مدرسہ عائشہ صدیقہ آیون درخناندہ میں حفاظ و درس نظامی کے طلباء و طالبات کی دستار بندی کی پر نور تقریب ، معروف عالم دین مولانا حبیب اللہ و دیگر علماء کرام کی تقریب میں شرکت

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) مدرسہ عائشہ صدیقہ للبنات و البنین آیون درخناندہ آیون میں درس نظامی اور حفظ القرآن کی تکمیل کی سعادت حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی دستار بندی کی پر وقار تقریب ہوئی ، اس پر نور تقریب کے مہمان خصوصی چترال کے معروف عالم دین مولانا حبیب اللہ تھے ، جبکہ دیگر علماء کی ایک بڑی تعداد اور علاقائی عمائدین تقریب میں شریک تھے ،
مہتمم مدرسہ عائشہ صدیقہ و معروف و شعلہ بیان مقرر مولانا حافظ خوشولی خان ولی نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں تمام مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا ، اور مدرسہ کے بارے بتایا ۔ کہ یہ مقامی لوگوں کے تعاون سے قائم ہے ، مدرسے میں 13 اساتذہ ہیں ، جن کی بہت ہی قلیل تنخوا ہ ہے ، لیکن یہ ان کا اسلامی و دینی جذبہ ہے ۔ کہ ہر قسم کی مالی مشکلات کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے برداشت کرتے ہیں ، اور بچوں و بچیوں کو دینی علوم سے بہراور کرنے میں شب وروز محنت کرتے ہیں ، اور اللہ نے اسی جذبے کی بدولت ان کے دلوں کو غنی کردیا ہے ۔ اور مہنگائی کے اس طوفانی دورمیں وہ بھی زندگی بسر کر رہے ہیں ، جبکہ ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے اور آمدن حاصل کرنے والے بھی اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہیں ، انہوں نے مدرسے کی مدد کرنے والے مخیر حضرات کی درازی عمر اور دینی جذبے میں اضافے کے ساتھ مدرسہ کی مالی معاونت جاری رکھنے کے لئے ان کے جذبے کو بڑھاوا دینے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ،
سابق ممبر تحصیل کونسل و ممتاز عالم دین مولانا عمادالحق نے اس موقع پر سیر حاصل خطاب کرتے ہوئے کہا ، کہ دینی علم کا حصول مسلمانوں کیلئے اولین ترجیح ہونی چاہئیے ، تاہم فنی تعلیم کی بھی اسلام میں ممانعت نہیں ہے ، لیکن جو لوگ دیگر علوم کو اسلامی تعلیمات پر ترجیح دیتے ہیں ، وہ الحاد کا شکار ہو سکتے ہیں ، مسلمان معاشرے پر یہ لازم ہے ، کہ وہ اسلامی علوم کو اولیت دیں ، کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے ۔ کہ مرنے کے بعد قبر میں جو سوالات ہوں گے ، وہ کسی فنی تعلیم کے حصول کے بارے میں نہیں ، اسلام کے بارے میں ہوں گے ۔۔
مہمان خصوصی چترال کے مایہ ناز عالم دین محقق مولانا حبیب اللہ نے بخآری شریف کا درس دیا ، اور احادیث کی ترتیب کے حوالے سے سیر حاصل خطاب سے حاضرین کو نوازا ، اور دین اسلام کی عظمت اور نور پر روشنی ڈالی ، اور فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات کو ہدایت کی ، کہ اللہ پاک نے انہیں جس علم سے نوازا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر خاص مہربانی اور والدین کے دینی جذبے کا مظہر ہے ، اس لئے عمل سے اپنے علم کی نہ صرف حفاظت کریں ، بلکہ اسے پھیلانے کا ذریعہ بنیں ، تقریب کے دوران مدرسہ کے طلباء اور باہر سے آئے مہمان نعت خوانوں نے خوش الہانی سے نعت شریف پیش کرکے خوب داد وصول کی ، بعد آزاں فارغ ہونے والے طلباء کی دستار بندی کی گئی ، اور انہیں اور والدین کو مبارکباد دی گئی ۔





