70

پاکستان کا مفاد پر ستانہ طرز حکومت.…تحریر:تقدیرہ خان

یہ سوال بلا شبہ بلین ڈالر کا ہے کہ آخر کا ر پاکستان میں جاری نظام حکومت کیا ہے؟ جب سے یہ کائنات بنی ہے اور اس کے ایک حصے یعنی زمین پر معاشرتی قدرتی نظام قائم ہوا ہے تب ہی سے حکومت اور حکمرانی کے علاوہ قوانین کا نفاذ بھی عمل میں آگیا۔ اسی ابتدائی معاشرے سے قبیلے بنے اور ضروریات، خواہشات اور مفادات کے پیش نظر پیشے اختیار کیے گئے۔ انسانی زندگی میں ارتقائی عمل جاری رہا اور مختلف تاریخی اور تہذیبی ادوار میں حکومت، حکمرانی اور قوانین کی جہتیں بدلتی رہیں۔ قبائلی نظام حکومت میں سرداری نظام وضع ہوا تو قبائل نے اپنے عقیدے، رسم ورواج، روایات اور علاقائی تحفظ و آذادی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قوانین بنائے۔قوانین بنانے والے افراد کو مجلس، پنچائیت یا جرگے کا نام دیاگیا جو اس بات کویقینی بناتا تھا کہ قبیلے کے ہر فرد کی عزت، جان و مال کی حفاظت کو اولیت دی جائے۔ حقوق و فرائض کے علاوہ عدل و آزادی اور زندگی کی دیگر ضروریات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
ابتدائی قبائلی نظام کی بنیاد پر ریاست کا وجود قائم ہوا تو ریاستی اُمور چلانے والی حکومت نے عوام کے تحفظ، آزادی، خوشحالی اور دیگر ضروری امور کے پیش نظر عدل و اعتدال اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے قوانین وضع کیے۔ عوامی خواہشات اور ضروریات کے علاوہ شخصی واجتماعی آزادی کیلئے بنائے گئے قوانین کو تحریری شکل دی جسے آئین کا نام دیا گیا۔تاریخ کی غلط تشریح کرنیو الوں نے مدنی معاشرے اور ریاست کی جو تشریح کی ہے وہ نہ صرف غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ کسی بھی لحاظ اپنے مقاصدپور ے نہیں کرتی۔قبیلے، معاشرے او رریاست کا وجود وہیں قائم ہوتا ہے جہاں انسان بستے ہوں اور وہ کسی بھی لحاظ سے وحشی، اُجڈ،خونخواراورحیوانوں جیسی زندگی کے عادی نہ ہوں۔قرآنی تاریخ کے مطابق ابتدائی انسانی معاشرے کا قیا م پیدائش آدم ؑو حوا ؓ سے ہوا اور پھر اُن ہی کی اولاد نے قبائلی اور ریاستی نظام قائم کیا۔تحریر آئین اور ابتدائی معائدہ عمرانی کا آغاز خالق اور مخلوق کے درمیان ہوا جب اللہ نے آدم ؑ اور اولاد آدمؑ کی رہنمائی کیلئے گیارہ صدیوں پر محیط عرصہ میں چھ صحیفے نازل کئیے۔
قرآنی بیان کے مطابق ابتدائی انسانی معاشرہ مکہ کی سرزمین پر قائم ہوا اور دنیا کی پہلی آئینی اور پالیمانی ریاست بھی مکہ میں ہی قائم ہوئی۔طوفان نوح ؑ کے بعد ایک نیا معاشرہ اور ریاست وجود میں آئی مگر یونانی، ایرنی، ہندی، چینی، مصری اور رومن تہذیبوں سے ہزاروں سال پہلے ریاست مکہ کا وجود قائم ہو چکا تھا۔
تاریخی اور تہذیبی ادوار سے لے کر دور حاظر کے اوصاف حکمرانی کا جائزہ لیا جائے تو سرداری نظام کے بعد بادشاہی نظام قائم ہوا جو آج تک جاری ہے۔اس کے علاوہ جمہوری اور پالیمانی دور کا آغاز ہوا جس کی بنیاد افکار و نظریات کے اصولوں پر رکھی گئی۔وہ سیاسی نظریات جن میں ظلم و جبر اور معاشرتی و معاشی استحصال کے علاوہ پالیمانی جبر تھابتدریج اصلاح کی طرف مائل ہوئے۔ اگرچہ ارسطو، میکاولی، کوتیلیہ چانکیا اور کارل مارکس کے خیالات اور نظریات کی جھلک جدید جمہوری اصولوں اور نظریات میں بھی دکھلائی دیتی ہے مگر معائدہ عمرانی کی بنیاد عدل و اعتدال پر ہی تصور ہوتی ہے۔ نظام حکومت جو بھی ہو ریاست کا وجود عدل ااعتدال کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔اس کی بڑی وجہ معائدہ عمرانی میں وضح کردہ اصولوں سے انحراف اور اخلاقی اقتدار اور اچھی روایات کا خاتمہ ہے۔اگر چہ جدید ترقی یافتہ معاشروں اور ریاستوں میں شخصی آذادی کی آڑ میں بے راہ روی اور جنس پرستی کا رجحان بڑھ رہا ہے مگر ان معاشروں میں عدل و اعتدال کے اصولوں پرکوئی سودے بازی نہیں ہوسکتی۔ بر طانیہ میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے اور ہر شخص کو اپنے حقوق و فرائض سے مکمل آگاہی ہے۔عدل و مساوات اور معاشرتی اعتدال حکومت کا اوّلین فرض ہے اور کوئی بھی حکومت یا حکمران اس سے انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ امریکہ، روس، چین اور دیگر ممالک جن میں سعودی عرب اور عرب ریاستیں شامل ہیں صدارتی اور بادشاہی نظام حکومت کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود اور قانون کی حکمران سے انحراف کا کوئی تصور نہیں۔بھارت مکمل چانکیائی ریاست ہونے کے باوجود ہندو دھرم پر گامزن ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی اور اقلیتوں پر وحشیانہ ظلم و جبر کے باوجود بھارت ہندووں کی جنت ہے۔
ایرانی اسلامی انقلاب کے خلاف ساری دنیا متحد اور یکجا ہونے کے باوجود اس کا خاتمہ کر نے میں ناکام ہے۔ ہوسکتاہے کہ ایرانی قیادت اسلام کے اصولوں کے مطابق اصلاحات کی برکت سے عالمی قوتوں کے مخالفانہ رویے کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے۔1747سے لے کر تاحال افغانستان عالمی طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ باوجود اس کے کوئی بھی سیاسی نظریہ اور نظام افغانوں کی روایات کا خاتمہ نہیں کر سکا۔آج افغانستان سفارتی لحاظ سے تنہا ہونے کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔غربت، تنگ دستی، لا قانونیت،عدم تحفظ اور عدم استحکام کی جو فضاء پاکستان میں قائم ہے وہ افغانستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں۔معاشرتی ابتری،معا شی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام اور آئین کی پامالی کی بنیادی وجہ مافیائی طرز حکمرانی، خاندانی مفاداتی، استحصالی اور جبری جمہوری نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات کا فقدان ہے۔ آئین میں لکھے کسی بھی اصول، قانون اور ضابطے پر عمل نہیں ہوتا بلکہ مفاداتی اصولوں کے پیش نظر آئین کی تشریح کی جاتی ہے۔اس تشریح کے نتیجے میں جو قوانین لا گو کئے جاتے ہیں اُن سے وہی لوگ مستفیض ہوتے ہیں جو آئین شکنی کے ماہر ہیں۔ ارشد شریف کے قتل اور سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملے کی FIRدرج نہ ہونا،حکومتی اتحادی جماعتوں کے مقدمات کا خاتمہ، کرپشن کو قانونی تحفظ فرہم کرنا اور اعظم سواتی کے خلاف ملک بھر میں مقدمات سے لے کر وزیر اعظم آذاد کشمیر کی کمرشل پراپرٹی سیل کرنے جیسے اقدامات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔میاں نواز شریف کا جیل سے عدالتی حکم پر بیرون ملک علاج کے بہانے فرارعالمی عدالتی تاریخ کی واحد مثال ہے۔ بیان کر دہ حقائق اور تاریخی و تمدنی واقعات سے کوئی بھی سیاسی دانشور انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان میں جاری حکومتی نظام کو اسلامی، جمہوری، آئینی، اخلاقی اور عدل و اعتدال پرمبنی کوئی نظام قرار دے سکتاہے۔ میرا تاریخ، سیاسیات، اخلاقیات اور عقائد و نظریات کے مبلغین، محقیقین اور ماہرین سے سوال ہے کہ آخر ہم کس نظام کے تحت زندہ ہیں اور کب تک زندہ رہیں گے۔کیا اس نظام حکمرانی کا کوئی نام بھی ہے یا پھر ہم ایک بے نام نظام حکمرانی کی نحوست کا شکا ر ہوکر صفح ہستی سے ہی مٹ جانے والے ہیں۔ کیا ہمارا شمار ان اقوام میں ہونے والا ہے جو اپنے اعمال کے نتیجے میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ آخر کوئی ہے جو اس کا جواب دے سکے؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں