0

اے کے ار ایس پی کے خواتین کی فلاح بہبود اور ترقی کے پراجیکٹ بیسٹ فار ویر کے تحت اپر چترال بونی میں شراکتداروں کی کنونشن۔

مؤرخہ 22 مارچ بروزِ بدھ خواتین کے فلاح بہبود ،ترقی اور شراکت داری کے عمل کو جامع ترتیب دینے، تجربات کی روشنی میں منصوبہ بندی کرنے کے سلسلے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام(AKRSP) کے زیر انتظام کینیڈا کی تعاون سے پراجیکٹ بیسٹ فار ویر کے پروگرام کے تسلسل کو فروع دینے کے عرض اپر چترال بونی میں ایک کنونش کا انعقاد کیا گیا۔کنونشن میں اپر چترال کے دہی خواتین تنظیمات کے نمائیندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اپر چترال بونی کے قرب و جوار کے دہی تنظیمات کے علاوه لاسپور، چوئینج ،تریچ زوندرانگرام، تورکھو اور لون سے بھی خواتین تنظیمات کے نمائندوں نے خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ان کے علاوه اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال شاہ عدنان،ٹی ایم اے مستوج مصباح الدین،پرنسپل ووکشنل ٹیکنکل کالج بونی طیبہ رضا لیکچرر زوالوجی گوارنمنٹ گرلز ڈگری کالج بونی رومانہ عندلیب ،سوشل ویلفر آفیسر ضیا اللہ، پاپولیشن ویلفر ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ،اغا خان ایجوکیشن سروس/ سوشل ویلفر کی طرف سے مسلیمہ فرمان ،شندور ویمن فوروم کےسی ای او نورشیبہ،سابق اور موجودہ خواتین کونسلرز، پیشہ تجارت سے منسلک خواتین اور کالج کے طالبات بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔تلاوت کلام پاک سے کنونشن کا آغاز ہوا۔نظامت کے فرائض شگفتہ کنول نےادا کی۔ سول سوسائٹی منیجر اے کے ار ایس پی شائستہ جبین نے ابتدائی کلمات میں پروگرام کے اعراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے کے ار ایس پی خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے،تجارت کے شعبے میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے اور رہنمائی کے ساتھ پیش امدہ جیلینجیز سے مقابلہ کرنے کے لیے ماحول کو سازگار بنانے پرکام کررہی ہے۔ علاقے میں اس کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے کئی خواتین تنظیمات کے ساتھ تعاون کرکے تجربات کی روشنی میں اس طرح کے پروگرامات منعقد کیے جارہے ہیں تاکہ ان تجربات کی روشنی میں مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کو مزید موثر بنایا جاسکے ۔سول سوسائٹی منیجر شائستہ جبین کا مزیدکہنا تھاکہ اس عمل کو مزید فعال بنانے کے لیے چیمبر اف کامرس انڈسٹری سےرابطےکی تجویز پر بھی کام ہورہی ہے۔تاکہ خواتین کو معاشی طور پر مستحکم اور خود مختار ہونے کا مزید بہتر مواقع فراہم ہوسکے ۔
اس کے بعد پینل ڈسکشن کا مرحلہ شروع ہوا پینل ڈسکشن میں پرنسپل گوارنمنٹ ووکشنل ٹیکنکل کالج طیبہ رضا،لیکچرر زوالوجی گوارنمنٹ گرلز ڈگری کالج بونی رومانہ عندلیب ،اغا خان ایجوکیشن سروس اور سوشل ویلفر کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلیمہ فرمان، پاپولیشن ویلفر کا نمائندہ ، سوشل ورکر ،تجارتی پیشہ سے وابستہ خواتین۔،فاضیلہ بی بی اورسابق کونسلر حصول بیگم،سابق کونسلر سفینہ،شندور ویمن فوروم کے چیف ایکزیکٹیو نورشیبہ،سوشل ویلفر آفیسر ضیا اللہ جبکہ لطیفہ شاہ سول سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئےحصہ لیکر خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے اپنے اپنےاداروں کے کردار اور ائیندہ کے لیے جامع تجاویز پیش کی ۔ خواتین شراکاء کی اکثریت نے اس بات کی مخالفت کی کہ چترال کی سوسائٹی میں عورت کو مرد کے برابر حثیت نہیں دی جاتی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مخصوص ذہن کا مسلہ ہوسکتا ہے اکثریت کا نہیں۔چترال میں خواتین کو وہ عزت اور حقوق ملتے ہیں جو دوسرے سوسائٹی میں تصور بھی نہیں کیے جا سکتے ۔ہم اپنی روایات ،تہذیب اور تمدن کا پاسداری کرتے ہوئے ہر وہ کردار ادا کر سکتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔اس میں ہماری راہ میں کوئی روکاوٹ نہیں۔ البتہ ایسی مطالبہ ہم بھی نہیں کرتے ہیں جو دین ،علاقے کی اعلی تہذیبی اقدار اور تمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ہو۔کنونشن کے شراکاء سے اسسٹنٹ کمشنر اپر شاہ عدنان اور ٹی ایم اے مصباح الدین نے خطاب کرتے ہوئے اسطرح کےمثبت پروگرامات کے تسلسل سے انعقاد پر اے کے ار ایس پی کو خراج تحسین پیش کی اور خواتین کے مسائل پر خصوصی توجہ دیکر اسانیاں پیدا کرنےکے بارے تعاون کا یقین دلائیے۔اغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے منیجر سول سوسائٹی عطا الله زرین نے تمام معزز مہمانوں اور شراکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تجربات اور تجاویز سے استفادہ حاصل کرکے ان کی روشنی میں ادارۂ کومستقبل کے لیے جامع منصوبہ بندی مرتب کرنے میں اسانیاں پیدا ہوئی ۔ہمیں خوشی ہے کہ ادارے کے کاوش مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہورہےہیں۔ اور اپر چترال کے خواتین ادارے کے عیں منشاء کے مطابق ادارۂ کی تعاون سے مستفید ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں