84

ملاکنڈ میں کسٹم ایکٹ کانفاذ۔وہی ہواجس کاڈرتھا۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ سے متعلق چند ماہ قبل گورنرخیبرپختونخواکی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہواتھا جس پر تمام سیاسی جماعتوں ،تاجرتنظیموں اورسرکاری ملازمین سمیت ہرمکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والوں نے شدیدردعمل دیتے ہوئے بھرپوراحتجاج کیاتھا۔نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعدخیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کی حکومت کی وفاق کے خلاف ہرزہ سرائی اور شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر گورنرہاؤس خیبرپختونخواکی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیاتھاکہ وفاق نے ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکااقدام ازخودنہیں بلکہ خیبر پختونخوا حکومت کی سفارش پر اٹھایاہے گورنرہاؤس کی اس وضاحت کے بعد معاملہ کافی مبہم ہوااوربعدمیں صوبائی حکومت اگر مگر،ایسے و یسے اورہاں نہیں کے تناظرمیں مختلف جوازبناکرصفائیا ں دیتی رہی مگرپشتومیں کہتے ہیں ’’چی میخہ د لکئی نہ نہ راٹینگیگی‘‘یعنی بدحواس بھینس کو دم سے پکڑکرقابو نہیں کیاجاسکتاسووفاق نے توصوبائی حکومت کی جانب سے صدرمملکت کوسمری بھجوانے کے جوازکوبنیادبناکرخودکوبے قصور اور اس معاملے میں یکسربری الذمہ قرادینے کی کسی حدتک کامیاب سعی کی تاہم پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت معقول جوازپیش کرنے سے قاصررہتے ہوئے بڑی حدتک اس اقدام کی واحد ذمہ دارٹہری۔قریبََاعرصہ دوماہ پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام چکدرہ کے پرفضاء مقام فشنگ ہٹ میں اس ایشوپرمنعقدہ کل جماعتی کانفرنس جس میں ملاکنڈڈو یژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سابق وموجودہ منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی،سینیٹرز، سیاسی جماعتوں اورتاجرتنظیموں کے نمائندے کثیرتعدادمیں شریک تھے نے یک زباں ہوکر کسٹم ایکٹ کے نفاذکی شدید مخالفت اوراس کے خلاف بھرپورمزاحمت کے عزم کااعادہ کیاتھا۔مذکورہ کانفرنس میں خیبرپختونخواکے وزیر خزانہ مظفرسید اور پی ٹی آئی کے ممبران صوبائی اسمبلی کی جانب سے یہ باورکرانے پر کہ کسٹم ایکٹ کے نفاذ کافیصلہ واپس لینے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کوسمری بھجوادی گئی ہے عوام کو بڑی حدتک امید کی کرن نظرآئی تھی اوروہ توقع کررہے تھے کہ اب یہ فیصلہ واپس لیاجائے گاکیونکہ عوام کواس بات کابھی احساس وادراک تھاکہ کسٹم ایکٹ کانفع نقصان اپنی جگہ تاہم ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ دے کر اس ایشوپر کوئی بھی جماعت سیاسی خودکشی کبھی بھی نہیں کرے گی۔پھر جب مئی کے مہینے میں وزیراعظم سوات کادورہ کررہے تھے تب یہاں کے عوام پرامید تھے کہ وزیراعظم اہم اعلان کسٹم ایکٹ واپس لینے کاہی کریں گے مگر’’چھوٹے میاں توچھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ‘‘وزیراعظم نے اس معاملے کاذکرتک نہ کرکے عوام کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔تاہم اب قصہ مختصراََ یہ کہ میڈیارپورٹس کے مطابق ملاکنڈڈویژن کے ایک مقامی عدالت میں ایک سائل حسین گل ولد ہمیش گل ساکن بامبولئی اسبنڑ نے درخواست دائرکی تھی کہ اس کی نان کسٹم پیڈ گاڑی نمبر650 پی ایس اوجومقدمہ علت نمبر90زیردفعات پولیس کے قبضے میں ہے اسے واپس دلائی جائے تاہم سول جج چکدرہ نے اس بنیادپرسائیل کی درخواست خارج کردی ہے کہ ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کانفاذہوچکاہے اورریکارڈ پرموجود ثبوتوں کے مطابق پولیس نے جوگاڑی قبضے میں لی ہے وہ نان کسٹم پیڈہے ۔بہرحال اب یہ حسین گل کی بدقسمتی ہے کہ وہ اس ظالمانہ ایکٹ کے پہلے شکاربنے یاوہ اسے ا پنی خوش نصیبی سمجھیں کہ اس ایکٹ کے پہلے شکارہونے کی حیثیت سے ان کانام ہمیشہ سرفہرست رہے گا تاہم چکدرہ کی مقامی عدالت کے مذکورہ فیصلے کی روشنی میں اب ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ بارے تمام اندازے اورچہ میگوئیاں دم توڑچکی ہیں، اگر مگر کی اب کوئی گنجائش باقی رہتی ہے نہ ہی کوئی ابہام پایاجاتاہے بلکہ صورتحال بالکل واضح ہے کہ یہاں عملاََکسٹم ایکٹ نافذ ہوچکاہے جس کا پہلاشکاربامبولئی اسبنڑ کاحسین گل بناہے۔یہاں میں ممتازنوجوان صحافی اورچکدرہ پریس کلب کے صدرشاہ فیصل افغانی کاذکرکرنا ضروری سمجھتاہوں جنہوں نے عدالتی فیصلہ آنے پر بروقت رپورٹ شائع کرکے ملاکنڈڈویژن کے عوام بالخصوس سیاسی جماعتوں اورتاجر تنظیموں کوخواب خرگوش سے جگانے کی اپنی تئیں بھرپورکوشش کی مگر بحیثیت صحافی ا س سے آگے ان کاکوئی بس نہیں چلتا۔واضح رہے کہ ا س سے قبل جب ابتداء میں ملاکنڈڈویژن میں نان کسٹم پیڈگاڑیاں لانے پرپولیس پکڑدھکڑکرنے لگی تھی تب یہاں کے ایک شہری نے یہ مؤقف لے کر مقامی عدالت سے رجوع کیاتھاکہ ملاکنڈ ڈویژن چونکہ ٹیکس فری زون ہے لہٰذایہاں ناکسٹم پیڈگاڑیوں کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیاتھاکہ یہاں نان کسٹم پیڈگاڑیوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اگرچہ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں این سی پی گاڑیوں کی تعدادشائد سینکڑوں میں تھی جو کہ اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہے او راب جوعدالتی فیصلہ آیا ہے اس سے یہاں موجودلاکھوں این سی پی گاڑیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ۔دوسری جانب مذکورہ فیصلے کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وزیراعظم نے دورہ سوات کے موقع پردوران خطاب کسٹم ایکٹ کے معاملے پر لب کشائی کیوں نہیں کی تھی۔اگرچہ اب رازمیں کوئی بات رہی نہیں ہے تا ہم مسلم لیگ نون ہویا پی ٹی آئی دونوں سیاسی قماربازوں کویہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کامعاملہ اس جوئے سے کم نہیں جس میں بازی ہارنے کایقین سوفیصد ہے لہٰذااگرکسٹم ایکٹ کے نفاذسے نان کسٹم پیڈگاڑیوں کامستقبل خطرے سے دوچارہے تو اس ایکٹ کے نفاذکے لئے سفارش کرنے اورسفارش کوبلاتاخیرمنظورکرکے اسے نافذکرنے والی سیاسی جماعتوں کا مستقبل بھی داؤپر لگا ہوا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لیں اورملاکنڈڈویژن کواس کی پرانی ٹیکس فری زون والی حیثیت میں رکھیں جوپاکستان میں ادغام سے لے کراب تک برقرارچلاآرہاتھاورنہ فیصلے کااختیاریہاں کے عوام بھی رکھتے ہیں اوراگر عوام نے اپنی مفادات کے لئے فیصلہ دے دیاتوپھرنہ رہے گابانس اورنہ بجے گی بانسری۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں