170

چترال کی وادی شغور کے تھانے کی پہلی خاتون ایس ایچ او دلشاد پری کی گفتگو جو ڈیپارٹمینٹل امتحان میں ملاکنڈ ڈویژن میں اول آئی: "عورتوں کو ہر شعبہ میں کام کرنے کے لئے انتھک محنت اور حوصلہ سے کام لینا ہے”

۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر
پولیس ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مرد کام کرتے ہیں۔ تاہم بڑے شہروں میں ویمن پولیس سٹیشنز قائم کئےگئے ہیں تاکہ ملزم عورتیں ، ویمن پولیس کی نگرانی میں ہوں اور اس کے ساتھ عورتیں جو شکایت کنندہ ہوں وہ اعتماد کے ساتھ ویمن پولیس سے رابطہ کر سکیں۔
اسی طرح کے اقدامات نے خواتین کو ترغیب دی اور انہوں نے مردانہ بالا دستی کے شعبوں میں کام کرنا شروع کیا۔ انہی جرات مند خواتین میں سےچترال سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون (اسٹیشن ہاوس آفیسر)ایس ایچ او بننے والی دلشاددپری کا ہے۔ انہوں نے ڈیلی چترال سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی برادری میں خواتین کاپولیس میں بھرتی ہونا معیوب سمجھا جاتاتھامگران کےخاندان نے انکو ہمیشہ سپورٹ کیا۔”میرے خاندان پر بہت تنقید ہوئی جب میں پولیس فورس میں بھرتی ہوئی کیونکہ میرا تعلق ایک روایتی سوچ رکھنے والی برادری سے ہے۔ ان حالات میں میرے گھروالے میر ی مدد کرتے رہے جو ابھی تک میرا حو صلہ بندھاتی ہے اور یہی مدد میری امید بھی ہے ،” دلشاد پری نے مضبوط لہجے میں اپنے عزم کا اظہار کیا۔
دلشادپری نے بتایاکہ پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد تربیت نے مجھ میں نہ صرف ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کیابلکہ اس تربیت نے خود اعتمادی کو بھی بڑھایا ہے۔چترال پولیس میں سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہونے کے بعدہرقسم کے حالات اورمشکلات سے نمنٹے کے لئے تیارہوں۔اپنی محنت اورلگن سے پولیس ٹریننگ اسکول اور کالج ہنگو میں تین بار پہلی پوزیشن حاصل کرچکی ہوں۔


دلشاد پری نے بتایاکہ ضلع لوئرچترال کے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سونیا شمروزخان نے چترال میں خواتین پر تشدد ، جنسی زیادتی ، خواتین کی جبری شادی ، خواتین کو ہراساں کرنے ، اور غیرت کے نام پر خواتین کے قتل سمیت عورتوں کو اپنے حقوق کے ٓاواز اٹھانے کے لئے ایک بہتریں پلیٹ فارم مہیاکیاہے ۔جس میں خواتین کے مسائل خواتین ہی سنیں گی۔عورتیں بلا خوف اپنے گھریلو مسائل سے لیکر وارثت اور بنیادی حقوق میں کسی بھی قسم کے جبر کے خلاف باقاعدہ پولیس میں رپورٹ درج کروا سکیں گیں۔ جس کی تفتیش بھی خواتین پولیس اہلکاروں کے حوالے کی جائے گی۔
دلشاد پری نے بتایاکہ چترال کا شمار پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہاں پر خواتین میں خودکشیوں کا رجحان بہت زیادہ رہا ہے۔ جب سے خاتون ڈسٹرکٹ پولیس افسر سونیا شمروز خان آئی ہیں تو انہوں نے خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے حقوق کی تحفظ پر توجہ دی ہے۔ خواتین میں خود اعتمادی اور شعور کے نتیجے میں ماضی کے نسبت گزشتہ ایک سال کے دوران چترال میں خواتین کی خودکشیوں کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
دلشادپری نے بتایاکہ چترال کے بیشترعلاقوں میں خواتین کے گھرسے نکل کرنوکری کرنے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرے میں خواتین کے مقام کی اہمیت کوکھلے دل اورکھلے ذہن سے تسلیم کرناہوگا۔”اس سوچ کو بدلنا ہوگا جس کی وجہ سے خواتین پر تشدد ہوتا ہے اس کے ساتھ قانون کی مدد سے ان ہاتھوں کوروکناہوگا،جوخواتین پرتشددکرتے ہیں،” دلشاد پری نے کہا ۔
بتیس سالہ دلشاد پری اپنے والد سے بہت لگاؤ رکھتی تھی جن کا استقلال کی بدولت ان کے تمام بچے مختلف شعبوں سے منسلک ہوکر باعزت کی زندگی گزاررہے ہیں۔دلشاد پری اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں ۔


دلشادپری اپنی بنیادی تعلیم کاآغازآغاخان سکول بونی سے کیا۔پرائمری کے بعدسکنڈری تعلیم بونی کے ا یک غیرسرکاری سکول اینڈکالج سے حاصل کی جہاں 2007کوایف ایس سی اچھے نمبروں سے پاس کرنے کےبعدجہانزیب کالج سوات میں 2009کوبی ایس سی مکمل کرلی دوران پڑھائی خیبرپختونخوا پولیس میں ایک لیڈی کنسٹبل کی حیثیت سے اپنی ملازمت شروع کی اور2012ء کوایم ایس سی بھی جہانزیب کالج سوات سے مکمل کرلی۔ملازمت کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مسلم لاءکالج سوات سے وکالت کے ساتھ ساتھ بی ایڈکی ڈگری حاصل کی ۔اس طرح وہ اصول صحافت اورفزیکل ایجوکیشن میں بھی ڈپلومہ حاصل کرچکی ہیں۔2017کودلشادپری محکمہ پولیس میں کمیشن کاامتحان پاس کرکے اسسٹنٹ سب انسپکٹربھرتی ہوئی ۔ دوہ پولیس کے ڈیپارٹمنٹل امتحان میں پورے ملاکنڈ میں اول پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ چترال میں ویمن ڈیسک کی انچارج کے طورپرخدمات سرانجام دے چکی ہیں اور20 ستمبر 2021 ء کوتھانہ شغورمیں تعینانی کے بعدبطور ایس ایچ او چارج سنبھال لیا۔
دلشادپری کاکہناہے کہ و ہ ایس ایچ اوتھانہ شغورچارج سنبھالنے کے بعدوادی شغورمیں خواتین کے بنیادی مسائل، گھریلو جھگڑوں اور جعلی شادیوں سمیت خودکشی کے واقعات میں کمی کے لئے کمیونٹی لیول پرآگاہی دینے کی ہرممکن کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب خواتین کو پولیس اسٹیشن میں اپنا مسئلہ بیان کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اب خواتین کھل کر ہمیں اپنے مسائل بیان کرینگی اوروہ ان کے مسائل کوحل کرنے کی بھرپور کوشش کرینگے۔ دلشاپری نے یوسی شغورکےخواتین کو پیغام میں کہا خواتین اعتماد کے ساتھ پولیس اسٹیشن آئیں وہ ان کی ہر وقت مدد کے لئے تیار ہیں۔ تھانے میں آنے والی خواتین ہر ممکن دادرسی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں