64

ایون کے عوامی حلقوں نے دریائے چترال کے ایریے میں بجری نکالنے پر دفعہ 144 کے نفاذ کو مسترد کردیا

چترال ( بشیر حسین آزاد)ایون کے عوامی حلقوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چترال کی طرف سے دریائے چترال کے ائریے میں بجری نکالنے اور اُس کی ٹرانسپورٹیشن پر دو مہینے کیلئے دفعہ 144کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایون اور ملحقہ دیہات کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے مترادف قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ چترال گذشتہ سیلاب اور زلزلے سے بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔ سردیوں میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے لوگ اپنے متاثرہ مکانات کی تعمیر ومرمت نہیں کر سکے ہیں، اب جب کہ چترال میں تعمیراتی کام کا موسم شروع ہو چکا ہے ۔ تو انتظامیہ کی طرف سے متاثرین کو اپنے مکانات کی تعمیر کیلئے بجری لانے سے روکنا سراسر زیادتی ہے ۔ کیونکہ چترال میں مہینے بعد دریا میں طغیانی آنے پر بجری پانی میں ڈوب جائے گی ۔اور لوگوں کیلئے بجری کا حصول ممکن نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا ، کہ لوگ پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ اُن کو مزید مصائب سے دوچار کرنا کسی بھی طور درست نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مصیبت زدہ لوگوں کو مجبور کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج نکلیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں