154

پیپلزپارٹی گلگت بلتستان سے راجگی نظام کو ختم کرکے عام عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ اور عوام کو جینے کا حق دیا/سعدیہ دانش

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کا بدترین دشمن بھی گلگت بلتستان کے عوام کیلیے پیپلزپارٹی کی خدمات کا اور اصلاحات کا اعتراف کرتا ہے۔ یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جس نے گلگت بلتستان سے راجگی نظام کو ختم کرکے عام عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ اور عوام کو جینے کا حق دیا مگر حکمران جماعت واپس اس آمرانہ نظام کو گلگت بلتستان کے عوام پر مسلط کرنے کیلیے سرگرداں ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ این سی پی اور دھاندلی زدہ وزیراطلاعات صوبائی حکومت کی نو ماہ کی بدترین کارکردگی اور غیر سنجیدہ حکمرانی پر پردہ ڈالنے کیلیے اپوزیشن لیڈر پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ اور یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بیانات سے ثابت ہو رہا ہے کہ انہیں ابھی تک اس بات کا یقین ہی نہیں کی یہ سیلیکٹڈ کا ٹولہ حکومت کا حصہ ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں گلگت بلتستان کو نلتر اور سدپارہ جیسے بجلی کے عظیم منصوبے دئیے انتظامی یونٹس بنائیاور بے روزگار جوانوں کیلئے ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا کئے۔ 1970 سے لے کر 2009 تک شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر  آصف زرداری تک پیپلزپارٹی نے ہر دور اور ہر قائد کے زیرسایہ گلگت بلتستان کی آئینی، انتظامی، عدالتی، معاشی، تعلیمی اور تعمیر و ترقی کیلیے جو کام کیا اس کے متعلق حکمران موسمی جماعت سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیونکہ بڑے بڑے فیصلے کرنے کے لیئے عوام کا اعتماد اور سیاسی شعور اور عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو الیکٹیڈ نمائندوں کے پاس ہوتا ہے جو خود سیلیکٹ ہوے ہیں انہیں عوام سے کیا غرض ہوگی۔ پیپلزپارٹی الیکشن میں اپنے منشور اور  ان خدمات کو ہی لیکر عوام کے سامنے جاتی ہے جبکہ ہمارے مدمقابل ہر جماعت نے ہر دور میں سیاسی لوٹوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں کو استعمال کرکے اقتدار حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں محض پیپلز پارٹی نہیں بلکہ زندگی کے تمام  شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ہوں یا میڈیا کے یا عام عوام سب کی موجودہ صوبائی حکومت کے حوالے سے ایک ہی رائے ہے کہ حکمران نااہل ، غیر سنجیدہ اور سیاسی یتیم ہیں اور پیپلز پارٹی کے علاوہ وفاق میں آنے والی ہر جماعت ان سیاسی یتیموں کی وارث ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج گلگت بلتستان میں جس شعبے کی طرف اشارہ کیا جائے وہاں مسائل اور بدانتظامی نظر آرہی ہے۔ داریل سے لے کر گانچھے تک صحت کی سہولیات کا فقدان ہے لوگ حکومت کی بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اور وزرائ  میڈیا میں تشہیر کے لیے صرف بیانات تو داغتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد صفر ہوتا ہے  جس کی وجہ سے عوام آیے روز  احتجاج پر مجبور ہورہے۔ مضر صحت گندم اشیائ  خورد و نوش فروخت ہورہے ہیں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے غریب تو دور کی بات سفید پوش طبقے کی روز مرہ زندگی مشکل ہو گئی ہے  اور پینے کا پانی پاکستان کی سطح پر آلودہ ترین اور ٹائیفائیڈ زدہ ہے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اور وزرائ  کونسل انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف گروہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ اور اگر ان کی نااہلی اور ان کے غیر سنجیدہ طرز حکومت پر بات کریں اس کی نشاندہی کریں تو جواب میں اپنی گورننس بہتر بنانے کی بجاے گالم گلوج بریگیڈ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنا شروع کر دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں