145

شندور فیسٹویل کا مشترکہ سپاس نامہ ۔۔۔ سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر

کافی سالوں کے وقفے کے بعد شندور فیسٹیویل کا انعقاد گلگت اور چترال کے باشندوں کو مبارک ہو۔ یہ یقیناًچترال اور گلگت کے باشندوں کے قدیم الایام کے برادرانہ تعلقات کے مظبوط ہونے کا سبب ہوگا۔ تنازعات کا حل عدالتوں کے ذریعے ہی باعزت ہو سکتی ہے۔
یقیناًشندور فیسٹوویل ہی چترال اور گلگت بلتستان کے بڑے بڑے مسائل کا حل ہے۔ لواری ٹنل ، شندور گلگت مستوچ روڈ ، گلگت بلتستان کا صوبہ بننا اور با وقار صوبائی حکومت جو اپنے فیصلے افہام وتفہیم سے کرنے کا مثال قائم کیا۔اور الیکشن کے نتائج بالغ جمہوری ممالک کی طرح تسلیم کرکے اقتدار اکثریتی پارٹی کو حوالے کیا اور پورے پانچ سال مسلکی اختلافات علاقائی مسائل اور زبان ورنگ ونسل کے بہت سے اختلافات اور سیاسی اختلاف رائے کے باوجود صرف صوبائی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ۔ شاباش آفرین گلگت بلتستان کے عوام الناس سیاسی قائدین اور سیاسی رہنما اور ادبی اسکالرز اور تمام نوجوانان گلگت بلتستان اور خاص کر علماء کرام، یقیناًترقی آمن سے ہی ممکن ہے۔
اس دفعہ کا سپاس نامہ مشترکہ طور پر پیش کیا جائے جس کا نصف حصہ گلگت بلتستان کا نمائندہ اور نصف حصہ ڈسٹرکٹ ناظم یا قومی اسمبلی کا ممبر چترال پیش کریں۔مندرجہ ذیل دو اہم مسائل اس سپاس نامہ میں نمبر ایک اور نمبر دو کے طور پر شامل کرنے کی درخواست ہے۔

(۱) صوبائی اور مرکزی حکومت گلگت بلتستان ، شندور اور چترال میں دو دو پولو کیمپس کا اعلان کریں جس میں تمام سہولیات ، پولو پلیرز(PLAYERS)کی انفرادی رہائش آرام اور باتھ، ڈریسنگ روم اور باتھ روم کی سہولیات موجود ہوں۔ اور اس کیمپس کے آحاطے میں گھوڑوں کے رکھنے کی پر سہولت کبنز (CABEN,S) موجود ہوں۔
ایک گلگت میں ، دو شندورمیں گلگت سائیڈ میں گلگت پولو کمپلیکس، اور چترال سائیڈ میں چترال پولو کمپلیکس اورایک چترال پولو گراونڈ پر ایک پولو کمپلیکس تاکہ ہر ٹورنمنٹ میں پولو پلیرز(PLAYERS )کو ہر سہولت اور باعزت طور پر رہنے کی جگہ تو میسرہو۔
(۲) اس اہم موقع پر ضلع مستوج کے بحالی کا اعلان ہر اعلان کرنے والے مہمان کو چترالیوں کے دلوں میں جگہ فراہم کرے گا اور چترال کے باشندے 45 سال سے PPP کو ووٹ صرف بھٹو شہید کی وجہ سے دیتے ارہے ہیں اور پوری دنیا اور ملک بھر کے تمام اداروں کے مخالف کے باوجود پرویز مشرف کو ووٹ دینا ہمارے محسنوں سے وفا کا ثبوت ہیں۔
لہذا ضلع مستوج کے بحالی اور قیام کا اعلان 2018 میں سرخروئی کا سبب ہوگا جو ہمارا جائز حق اور مستقل ترقی ، آمن اور روزگار کا ضامن اور انتہائی ضرورت ہے۔ ایک ضلع کی قلیل بجٹ پر 14850 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا دشوار گزار 29 وادیاں ہر سال شدت موسم
اور طوفان ،باد وباران اور زلزلے میں ہر سال از سر نو تعمیر کے قابل ہو جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں