85

میرے تحفے، میری مرضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسر رفعت مظہر

ایک دفعہ میاں نوازشریف نے کہا تھا ”سارے رَل کے سانوں پے گئے نیں“۔ آجکل کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے واسطہ ہمارے خان کو ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے ”گھڑی چور، گھڑی چور“ جیسے نعرے لگانے لگتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے خان نے کہا کہ اُن کے دامن پہ کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ ہمیں تو یقین کہ خان جھوٹ نہیں بولتا اِس لیے اُس کا فرمایا ہوا مستند لیکن یہ لیگئیے اور جیالے ”لیراں کھانی وَچھی“ کی طرح جان چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ یہ ایسے ”لہسوڑے“ ہیں جو جہاں جم گئے۔ بَس جم گئے۔ اُدھر کے پی کے میں ایک مولانا بیٹھے ہیں جو آجکل ”چَسکے“ لے لے کر خان کی وارداتیں بیان کرتے ہیں۔ ہم اور تو کچھ کہہ نہیں سکتے بس اتنا ہی کہیں گے ”کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے“۔ ایک 70 سالہ بوڑھا شخص جس کی ٹانگ پر 4,4 گولیاں لگی ہوں، جو بنی گالہ میں اپنا محل چھوڑ کر پنجاب حکومت کے ہاں پناہ گزین ہو اور جو چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو، کیا اُس کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا درست ہے؟۔ مانا کہ اُس نے شہزادہ محمد بِن سلیمان کی دی ہوئی گھڑی بیچ ڈالی۔ یہ بھی تسلیم کہ قانون کی رو سے کسی دوسرے ملک سے ملے ہوئے تحائف ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں جنہیں ایک مخصوص رقم ادا کرکے اپنے پاس رکھا جا سکتا ہے، بیچا نہیں جا سکتا لیکن آئین اور قانون کو یہاں مانتا کون ہے۔ ہمارا آئین وقانون تو زورآور کے گھر کی باندی، دَر کی لونڈی ہے۔ اگر آئین کی عمل داری ہوتی تو پاکستان میں لگ بھگ 37 سال مارشل لاؤں کے گھور اندھیرے نہ ہوتے۔ کیا آرٹیکل 2-44 کے مطابق افواجِ پاکستان کا آئین میں درج یہ حلف نہیں ”میں حلف اُٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی ووفادار رہوں گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی حمایت کروں گا، جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے اور یہ کہ میں اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں مشغول نہیں کروں گا“۔ آرٹیکل 6 کے مطابق جو اہلکار آئین کی مخالفت یا آئین سے بغاوت کرے گا یا اِس جرم میں کسی کی مدد کرے گا یا کسی کو اِس جرم پر اُکسائے گا، اِن سب کو آئین کا آرٹیکل 6 سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتا ہے۔ جس کی سزا موت ہے اور اِس کو پاکستان کی کوئی عدالت کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی نہیں رکھتی۔ اگر پاکستان میں سب کچھ آئین کے مطابق چل رہا ہوتا تو کیا مارشل لاء لگتے؟۔ کیا عدلہ کا نظریہئ ضرورت سامنے آتا؟۔ مانا کہ آج فوج نے ”نیوٹرل“ ہونے کا اعلان کر دیا ہے لیکن سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ تو بار بار اپنی اِس غلطی کا اعتراف کر چکے ہیں کہ عمران خاں کو اقتدار میں لانا اُن کی غلطی تھی۔ یہ جنرل باجوہ صاحب کا اپنے حلف سے روگردانی کا واضح اظہار ہے۔تو کیا اِس کی کوئی سزا نہیں؟۔ دوسری طرف عمران خاں بار بار دہرا رہے ہیں کہ وہ بے بَس وزیرِاعظم تھے۔ اُنہوں نے کہا ”جنرل باجوہ فیصلہ کرتے تھے کہ نیب نے کس کو چھوڑنا، کس کو اندر کرنا اور کسے کتنا دبانا ہے۔ جنرل باجوہ نے میرے ساتھ ہی نہیں، ملک کے ساتھ بھی سنگین مذاق کیا“۔ ہم کپتان کو کہے دیتے ہیں کہ صرف آئین سے بغاوت کرنے والا ہی مجرم نہیں ہوتا بلکہ مدد کرنے اور جرم پر اُکسانے والا بھی برابر کا مجرم ہوتا ہے۔ جب فوج نے نیوٹرل ہونے کا اعلان کیا تو عمران خاں نے بار بار کہا ”نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، انسان نیوٹرل نہیں ہوسکتا اُسے یا تو نیکی کا ساتھ دینا ہوگا یا پھر برائی کا“۔ عمران خاں جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ تک بار بار فوج کو سیاست میں حصّہ لینے اور اُن کا ساتھ دینے کے لیے اُکساتے رہے جبکہ یہ آئین سے صریحاََ بغاوت ہے۔ تو کیا عمران خاں شریکِ جرم نہیں اور کیا اِس کی کوئی سزا نہیں؟۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ 2018ء میں پاکستان میں پہلی بار عورت مارچ میں ”میرا جسم، میری مرضی“ جیسا نعرہ بلند ہوا۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اِس نعرے کی بہت دھوم مچی۔ کچھ لوگ اِس نعرے کے حق میں تھے اور کچھ مخالف۔ ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر اور حقوقِ نسواں کی علمبردار ماروی سرمد کے مابین تو ایک ٹی وی پروگرام میں باقاعدہ تُوتکار بھی ہوئی۔ اِس موضوع پر کالم نگاروں نے بھی ہاتھ صاف کیے۔ عمران خاں کو شاید وہ نعرہ یاد تھااِس لیے جب تحفے بیچنے کا شور اُٹھا تو اُنہوں نے بھی کہہ دیا ”میرے تحفے، میری مرضی“۔ ہم خان کے اِس نعرے کو ”میرا جسم میری مرضی نمبر 2“ کہہ سکتے ہیں کیونکہ جتنا شور اُس نعرے پر مچا تھا، اُس سے کہیں زیادہ شور خان کے اِس نعرے پر مچ رہا ہے۔ ایک طرف لیگئیے اور جیالے تلواریں سونت کے باہر نکلے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف تحریکیے اور بھوکوں مرتی قوم ہونقوں کی طرح ایک ایک کا مُنہ تَک رہی ہے۔ایک طرف تحفوں کی فروخت کا شور تو دوسری طرف تحریکِ انصاف کے دعوے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے کو ہے جبکہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا یہ دعویٰ کہ ڈیفالٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب ”کیدی مَنیے تے کیدی نہ مَنیے“۔
ایسے میں خان صاحب کا پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کرنااور قومی اسمبلی میں اجتماعی طور پر سپیکر کے سامنے ستعفوں کا اعلان کرنا لرزہ بَراندام کر دیتا ہے۔ وجہ کہ خزانہ خالی ہے اور صرف الیکشن کمیشن کو الیکشن کروانے کے لیے لگ بھگ 30 ارب روپے درکار ہیں جن کے انتظام کی موجودہ حالات میں کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اِس کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عبوری حکومتیں قائم ہوں گی جن پر اقتدار واختلاف کے قائدین کا متفق ہونا ناممکن ہے۔ بالآخر معاملہ الیکشن کمیشن میں پہنچے گا جو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب کرے گا۔ کیا خان صاحب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے منتخب کردہ عبوری وزرائے اعلیٰ کو تسلیم کر لیں گے؟۔ یہ تو ایک عامی بھی جانتا ہے کہ خان صاحب ہمہ وقت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف زہر اُگلتے رہتے ہیں۔ اِن حالات میں ہمارا خیال یہی ہے کہ سبھی ”اُسی تنخواہ پہ کام کریں گے یعنی ”مُڑ کھُڑ کے کھوتی بوہڑ تھلے“۔ ویسے بھی چودھری پرویز الٰہی کے ہاتھ بڑی مشکل سے وزارتِ اعلیٰ لگی ہے اور اُنہیں بخوبی علم کہ ایسا سنہری موقع پھر کبھی ہاتھ نہیں آنے والا اِس لیے وہ آسانی سے پنجاب کی حکومت ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ اِس سلسلے میں مونس الٰہی کی عمران خاں کو قائل کرنے کے لیے اُن کے ساتھ کم از کم چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ مونس الٰہی نے بار بار خاں صاحب کو یہی سمجھانے کی کہ اگر پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں توڑ دی گئیں تو خاں صاحب کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی اور وہ حکیم ثناء اللہ فیصل آبادی کے قبضہئ قدرت میں ہوں گے۔ جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہوں گے اُس سے پہلے خاں صاحب کا فیصلہ سامنے آچکا ہوگا۔ بات میرے تحفے، میری مرضی سے شروع ہوئی لیکن قلم کی روانی بار بار کھینچ کر کسی اور طرف لے جاتی ہے۔ عرض ہے کہ ہمارے خان صاحب پر پہلے تو صرف کروڑوں روپے کے تحفے بیچنے کا الزام تھا مگر اب بات اربوں تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا نیوز کے اینکر کامران شاہد نے اپنے ٹاک شو میں بتایا ہے کہ خاں صاحب کو گلف کے ایک ملک سے 6 ارب مالیت کے تحائف ملے جن کی توشہ خانہ میں 3 کروڑ روپے قیمت لگائی گئی اور ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرکے وہ تحفے ہضم کر لیے گئے۔ شاید یہ وہی تحائف ہیں جن کی بنی گالہ کے نگران انعام خاں نے تصویریں کھنچوائیں۔ 16 دسمبر کو عمران خاں کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک آڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ انعام خاں کو ڈانٹ رہی ہیں کہ باہر سے گھر آنے والے تحائف کی تصاویر کیوں کھینچی گئیں؟۔ انعام خاں کو اِسی جرم کی پاداش میں نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ شاید بشریٰ بی بی کو یہ خوف دامن گیر ہو گا کہ وہ تصاویر کبھی بھی اور کہیں بھی بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔ توشہ خانہ کیس کا سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں فوجداری مقدمہ بھی درج ہے جس پر 3 سال قید بامشقت تک کی سزا ہو سکتی ہے۔عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف توشہ خانہ کا کیس ہی نہیں ممنوعہ فنڈنگ اور توہینِ الیکشن کمیشن کا کیس بھی ابھی باقی ہے۔سب سے بڑھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ”ٹیرین وائٹ“ کا کیس ہے۔ آئین کی رو سے کسی بھی انتخابی اُمیدوار کو اپنے اثاثے ڈِیکلئر کرنے کے علاوہ اپنے اہلِ خانہ کے بارے میں بھی بتانا پڑتا ہے جبکہ خان صاحب نے اپنے کسی بھی انتخابی گوشوارے میں ٹیرین وائٹ کا نام بطور بیٹی ظاہر نہیں کیا۔ اِس بنیاد پر وہ صادق وامین نہیں ٹھہرتے جس کی سزا تاحیات نااہلی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ممنوعہ فنڈنگ کیس ثابت ہوجائے تو خان صاحب کے علاوہ تحریکِ انصاف پر بھی پابندی لگ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں