111

صوبہ بھر میں 160 نئی ویٹرنری ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں جو موجودہ حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے۔۔محب اللہ خان

پشاور(نامہ نگار)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹاک محب اللہ خان نے کہا ہے کہ حقیقی تبدیلی عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کرنا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت نے اصلاحاتی پروگرام کے تحت ہر شعبہ میں ایسی نمایاں تبدیلی لائی ہے جس کی بدولت عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے شروع ہوئے ہیں ۔ جمعرات کے روزپختونخوا ریڈیو پشاور میں منسٹر آن لائن پروگرام میں ٹیلیفونک سوالوں کے جوابات میں محب اللہ خان نے کہا کہ موجودہ حکومت تبدیلی کے ایجنڈے پر من و عن عمل پیرا ہے اور غریب پسماندہ عوام کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے دورس اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اپنا تعلق بھی پسماندہ پہاڑی علاقے سے ہے جہاں کی زیادہ تر آبادی کی آمدن کا دارومدار لائیوسٹاک سے وابستہ ہے اس لئے وہ مویشی پال لوگوں کے مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان کا احساس بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک کے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جانوروں کے علاج و معالجہ،ان کی دیکھ بال ا ور بہتر مصنوعی نسل کشی کرنے کے سلسلے میں کسانوں کی مدد کریں اور انہیں بہتر تربیت دیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا زرعی صوبہ ہے اور لائیوسٹاک زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بھینسوں ، بکریوں، بھیڑوں،گائے اور بیل وغیرہ کی نایاب نسل کو محفوظ رکھنے کیلئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔جن میں اضاخیلی بھینس، اچئی گائے وغیرہ بھی شامل ہیں اس کے علاوہ بہتریں اقسام کی نئی نسل کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ڈی وی ایم ؂بے روزگار ڈاکٹروں کو قرضے فراہم کر ے گی اور ان کے لئے ہر یونین کونسل میں ایک اسامی پیدا کی جائے گی تاکہ ڈی وی ایم ڈاکٹروں کو روزگار فراہم ہو اور مقامی زمینداروں کو اپنے مویشیوں کے لئے ان کی دہلیز پر علاج معالجہ میسر ہو۔ اسی طرح صوبہ بھر میں 160 نئی ویٹرنری ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں جو موجودہ حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں پانی کی تین اقسام کے اندر مختلف قسم کی مچھلیوں کی پیداوار کے لئے مختلف اضلاع میں سرکاری اور نجی شعبوں میں نصف کی شراکت داری کے تحت ابھی تک 56 ہچریاں بنائی گئی ہیں جن کی بدولت غذائی ضرورت کا فی حد تک پوری ہوگی ۔اس موقع پر ڈی جی لائیوسٹاک توسیع ڈاکٹر شیر محمد ، ڈی جی ریسرچ ڈاکٹر احمد نوید اور کوآپریٹو رجسٹرار فدا حسین بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں