432

ایسی بلندی، ایسی پَستی۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

جمعہ 3مئی کو مبارک سلامت کے شور میں پاکستان کاپہلا سیٹلائٹ مشن ”آئی کیوب قمر“ چاند پر جانے کے لیے روانہ ہوگیا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کی طرف ایسا قدم ہے جو لائقِ تحسین۔ اِس سے پہلے پاکستان ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیوں کالوہا منوا چکا۔ اگر پاکستان 28 مئی 1989ء کو 5 ایٹمی دھماکے کرکے چاغی کے پہاڑوں کارنگ تبدیل نہ کرچکا ہوتا تو بھارت کب کا ہمیں ہڑپ کر جاتا۔
ہماری جذبہئ شوقِ شہادت سے لبریز جری افواج دنیا کی بہترین عسکری طاقت۔ رَبِ لِم یزل کے نام پر حاصل کیاگیا زمین کایہ ٹکڑا دنیاکی ہر دولت سے مالامال۔ ایک طرف آسمان کو چھوتی پہاڑی چوٹیاں، حسین وادیاں، گُنگناتے جھرنے، اٹھکیلیاں کرتی ندیاں اور بہتے دریا۔ دوسری طرف سرسبز میدان، سونا اُگلتے کھیت اور زمین میں تہ درتہ چھُپے خزانے، لیکن ہم ایسے کم نصیب کہ اپنے محسنوں کوہی نشانِ عبرت بنانے کی تگ ودَو کرتے رہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو، میاں نوازشریف اور محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخاں کی مثالیں آپ کے سامنے۔مایوسیوں کے جلو میں اب ہماری حالت یہ کہ
اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دور اُفق میں ڈوب گیا
روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی
زخموں سے چُور دھرتی ماں کا عالم یہ کہ پنبہ کجا کجا نہم۔ آمدہ بجٹ کے لیے پیسے نہیں اورہم IMFکی کڑی شرائط پر سرِتسلیم خم کرنے پر مجبور۔ اگر معیشت کاپہیہ رواں ہونے لگتا ہے تو ایک جماعت کے شَرپسند تیروتفنگ کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، سانحہ 9مئی اِس کی مثال۔ کرپشن کاعفریت جبڑے کھولے ہوئے مگر حکومت بے بَس۔ آج بھی بجلی چوری جگہ جگہ جس کابوجھ بیچارے عوام پر۔ ٹیکس اکٹھانہ ہونے کی وجوہات بقول وزیرِاعظم یہ کہ اگر FBR ٹیکس کی مَدمیں 100 روپے اکٹھا کرتا ہے تو 300روپے اُس کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ اب FBRکے گریڈ 21اور 22کے 23 آفیسرز کو سَرپلس پول میں بھیج کراُن کے خلاف کارروائی شروع لیکن لکھ کے رکھ لیں کہ کرپشن پھر بھی ختم نہیں ہوگی کیونکہ کرپشن کے مگرمچھوں کوآہنی ہاتھوں سے نپٹنا ہوگا جو فی الحال تو اتحادی حکومت کے بَس کا روگ نہیں۔ اِسی لیے تو میاں نوازشریف نے قوم سے واضح اکثریت کا مطالبہ کیاتھا تاکہ اِن مگرمچھوں کو نشانِ عبرت بنایا جاسکے مگر قوم کویہ منظور نہ تھا۔ اتحادی سہاروں پرکھڑی حکومت کے لیے کرپشن کے مگرمچھوں پرہاتھ ڈالنا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ ویسے کیا اہلِ فکرونظر میرے علم میں اضافہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں وہ کون سا ادارہ ہے جس میں کرپشن کاناسور نہیں پھیلا ہوا؟۔
جب کوئی گھردیوالیہ ہوجاتا ہے تو گھر کے مکیں اپنے برتن بیچنا شروع کردیتے ہیں۔ یہی حال پاکستانی حکومت کاہے جو پی آئی اے، سٹیل مِل، ڈسکوز، فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور دیگر اداروں کی نجکاری کے لیے تیار۔ قصور حکومت کابھی نہیں کہ اِن اداروں میں کرپشن اتنی پھیل چکی جو حکومت کی برداشت سے باہر۔ صرف پی آئی اے جیسا کسی زمانے میں انتہائی منافع بخش ادارہ آج 830ارب روپے کا مقروض ہے۔ یہی حال دوسرے اداروں کابھی ہے۔ اِسی لیے ”نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن“ کے مصداق اِن اداروں کی نجکاری کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر اِن کی نجکاری نہیں کی جاتی تو حکومت اِن کے خسارے کابوجھ کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔
یہ طے کہ کرپشن کے ناسور کا خاتمہ محض میزانِ عدل سے ممکن لیکن جہاں عدل بھی 139ویں نمبر پرہو وہاں کوئی کیا کرے۔ اب چیف جسٹس آف پاکستان محترم قاضی فائزعیسیٰ سے کچھ اُمید بڑھی ہے ورنہ پہلے تو عدل سے قوم کا اعتماد بھی متزلزل ہوچکا تھا۔ جہاں ایک شخص کی خاطر اعلیٰ ترین عادل آئین کو Re Write کرنے سے دریغ نہ کرے، ہرسیاسی فیصلہ ہم خیال ججزکا مرہون منت ہو اور جہاں اسلام آباد ہائیکورٹ ایک شخص کو اُن مقدمات میں بھی ضمانت دے دے جو ابھی دائر بھی نہیں ہوئے وہاں
وہاں فلک پہ ستاروں نے کیا اُبھرنا ہے
ہر اِک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے
اب چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ صاحب نے میزانِ عدل تھام لی ہے۔ اُن کا کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں جسے تنقیدوتعریض کانشانہ بنایا جاسکے۔ قاضی صاحب نے چارج سنبھالتے ہی فُل کورٹ کے سامنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بِل رکھا۔ قوم نے عدلِ پاکستان کی تاریخ میں یہ عجب نظارہ پہلی باردیکھا کہ یہ ساری کارروائی الیکٹرانک میڈیا براہِ راست دکھائی جارہی تھی۔ پریکٹس اینڈپروسیجر بِل کا فیصلہ غالب اکثریت سے پارلیمنٹ کے حق میں ہوا۔ اب اُن کے سامنے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 جسٹس صاحبان کے خط کا کیس ہے اور یہ کارروائی بھی براہِ راست دکھائی جارہی ہے۔ جسٹس صاحبان نے اپنے خط میں لکھاکہ اُن پر پریشر ڈالا جاتا ہے اور اگر پریشر کو اہمیت نہ دی جائے توپھر مختلف طریقوں سے دھمکیاں دی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ سالوں سے چلا آرہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اِس خط کے بعد جسٹس صاحبان کی کریڈیبلٹی کیا رہ جاتی ہے؟۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا جسٹس صاحبان کے پاس توہینِ عدالت کا اختیار نہیں؟۔ اگر ہے توپھر متعلقہ شخص یا ادارے کے اشخاص پر توہینِ عدالت کیوں نہیں لگائی گئی؟۔ اگر کسی خوف کے تحت ایسا نہیں کیا گیا توپھر اُس منصف کو گھر چلے جانا چاہیے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 6رُکنی بنچ میں یہی بات قاضی کہی۔ اُنہوں نے فرمایا ”اگر میں اپنے کام میں دخل اندازی نہ روک سکوں تو مجھے گھر چلے جانا چاہیے“۔ قاضی صاحب نے یہ بھی کہا ”میں نے اپنے فیصلے میں لکھ کردیا کہ دھرنے کے پیچھے جنرل فیض حمید تھا، پھر حکومت قانون سازی کیوں نہیں کرپا رہی؟“۔ جسٹس جمال مندوخیل نے فرمایا ”لوگ مداخلت کرتے ہیں، کہیں کامیاب ہوتے ہیں، کہیں کامیاب نہیں ہوتے، یہ ایک جج پر منحصر ہے“۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے اٹارنی جنرل سے کہا، عدالت کو بتایا جائے کہ IB,ISI اورMIکس قانون کے تحت بنی؟۔ جسٹس اطہرمِن اللہ کے ریمارکس تھے کہ انٹیلی جنس ادارے مداخلت کرتے ہیں تو اِس کے ذمہ دار وزیرِاعظم اور اُس کی کابینہ ہے۔ اُنہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار کے خلاف جاری کاذکر بھی کیا۔ بجا ارشاد مگر جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئرترین جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف بلاجواز شور اُٹھا تواُس وقت جسٹس اطہرمِن اللہ کیوں خاموش رہے؟۔ جب جسٹس اطہرمِن اللہ نے یہ کہا کہ 76سالوں سے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ایسا ہوتا رہاہے تو چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ وہ اِس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ 5سال تک بلوچستان کے چیف جسٹس رہے لیکن کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔ جسٹس اطہرمِن اللہ اور جسٹس منصورعلی شاہ نے بھی کہاکہ جب وہ اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے توکوئی مداخلت نہیں ہوئی۔ اِس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے”اِس کا مطلب تویہ ہواکہ عدلیہ میں مداخلت ایک جج کی ذات پر منحصر ہے“۔ جسٹس مسرت ہلالی کے ریمارکس تھے ”جو دباؤ برداشت نہیں کرسکتے اُنہیں جج رہنے کا کوئی حق نہیں“۔ اب ججز صاحبان کو خود ہی فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کرسکتے تو کیا اُنہیں مسندِعدل پر بیٹھنے کا حق ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں