120

اہلَ مغرب اور ہم ۔۔۔۔۔۔پروفیسرمظہر

قطر میں مقیم میرے دوست ملک تنویر نے اپنی یاداشتیں بیان کرتے ہوئے لکھا ”کیا حرام کا لقمہ معاشرے کو چاٹ گیا ہے؟۔ بھائی! صرف حرام کا لقمہ ہی نہیں اور بہت کچھ اِس جدیدیت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ ملال ہے تو یہ کہ گردشِ ماہ وسال نے ہماری اُن حیات آفریں رخشندہ و درخشندہ اقداروروایات کو بھی چاٹ لیا جن کی بدولت قرنوں سے چھائی جہالت کا خاتمہ ہوا۔ تاجِ برطانیہ کی سو سالہ غلامی ہمارے اذہان وقلوب کو مسخر کرچکی اور اب ہمارا دامن اُس نورِیقیں سے تہی جو فتحِ مبیں کی علامت۔ کوئی حیلہئ تسکیں باقی نہ سوزِیقیں، دیدہئ بیدار نہ رقصِ بہار اور موسمِ گُل میں بھی پَت جھڑکے آثار۔ بحرِ علم کے وہ غواص لَدچکے جن کی فکرونظر سے اِک عالم روشن وتاباں ہوا۔ اب صرف تلچھٹ باقی جسے فکرِ فردہ نہ غمِ دوش، فقط عجزِ سائل اور کشکولِ گدائی۔ اِس دستِ طلب کی بنا پر اقوامِ عالم میں ہماری غیرت وحمیت اور انانیت ریزہ ریزہ۔ ایک پاکستان ہی کیا پورا عالمِ اسلام عالمی دہشت گردوں کی گیرودار میں، کچھ براہِ راست اُن کے پنجہئ ستم میں اور باقی سُکڑے سہمے ہوئے۔
وجہ صرف فرقانِ حمید سے دوری اور ”دَرِمغرب“ پہ سجدہ ریزی۔ وہی مغرب جس کے بارے میں رابرٹ بریفالٹ نے اپنی کتاب (The making of humanity)میں لکھا ”پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک یورپ پر گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ یہ تاریکی تدریجاََ زیادہ گہری اور بھیانک ہوتی جارہی تھی۔ اِس دَور کی وحشت وبربریت زمانہئ قدیم کی وحشت وبربریت سے کئی گُنا بڑھی ہوئی تھی۔ اخلاق وکردار کی باتیں قصہئ پارینہ بن چکی تھیں اور ہر چیز پر شیطنیت طاری تھی“۔ لگ بھگ یہ وہی دَور تھا جب عرب کے ریگزاروں سے نور کی کرنیں پھوٹیں اور اِک عالم کو منور کرگئیں۔ آج اگر ہمارا دامنِ فکر تہی ہے تو صرف اِس لیے کہ قُرآن وسیرت سے رجوع کی بجائے ہمیں مغربی مفکرین کے دَرسے علم وعرفان کے چشمے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے لبرلز کے نزدیک دین از کار رفتہ اور ناقابلِ عمل البتہ زبانوں پر روسو کے اِس جملے کا ورد کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا لیکن جہاں دیکھو پابہ زنجیر ہے۔ اِن لبرلز کو روسو سے بہت پہلے امیرالمومنین حضرت عمر ؓکا یہ فرمان کیوں یاد نہیں جو اُنہوں نے مصر کے گورنر کو مخاطب کرکے کہا ”تُم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنانا شروع کردیا جبکہ اُن کی ماؤں نے اُنہیں آزاد جنا تھا“۔ اِس سے بھی پہلے اُس علیم وخبیر نے حکمت کی عظیم النظیر کتاب میں فرمایا ”کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ تو اُس کو کتاب، حکم اور نبوت عطا کرے اور وہ لوگوں کو کہے کہ تم میرے غلام بن جاؤ“ آل عمران (79)۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی عقل وشعور کے ارتقاء کی وجہ سے انسان نے قوانین ایجاد کیے، بنیادی انسانی حقوق طے کیے اور اقوامِ متحدہ کا چارٹر بنا۔ عرض ہے کہ میگنا کارٹا یا منشورِ کبیر 1215ء میں وجود میں آیا اور اقوامِ متحدہ کا منشور 1948ء میں۔ اِسی منشور کو انسانی عقل وشعور کے ارتقاء کا نام دیا جارہا ہے لیکن یہ ارتقاء تو چودہ صدیاں پہلے مجسم قُرآن حضرت محمدﷺ کی زبان سے بصورت وحی نازل ہوچکا۔ اب کس انسانی عقل وشعور کے ارتقاء پر رطب اللساں ہوا جارہا ہے۔ اُس منشورِ ربی میں نہ صرف انسانی حقوق کا صراحت سے ذکر ہوا بلکہ نافذ کرکے بھی دکھایا گیا۔ اقوامِ متحدہ کا منشور الہامی دستاویز ہے نہ صحیفہئ آسمانی۔ تلخ حقیقت یہی کہ وہ صرف ایک دستاویز ہی ہے جس پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہوتا تو وحشت وبربریت کی علامت اسرائیل کب کا نشانِ عبرت بن چکا ہوتا۔ ویسے بھی اُس چارٹر کی کیا حیثیت جو ویٹو کا حق رکھنے والی پانچ عالمی طاقتوں کے سامنے سرنگوں۔ یہ عالمی طاقتیں کسی بھی قسم کے بِل کو ویٹو کرنے کا حق رکھتی ہیں اور اب تک 250 سے زائد بِل ویٹوکر چکیں۔ امریکہ صرف حبِ اسرائیل میں 10 قراردادیں ویٹو کرچکا۔ دوسری طرف حضورِ اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا ”جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پراور عجمی کوعربی پر، گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب“۔ اشرف المخلوقات کا یہی معیار دینِ مبیں نے مقرر کیا جبکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں وہی جاہلیت ویٹو کی شکل میں نظر آتی ہے جسے 14 صدیاں پہلے ختم کیا گیا۔ اِس کے باوجود بھی اسلام رجعت پسند اور دہشت گرد جبکہ مغرب اخلاق کااجارہ دار۔
جن بنیادی انسانی حقوق کی بات کی جارہی ہے وہ بلکہ اُن سے کہیں بہتر تو فرقانِ حمید بیان کرچکا۔ کیا ہے جو فلاحِ انسانیت کے لیے قرآن مجید میں نہیں اور کیا ہے جس سے اقوامِ عالم انکار کرسکتی ہیں۔ کالم کا دامن تنگ ہونے کے سبب یہاں صرف اُن حقوق کا حوالہ دیا جارہا ہے جو فرقانِ حمید میں درج ہیں۔ تحریر وتقریر کی آزادی (النساء 135)، حصولِ انصاف (الشوریٰ 15)، حقِ مساوات (الحجرات 13)، تحفظِ عقیدہ (البقرہ 254)، تحفظِ حاصلِ محنت (النجم 39)، سیاسی زندگی میں شرکت کا حق (الشوریٰ 38)، کفالت کا حق (الزاریات 19)، مذہبی دل آزاری سے تحفظ (الانعام 109)، حقِ مساوات (الحجرات 13)۔ تحفظِ جاں (امائدہ 32)، تحفظِ مال (البقرہ 188)، تحفظِ ناموس (النور 30)۔ اِس کے علاوہ بھی متعدد آیاتِ مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے۔ آج اگر ہم مغرب کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کی بجائے قُرآن سے رجوع کرتے تو ہمارے دامنِ فکر میں وہ سب کچھ ہوتا جس کی بھیک مغرب سے مانگی جارہی ہے۔ حقیقت یہ کہ صرف اسلام ہی ہے جو ابتداء ہی سے انسانی حقوق کا علمبردار اور محافظ ہے اور مغرب اِنہی حقوق کا بہانہ بناکر اُن ممالک کے خلاف ہتھیار اُٹھاتا ہے جہاں اُن کے سیاسی و معاشی مفادات خطرے میں ہوں۔ اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کا چارٹر تو مرتب کردیا مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں کہیں رنگ ونسل، کہیں ذات پات اور کہیں مذہب کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی کا سلسہ جاری ہے جبکہ اقوامِ متحدہ زورآوروں کے گھر کی باندی دَرکی لونڈی۔
بلاشبہ سائنسی ایجادات میں اہلِ مغرب اہلِ اسلام سے بہت آگے ہے۔ دَورِجدید کی شاندار ایجادات میں مسلم ممالک کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر۔ وجہ یہ کہ انفس وآفاق میں خالق ومالک کی نشانیوں پر غور کرنے کی تعلیمات کو ہم نے بھلادیا اور مغربی سائنسدانوں نے اپنا لیا۔ فرقانِ حمید میں باربار غوروفکر اور عقل استعمال کرنے کی تلقین کی گئی کیونکہ تسخیرِکائنات کا عظیم ذخیرہ ابھی مخفی ہے۔ اِس بات کو علامہ اقبالؒ نے شعری زبان میں یوں فرمایا
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُن فیکوں
اِس مظہرِخفی کو مظہرِجلی میں لانے کے لیے رَبِ لم یزل نے انسان کو ان گنت صلاحیتوں سے نوازا اور غوروفکر کا حکم دیا۔ اِن صلاحیتوں سے مغرب تو استفادہ کررہا ہے، ہم نہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم قُرآن وسیرت کی طرف رجوع کریں، بے عملی کے جلو میں دعائیں کبھی مستجاب نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں