101

تین روزہ فری اسٹا ئل پولو فیسٹول اتوار کے روز اپنی تمام رنگینوں کے ساتھ اختتام پذیر

شندور( محکم الدین ) کرہ ارض کے بلند ترین پولو گراونڈ اور سیاحتی مقام شندور میں منعقدہ تین روزہ فری اسٹا ئل پولو فیسٹول اتوار کے روز اپنی تمام رنگینوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ ہزاروں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے شندور کے سبزہ زار وں پہاڑوں اور منفر د فری سٹائل پولو کے مقابلوں کا لطف اٹھایا۔ شندور پولو میلےکا اختتامی میچ چترال اے ٹیم اور گلگت اے ٹیم کے مابین کھیلا گیا ۔ جس کے مہمان خصوصی آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل عادل یامین تھے ۔ انہوں نے گیند پھینک کر فائنل میچ کا افتتاح کیا ۔ شندور پولو فیسٹول کا یہ فائنل میچ انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ رہا ۔ پہلے ہاف میں گلگت کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے چترال کے 4 گولوں کے مقابلے 7 گولوں کی برتری حاصل کر لی ۔ لیکن دوسرے ہاف میں وہ اپنا یہ معیار برقرار نہیں رکھ سکے اور ان کے گھوڑے بہت زیادہ تھک گئے ۔جس پر چترال ٹیم نے موقع سے فائدہ اٹھا یا ۔ اور کھیل ختم ہونے تک 6 مزید گول کرکے سکور 10 تک پہنچا دیا ۔ جب گلگت کی ٹیم دوسرے ہاف صرف 2 گول ہی کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ یوں چترال نے ہارا ہوا میچ جیت کر تماشائیوں کو حیران کر دیا ۔ اور چترال اے ٹیم نے یہ میچ 9 کے مقابلے میں 10 گولوں سے جیت کر اپنا سابقہ دس سالہ ٹائٹل برقرار رکھا ۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے سپورٹرز نے سیٹیان بجاتے اور کھلاڑیوں کو داد دیتے آسمان سر پر اٹھا ئے رکھے ۔ جس کی گونج شندور کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی تھی۔
تین روزہ شندور پولو فیسٹول میں کل سات میچز کھیلے گئے ۔ جن میں سے پانچ میچوں میں چترال کی ٹیموں نے کامیابی حاصل کی ۔ جبکہ گلگت کے حصے میں صرف دو ٹرافیاں آئیں ۔ سات میچوں میں چترال کی ٹیمو ں نے پینتالیس گول کئے۔ جبکہ گلگت کی ٹیمیں صرف بتتیس گول کرنے میں کامیاب ہو سکے ۔ چترال کی ٹیموں کا پلہ تمام میچوں میں بھاری رہا ۔ اور چترال کے تمام کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ۔ اس لئے ٹیم سلیکشن کمیٹی کو بہت داد دی جارہی ہے ۔
شندور پولو فائنل میچ کے موقع پر پیرا گلائڈنگ کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ۔ جس میں پاک آرمی اور دیگر پیراگلائڈرز نے حصہ لیا ۔ اسی طر ح بینڈ باجے و کلاش خواتین نے بھی کلچرل شو کا شاندار مظاہرہ کیا ۔ جس سے تماشائی بہت محظوظ ہوئے ۔ تاہم سکیورٹی کے فوج ظفر موج کی وجہ سے شندور پر تفریحی مقام کا نہیں بلکہ جنگی محاذ کا گمان ہوتا رہا ۔ درین اثنا چترال کے عوامی حلقوں نے کہا ہے ۔ کہ ایک طرف حکومت ملکی خراب معاشی حالات کا رونا رو رہا ہے ۔ اور دوسری طرف غریب عوام کی ہڈیوں سے نچوڑی گئی ٹیکس کی رقم کو مفت کا مال سمجھ کر عیاشیوں پر لٹایا جارہا ہے ۔ جوکہ نہ صرف قابل مذمت ہے۔ بلکہ قابل مواخذہ بھی ہے ۔ انہوں نےکہا ۔ کہ اس قسم کے فیسٹولز سے سرکاری آفیسران کی عیاشیوں کے سوا غریب عوام کواب تک کچھ حاصل نہیں ہوا ہے ۔ اگر فیسٹول منانا ہے ۔ تو اسے پرا ئیوٹائز کیا جائے ۔ تاکہ عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی سے عیاشی کرنے کے راستے مسدود ہو سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں