تازہ ترین
امم خواجہ چترالی ایشئن ٹیبل ٹینس چمپئن شپ میں شرکت کے لئے انڈیا کے شہر اندورروانہ ہوگئے، مسلسل تیسری بار وہ بیرون ممالک مین اپنے ملک پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں قبل ازین انٹرنیشنل گولڈ اور سلور مڈل حاصل کرچکے ہیں


کہ امم خواجہ چترالی کی ہوپ ساوتھ ایشئن چمپئن شپ میں کامیابی کاایک سال گزر گیا لیکن پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی سمیت کسی سپورٹس افیشلز نے انہیں شاباش تک نہیں دی ، سپورٹس ڈاریکٹوریٹ خیبر پختونخوا کی طرف سے کوئی پزیرائی نہیں ملی نہ کسی سپورٹس منسٹر ، نہ کسی سپورٹس سیکرٹری اور نہ ہی دیگر اہلکاروں ان کی حوصلہ افزائی کی ، کے پی سپورٹس ڈاریکٹوریٹ کے پاس قیوم سپوٹس کمپلیکس میں ٹیبل ٹینس کے لئے کوئی ہال موجود نہیں اور نہ ہی ڈاریکٹوریٹ کی طرف سے کوئی کوچ مقرر کیا گیا ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کے انٹرنیشنل کامیابی یا حکومت میں کی طرف سے ان کی پزیرائی کے لئے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے پالیسی میکر کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے پشاور میں تعینات ڈائریکٹر نے اپنے ایفی شنسی دیکھانے کے لئے ٹیبل ٹینس کی تربیت کے لئےّ آنے والے بچوں کے لئے ماہانہ فیس لینے کا اعلان کردیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ کہ وہ ٹیبل ٹینس کے ہال میں ایگزاز فین ، لائٹنگ ، صفائی ، چھت کے لئے سیلنگ سمیت کوئی بھی سہولت فراہم کرنے کئے تیار نہیں اس ترقیافتہ دور میں جہان ملک کے تمام صوبوں میں ٹیبل ٹینس ہال ووڈن فلور اور میٹ لگے ہوئے ہیں لیکن صوبہ خیبر پختونخوا کے بچے سیمنٹڈ کورٹ میں کھیلنے پر مجبور ہیں جنہیں نیشنل اور انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سپورٹس کے پالیسی میکرز کو ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کی طرف سے کھیلوں کے فروغ کے لئے مخٹص رقم کھلاڑیوں تک نہیں پہنچتی کھلاڑیوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری ان کے والدین ادا کررہے ہیں سپورٹس کے صوبائی اور مرکزی دونوں محکموں کی طرف سے کھلاڑیوں کو ایک ربڑ اور ریکٹ یہاں تک گیند تک فراہم نہیں کی جاتی اگر صورتحال یہی رہا تو کوئی غریب کا بچہ کھیل کے میدان میں آگے أنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ کھیلوں کے سامان عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے اگر ارباب اختیار ملک میں کھیلوں کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں سپورٹس مین فرینڈلی پالیسیان ترتیب دینے ہونگے بصورت دیگر کھیلوں کے میدان ویران ہوتے جائیں گے۔