہروں کوتلاش کرتے کرتے تھک جاتاہے جوزندگی سے بہت دورجاچکے ہوتے ہیں اُس وقت زندگی کاکتنابڑاالمیہ برداشت کرناپڑتاہے۔ میرے والدوہ عظیم شخصیت تھے جن کا کردار  ،خوش اخلاقی ،مہمان نوازی ،غریبوں کے ساتھ ہمدردی آج کے اس نفسانفسی کے دور اپنی مثال آپ دیتی ہیں۔ جدائی کے کئی مہینے گزرگئے لیکن ان کی یادیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے کام ہمیشہ ان کی یاد کو تازہ کرتے رہیں گے۔دل اُن کی یاد میں بے قرارہو ں گے،آنکھیں اشکبارہوں گی اُن کے سیکھائے ہوئے ہرالفاظ کوانشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ یادرکھیں گے۔

2020 ءمیرے جیسے ہزاروں کے لئے مایوس کن سال تھاجس میں اپنوں کے کئی چراغ گل ہوگئے کوئی کوروناکی وجہ سے اپنوں سے بچھڑاتوکوئی اپنے اندرکے دردسے اس دنیاکوچھوڑ گیا ۔جب ہسپتال کی بیڈ میں میرے پیارے والدمحترم  ہمیں چھوڑ کرمختصرعلالت کے بعداپناابدی سفرکرتے خالق حقیقی سے جاملے مگر ہم خاموش تماشائیوں کی طرح قدرت کاتماشہ دیکھ رہاتھاکہ اس کے سواہمارے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہے ان کے اس طرح بچھڑ جانے سے میرے اُمیدوں کے کئی روشن چراغ آہستہ آہستہ گل ہوگئے جیسے درختوں کے پتے جھڑتے ہیں دل انتہائی رنجیدہ ہے جدائی کاغم ہمیشہ رلادیتاہے ۔

درحقیقت باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لیے اپنی سب کچھ قربان کردیتاہے ۔ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔باپ وہ مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے اور ایک ذمہ دار انسان کی طرح اپنی خون پسینے کی محنت سے گھر چلاتا ہے

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کردی

 

 

Related Articles

Back to top button