56

ٹی ایم اے چترال میں ترقیاتی سکیموں کیلئے پانچ کروڑ 72لاکھ روپے کی دوسری قسط اسی مہینے جاری کر دی جائے،وزیر خزانہ سے ٹی ایم اے چترال وفدکی ملاقات

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے بعد میونسپل اور شہری ترقی کے امور منتخب نمائندوں کے حوالے کر دئیے ہیں اب انہیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا اور حسن کارکردگی کے ذریعے عوام کے دل جیتنا ہونگے انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز ریلیز کا عمل زیادہ تیز اور شفاف بنا رہا ہے وہ بجٹ اجلاس کے فوری بعد اکاؤنٹنٹ جنرل کے ہمراہ چترال سمیت پورے صوبے میں اکاؤنٹس و آڈٹ دفاتر کے دورے شروع کررہے ہیں اور وہاں چیک و فنڈ ریلیز اور روزمرہ کے دیگر امور کا بذات خود جائزہ لینے کے علاوہ اکاؤنٹس دفاتر سے متعلق شکایات و مسائل سے موقع پر اگاہی بھی حاصل کرینگے ہم ترقیاتی و غیرترقیاتی فنڈز کے شفاف اور منصفانہ استعمال کا خودکار نظام وضع کرنا چاہتے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے وہ چترال کے بلدیاتی نمائندوں کے نمائندہ وفد سے باتیں کررہے تھے جس نے سابق رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی کی زیر قیادت سول سیکرٹریٹ پشاور میں ان سے ملاقات کی اورانہیں ٹی ایم اے چترال کی مالی ضروریات کے سلسلے میں درپیش مسائل ومشکلات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق دیگر معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا وفد میں تحصیل کنوینر خان حیات اللہ خان اور تحصیل کونسل چترال کے پینل چئیرمین شمشیر خان کے علاوہ تحصیل و ڈسٹرکٹ کونسلر شامل تھے وفد کی طرف سے پیش کردہ مسائل و مطالبات پر وزیرخزانہ نے یقین دلایا کہ ٹی ایم اے چترال میں ترقیاتی سکیموں کیلئے پانچ کروڑ 72لاکھ روپے کی دوسری قسط اسی مہینے جاری کر دی جائے گی جس کیلئے انہوں نے پہلے ہی ہدایات جاری کر دی ہیں اسی طرح انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کے 44ملازمین کی تنخواہوں سمیت ٹی ایم اے تبادلے کے مطالبے سے بھی اتفاق کرتے ہوئے اسکی باضابطہ منظوری دی تاہم انہوں نے ٹی ایم اے کیلئے خصوصی گرانٹ کے فوری اعلان کی بجائے نئے بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرنے کا یقین دلایا مظفر سید ایڈوکیٹ نے واضح کیا کہ آئندہ میونسپل خدمات اور ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے حکومتی گرانٹس پر انحصار کی بجائے مقامی وسائل بروئے کار لانا اور اندرونی مالی ذرائع وسیع کرنا ہونگے اور یہی حکومت کی نئی پالیسی بھی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلدیاتی نمائندے اپنے متعلقہ میونسپل اداروں کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم بنانے کیلئے اپنی قابلیتوں کے جوہر دکھائیں گے جس کی صوبائی حکومت ان سے بجا طور پر توقع بھی رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں