136

’گوافغانی گو‘کانعرہ اورعوام۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اس میں توکوئی دورائے نہیں کہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام نے گزشتہ30 سالوں سے یہاں مقیم افغان مہاجرین کودلوں میں جگہ دے کرجس فراخدلی اورخلوص نیت کے ساتھ ان کی خدمت کی ہے ڈھونڈنے سے بھی دنیاکے کسی اورحصے میں اس کی مثال نہیں ملے گی مگر اٹھتاسوال یہ ہے کہ مہاجرین کے عالمی دن کی مناسبت سے جہاں دنیابھرمیں پناہ گزینوں کی مدد اوران کی آبادکاری کے حوالے سے تقاریب منعقدہورہے تھے اورعالمی رہنماؤں کی جانب سے ہمدردی پر مبنی حمایتی بیانات اورتہنیتی پیغامات سامنے آرہے تھے وہیں پشاورکی سراپااحتجاج تاجربرادری افغانیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی کیوں دکھائی دے رہی تھی۔شائداس سوال کاجواب ان عوامل کاجائزہ لینے پر ملے کہ جب پاکستان میں رہتے بستے افغان مہاجرین کھائیں گے ،پئیں گے اورکمائیں گے یہاں مگریہاں کے قانون کوتسلیم نہیں کریں گے،پاک انڈیاکرکٹ میچ کے دوران انڈیاکی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں نعرہ بازی کرتے دکھائی دیں گے،جب پاکستان کے عوام کے سامنے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ یہاں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی اور ان کے ساتھ حکومتی اور عوامی سطح پراچھابرتاؤ روارکھنے کے باوجود نہ صرف یہاں مقیم افغان مہاجرین کی منفی سرگرمیاں امن وامان کے حالات خراب ہونے کاباعث بنتی ہیں بلکہ سابق افغان صدرحامد کرزئی،موجودہ صدر اشرف غنی اوردیگرحکومتی قیادت کی جانب سے بلاجوازپاکستان مخالف بیانات اورشرانگیزپروپیگنڈہ سامنے آتاہے اوروہ ایساکیوں اور کس کی ایماء پر کرتے ہیں یہاں کے عوام کواس کی بھی سمجھ ہو، جب پاکستان کی تاجربرادری بالخصوص چھوٹے دکانداروں کو لگے گاکہ ہرکاروبارپر افغان مہاجرین کاقبضہ ہے اور افغان باشندوں کی یہاں موجودگی سے ان کی مشکلات میں اضافہ اور معاشی نقصان ہورہاہے،جب عوام بالخصوص تجارتی حلقوں کومحسوس ہوگاکہ ملک کے طول وعرض میں رونماء ہونے والے70فیصدجرائم میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں،جب وجودرکھتے یہ حقائق سامنے آئیں گے کہ پاک افغان طورخم بارڈربند ہونے سے پشاورسمیت دیگر شہروں کی عام مارکیٹوں میں ہر چیزباآسانی اورسستے داموں پر دستیاب ہوتی ہے مثال کے طورپرجب گزشتہ دنوں پاک افغانی کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر چند دنوں تک بند تھاتوپشاورمیں فی کلوآم کی قیمت 80سے سو روپے کے درمیان رہی جبکہ بارڈرکھل جانے کے بعد اس کی قیمت 150سے170کے درمیان ہوگئی،جب پاکستان کے عوام اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ افغانیوں کے ساتھ جتنااچھاکروگے اتناہی وہ بدسلوکی سے جواب دیں گے تب پاکستان کے شہری یہاں مقیم افغان مہاجرین کے خلاف احتجاج توکریں گے اورتب وہ بلاشبہ یہ مطالبہ کرنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ افغان پناہ گزینوں کواپنے ملک واپس بھیج دیاجائے اور شائد اسی تناظرمیں پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر20جون کو پشاور کی تاجر برادری پشاورپریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے یہاں مقیم افغان مہاجرین کی یہاں سے فوری بے دخلی کامطالبہ کررہی تھی۔میڈیاکے ذریعے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس غیرمعمولی منفرد احتجاجی مظاہرے میں پشاور کے چھوٹے دکانداروں اور صنعت کاروں سمیت عام لوگ بھی شریک تھے اور مظاہرین نے جوبینرزاورکتبے اٹھارکھے تھے ان پر’ گوافغانی گو‘۔’افغانیوں کواپنی مٹی پر نہیں مانتے‘اور’افغانیوں کاجویارہے غدار ہے غدارہے‘کے نعرے درج تھے۔بتایاجاتاہے کہ مظاہرین نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اورموجودہ صدراشرف غنی کی تصاویرکوپھاڑدیااور بعد میں آگ لگاکرجلاڈالا۔اس موقع پر مظاہرین کاکہناتھاکہ پاکستانی قوم نے مشکل کی گھڑی میں افغان بھائیوں کوپناہ دی اوران کاہر طرح کاخیال رکھالیکن افسوس کہ اس نیکی کے بدلے میں وہ ہمیں مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔مظاہرین کے مطابق طورخم میں پاک افغان سرحد پر حالیہ دنوں میں جوکچھ ہواوہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے لہٰذااب مزیداس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔اگرچہ اٖفغان شہریوں کے خلاف یہاں کے عوام کے جذبات ایک عرصے سے پائے جاتے تھے تاہم طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی نے جلتی پر تیل کاکام کیاہے۔ پشاور میں ہونے والے مظاہرے میں شامل تاجروں کایہ بھی کہناتھاکہ یہاں مقیم افغان شہریوں کووطن واپس بھجوانے اوران سے جاں خلاصی کاموزوں وقت آگیاہے لیکن اگر اس باربھی حکومت غفلت کی نیند سوتی رہی توپھر کئی قسم کے مزید مسائل جنم لیں گے۔ادھر مبصرین کاخیال ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف اوقات میں پیش آتے واقعات اور جنم لیتے حالات کے پیش نظرحکومتی سطح پر تعلقات خراب ہوتے رہتے ہیں تاہم اب دونوں ممالک کے عوام کے مابین بھی نفرت کی یہ دیواریں حائل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ دوسری جانب مسائل کے تناظرمیں جہاں افغان عوام اپنے ملک میں امن قائم نہ ہونے کاذمہ دار پاکستان کوٹہراتے ہیں وہیں ان کویہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اگرپاکستان کی مداخلت کے نتیجے میں روس افغانستان سے اپنابوریابسترلپیٹ کردریائے آموکے اس پاربھاگنے پر مجبور نہ ہوتاتو افغانیوں کاآج حشرہی کچھ اور ہوتا۔دوسرا منفردپہلویہ ہے کہ اگر کوئی سمجھ رہاہے کہ پاکستان سے افغانستان کونقصان ہورہاہے تویہ قطعی طور پر غلط بات ہے کیونکہ سمندرکی غیرموجودگی کی وجہ سے لینڈلاک ملک کہلاتے افغانستان کی معیشت اور تجارت کازیادہ تر انحصارپاکستان ہی پر ہے اوراگرافغانستان کے حکمران سمجھ رہے ہیں کہ معاشی اور تجارتی لحاظ سے بھارت ان کی کوئی مدد کرے گاتویہ ان کی خام خیالی اور بہت بڑی غلط فہمی ہوگی کیونکہ بھارت کاافغانستان کے ساتھ کوئی زمینی راستہ ہے نہ ہی بھارت اس کوتجارتی اورمعاشی سہارادے سکتاہے ۔بہرحال نظرآتی صورتحال کے تناظرمیں پشاور میں تاجر برادری کااحتجاج معنی خیزتھااور اب متقاضی حالات کے پیش نظر عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کوبھی افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ مؤثراقدامات اٹھانے ہوں گے اورسفری دستاویزات کے بغیرانہیں وطن عزیزکے کسی بھی حصے میں چلنے پھرنے سے روکناہوگا۔اس نکتے پر غورکے لئے حکومتی فیصلے کی گھڑی آچکی ہے کہ معاملہ اب یواین ایچ سی آر اور دیگرکمیشنوں تک محدودنہیں رہابلکہ سیدھاسیدھا عوام کے پاس آچکاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں