175

ملک بھر بالخصوص دنیا کی بہترین تعلیمی جامعات کی رینکنگ میں شمار ہونے کیلئے صوبہ کی پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کو تدریسی و تحقیقی شعبہ میں انتہائی محنت کی ضرورت ہےگورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ ملک بھر بالخصوص دنیا کی بہترین تعلیمی جامعات کی رینکنگ میں شمار ہونے کیلئے صوبہ کی پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کو تدریسی و تحقیقی شعبہ میں انتہائی محنت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں سے ایسے نظام تعلیم کی امید ہے کہ جس سے فارغ التحصیل ہونیوالے طلبہ ملازمتوں کے پیچھے سرگرداں ہونے کے بجائے معاشرے کے دیگر افراد کیلئے ملازمتوں و روزگار کا وسیلہ بنیں، روایتی طریقہ تعلیم کو ترک کرکے تعلیمی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے ڈھالنا ہو گا.ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ لوئر چترال کے دوران 1 ارب 70کروڑ روپے کی لاگت سے یونیورسٹی آف چترال مین کیمپس کی تعمیر کی گراؤنڈ بریکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں سابق نگران صوبائی وزیر فضل الٰہی، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد،وائس چانسلر یونیورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ، چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیدار، فیکلٹی اراکین سمیت طلباء وطالبات کی بڑی تعداد تھی،یونیورسٹی آف چترال پہنچنے پر گورنر و دیگر مہمانوں کا وائس چانسلر، فیکلٹی اراکین و عوام علاقہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر کے منصوبہ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مزکورہ یونیورسٹی اہلیان چترال کیلئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے، یونیورسٹی کے اپنے کیمپس کی تعمیر کیلئے گورنر حاجی غلام علی کی زاتی دلچسپی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون پر انتہائی شکر گزار ہیں،انہوں نے گورنر کو یونیورسٹی کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا اور یونیورسٹی کے قیام سے سات سالہ کے ادارہ جاتی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنر حاجی غلام علی نے کہا کہ پسماندہ ضلع چترال کے عوام کو تعلیم و صحت سمیت تمام بنیادی سہولیات میسر ہونی چاہئیں، بلاشبہ یونیورسٹی آف چترال اس علاقہ کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی اور چترال یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین و طلبہ کو چترال میں چھپے قیمتی خزانوں کو اپنے علم و تحقیق سے دنیا بھر میں متعارف کرانا ہو گا، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی مستقبل کی ضروریات کے مطابق شاندار و تاریخی طرز تعمیر یقینی بنائے جائے اور اس ضمن میں یونیورسٹی کو مزید ایک ارب روپے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے جس کیلئے انہوں نےچئیرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو یونیورسٹی کے تعمیراتی ڈھانچہ کی مکمل تکمیل کیلئے منظور شدہ فنڈز میں سے مزید ایک ارب روپے فراہم کرنے کا بھی کہا۔ انہوں نے کہاکہ ان یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے ہی ہمارے کل کے حکمران،محافظ اور معمار ہیں اور اگر ان کی تعلیم کی بنیاد ریسرچ پر ہو اور ان کی تربیت درست پیمانے پر کی جائے توہمارا مستقبل تابناک ہے،ا نہوں نے کہاکہ ہماری تعلیمی نظام میں معاشرتی روایات، اقدار اور اخلاقیات کو بھی مرکزی مقام حاصل ہونا چاہئے ورنہ شائستگی اور عزت واحترام سے عاری معاشرہ تشکیل پائے گااور آج بدقسمتی سے معاشرہ میں عدم برداشت کا عنصر کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے جس کیلئے یونیورسٹیوں کو نوجوان طبقہ کی زہن سازی و تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صوبہ کی پبلک سیکٹرز یونیورسٹیاں سخت محنت کرتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر جامعات سے تعلیمی مقابلے میں آگے بڑھ جائیں گی جس کیلئے ہر لحاظ سے انہیں کوسش کرنا ہو گی۔
اس سے قبل ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور اسکلز اورئنٹڈ ایجوکیشن پر زور دیا تاکہ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف چترال میں وسط ایشیائی ریاستوں کے طالب علموں کے لئے سیٹ مختص کرنے اور وظائف مقرر کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پہلی دفعہ چترال آئے ہیں اور اس علاقے کی خوبصورتی اور یہاں کے عوام کی مہمان نوای و محبت سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں، انہوں نے گورنر کیجانب سے یونیورسٹی آف چترال کے مین کیمپس کی تعمیر کیلئے مزید درکار ایک ارب روپے کے فنڈ کیلئے اپنا مکمل تعاون و مدد کی یقین دہانی کرائی،
علاوہ ازیں گورنر کے لیے چترال کے علاقہ جغور داوشیش میمن ہاؤس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں جن میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، اے این پی، جماعت اسلامی و دیگر شامل ہیں نے استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جہاں گورنر کو چترال کے روایتی چغے اور پکول پہنائے گئے۔ تقریب میں چترال سے والہانہ محبت اور گزشتہ کئی سالوں سے چترال کی بزنس کمیونٹی و عوام سمیت دیگر شعبوں کے لیے گورنر حاجی غلام علی کی خدمات پر انہیں ” سن آف چترال” کا خطاب بھی دیا گیا۔ گورنر نے تقریب میں موجود چترال کی بزنس کمیونٹی ، سیاسی رہنماوں، کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں، نوجوانوں اور شرکاء کو یقین دلایا کے ان کے مسائل کے حل کے لیے وہ ہمیشہ کی طرح عملی جدوجہد اور نتائج پر مبنی تعاون جاری رکھیں گے


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں