یونیورسٹی آف چترال میں 100 ای سی ایل سی ڈائریکٹریسز کے لیے 10 روزہ مونٹیسوری ٹریننگ اختتام پذیر

چترال (نیوز ڈیسک): فاؤنڈیشن ٹو ایمپاور اسٹوڈنٹس (FES) نے ورلڈ وائیڈ ایجوکیشن فنڈ (WEF) امریکہ کے تعاون سے جاری "ہرزنگ ٹریننگ اینڈ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت یونیورسٹی آف چترال میں 100 ارلی چائلڈ ہڈ لرننگ سینٹر (ECLC) ڈائریکٹریسز کے لیے منعقدہ 10 روزہ جامع مونٹیسوری ٹریننگ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔
اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد لوئر اور اپر چترال کی تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کو مونٹیسوری طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنا تھا تاکہ وہ بچوں کی ابتدائی نشوونما (ECD) کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیم فراہم کر سکیں۔ تربیت کے دوران بچوں پر مرکوز تدریسی طریقوں، سازگار تعلیمی ماحول کی تیاری اور عملی مشقوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اختتامی تقریب میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان، سابق جی ایم اے کے ای ایس پی زہران شاہ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مقدس خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف چترال کے فیکلٹی ممبران اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
معزز مہمانوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے ابتدائی بچپن کی تعلیم میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے چترال میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے FES اور یونیورسٹی آف چترال کی مشترکہ کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایف ای ایس کی ڈائریکٹر پروگرامز محترمہ ثمینہ حسین، آپریشنز منیجر عالمگیر خان اور اکیڈمک منیجر آفتاب کریم نے مہمانوں اور یونیورسٹی آف چترال کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر ندیم احمد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کا وژن پورے خطے میں 1,200 ارلی چائلڈ ہڈ لرننگ سینٹرز قائم کرنا ہے، جس سے نہ صرف بچوں کو معیاری تعلیم ملے گی بلکہ خواتین کو باوقار روزگار ملنے سے ان کی معاشی خودمختاری بھی ممکن ہوگی۔
واضح رہے کہ FES ورلڈ وائیڈ ایجوکیشن فنڈ کے تعاون سے چترال میں اسکالرشپس، لینگویج لیبز اور کمپیوٹر سائنس ڈپلوما جیسے کئی دیگر فلاحی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔





