67

اقتدار کی جنگ اور غریب پاکستانی۔۔۔۔تحریر: رانااعجازحسین چوہان

قومی الیکشن کے اعلان کے بعد حصول اقتدار کی جنگ، سیاسی جوڑ توڑ، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزامات، اور ملکی اداروں کے درمیان تناؤ کی صورتحال نے معاشرے کا سکون تباہ و برباد کر کے رکھ دیاہے۔ چپقلش کی اس صورتحال میں ملکی ترقی شدید مثاتر ہورہی ہے، غربت و مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کم ہونے کے بعد پھر بڑھ رہی ہے، اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان غریب پاکستانی کا ہوا ہے جوکہ بھرپور محنت و مشقت کے باوجود خوشحالی کی بجائے مہنگائی کا شکار ہورہا ہے۔ مہنگائی و بے روزگاری کے مارے عوام پاکستان کو سمجھ نہیں آرہا کہ آخر انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں موجود بے سکونی، بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشرہ غیر منطقی طور پر بہت زیادہ سیاست زدہ بن چکا ہے۔ سکون کے متلاشی ہمارے معصوم لوگوں کو کوئی جمہوریت میں سکون کے سبز باغ دکھاتا ہے تو یہ اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں، جب جمہوریت میں سکون نہیں ملتا تو آمر ان کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں، اور جب کوئی نظر نہیں آتا تو یہ انقلاب کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں، دنیا کا کوئی معاشرہ ہمیں اپنے ملک کی طرح سیاست زدہ نظر نہیں آتا۔ جبکہ ملک میں جب انتخابات ہوجاتے ہیں تو عوام اپنے منتخب نمائندوں کو پانچ سال کے لیے اسمبلی میں بھیج دیتے ہیں، اس کے بعد یہ منتخب نمائندوں کا کام ہوتا ہے کہ اسمبلی میں عوام کی نمائند گی کریں اور اپنے سیاسی اور ملکی مسائل کو اسمبلی میں زیر بحث لاکر انہیں حل کریں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں،اس کے باوجود یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کسی بھی چھوٹے یا بڑے سیاسی یا ملکی مسئلے پر عام لوگوں کا سیاست پر بحث مباحثے کرنااور ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک عام شہری بھی ملکی سیاست پر بڑی بڑی باتیں کرتا نظر آتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر، تعلیمی ادارے ہوں یا کاروباری ادارے، بازار ہوں یا تفریح گاہ الغرض کہ ہر جگہ ملکی سیاست زیر بحث رہتی ہے جن لوگوں کو سیاست کا مفہوم تک نہیں معلوم وہ اپنا کام چھوڑ کر سیاسی مباحثوں میں الجھے نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں جب بظاہر ملکی صورت حال تصادم اور انارکی کی طرف جاتی محسوس ہوتی ہے مگر جمہوری رویے اور سیاسی بصیرت بروئے کار لاکر اس کیفیت میں بہتری اور استحکام کے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ موجودہ عبوری حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور عوامی مسائل حل کرنا بہت ضروری ہے، جو حکمران دور اندیش اور عوامی مزاج کو سمجھتے ہیں وہ سب سے پہلے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔
خاص طور پر ان کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی کو آسان بناتے ہیں۔ وہ کسی صورت بھی اشیائے خورد و نوش کی قلت اور گرانی کو برداشت نہیں کرتے اور طلب و رسد کا ایسا مضبوط نظام قائم کرتے ہیں کہ عوام کو کوئی دشواری نہ ہو۔عوام پاکستان بیرونی قرضوں سے نجات اور مہنگائی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہمارے ملک میں ایک طویل عرصے سے امیر افراد، امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جارہاہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف معاشرے میں بے چینی اور مایوسی کو جنم دیا ہے بلکہ مختلف جرائم کو پیشے کی شکل بھی دے دی ہے اور لا قانونیت کے مظاہرے اکثردیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔ اے سی صورتحال نے معاشرے سے سکون اور چین کو ختم کردیا ہے۔ جبکہ آج اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ملک کے نصاب تعلیم میں ایسے موضوعات اور علمی مباحثوں کو شامل کیا جائے جس سے پاکستانی طالب علموں اور نوجوانوں میں حب الوطنی، ایثار اور پاکستانی قومیت کے جذبات میں زیادہ سے زیادہ نکھار پیدا کیا جاسکے اور انہیں بلند کردار پاکستانی بنایا جاسکے تاکہ جب وہ عملی زندگی میں داخل ہوں تو جرائم اور ملک دشمن سرگرمیوں سے محفوظ رہیں، اور غیر ضروری سیاسی جماعتوں کے آلہ کار نہ بن سکیں۔ جبکہ موجودہ سنگین سیاسی حالات میں ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام آئے، جب بے چین انسانوں کو سیاسی و معاشی تحفظ ملنے لگے گا تو ان کی سب سے بڑی بنیادی ضرورت پوری ہوجائے گی، حقیقی جمہوریت اس وقت قائم ہوگی جب کوئی جماعت مارچ کی دعوت دے کر انسانوں کا ہجوم اکٹھا نہیں کر پائے گی اور کسی جمہوری حکومت کو کسی غیر جمہوری اقدام سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں