مضامین

فتنوں کے دور میں عبادت ہجرتِ نبوی ﷺ جیسا عظیم مقام تحریر: ابوسلمان

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسانیت پر کبھی امن و سکون کے موسم آتے ہیں تو کبھی آزمائش، فتنہ و فساد اور بے چینی کے بادل چھا جاتے ہیں۔ آج کا دور بھی انہی پُرفتن زمانوں میں شمار ہوتا ہے جہاں قتل و غارت، بے حیائی، دین سے غفلت، مادّہ پرستی اور سوشل میڈیا کے فتنوں نے انسان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں دین پر قائم رہنا اور عبادت سے تعلق مضبوط رکھنا یقیناً بہت بڑی سعادت اور عظیم مجاہدہ ہے۔
اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا:
الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ (صحیح مسلم: 2948)
ترجمہ: “فتنوں اور قتل و غارت کے دور میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔”
یہ مختصر مگر عظیم حدیث اپنے اندر ایمان افروز بشارت، صبر کا پیغام اور اہلِ عبادت کے لیے عظیم خوشخبری رکھتی ہے۔
“ہرج” سے کیا مراد ہے؟
حدیث میں لفظ “ہرج” استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں:
قتل و غارت عام ہو جائے
فتنہ و فساد پھیل جائے
حق و باطل میں تمیز مشکل ہو جائے
لوگ دین سے غافل ہو جائیں
گناہوں کو معمولی سمجھا جانے لگے
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی انسان ایک ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے۔ ہر طرف نفس پرستی، بے سکونی، اخلاقی زوال اور دین سے دوری کا ماحول دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جو شخص اپنے ایمان کو بچا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے وابستہ رہتا ہے وہ حقیقت میں بہت بڑی قربانی دے رہا ہوتا ہے۔
فتنوں کے دور میں عبادت کی اہمیت
عام حالات میں عبادت کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن جب پورا معاشرہ غفلت میں ڈوبا ہو، لوگ دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکے ہوں اور نیکی کرنے والے کم رہ جائیں تو اس ماحول میں نماز، روزہ، ذکر، تلاوتِ قرآن اور تقویٰ کو اختیار کرنا بہت عظیم عمل بن جاتا ہے۔
ایسے وقت میں عبادت کرنے والا:
اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے
ماحول کے دباؤ کا مقابلہ کرتا ہے
گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے
اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے
اسی لیے اس کا اجر بھی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
ہجرت کے برابر اجر کیوں؟
نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت صرف سفر کا نام نہیں تھا بلکہ:
دین کے لیے قربانی دینا
مشکلات برداشت کرنا
ایمان کی حفاظت کرنا
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنا
یہی کیفیت اُس شخص کی بھی ہوتی ہے جو فتنوں بھرے ماحول میں عبادت پر ثابت قدم رہتا ہے۔ وہ معاشرے کی بے راہ روی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، اپنے ایمان کو بچاتا ہے اور دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے ہجرت جیسا عظیم اجر عطا ہونے کی خوشخبری سنائی۔
آج کے دور کے لیے پیغام
آج سوشل میڈیا، بے حیائی، فضولیات اور گناہوں کی آسانی نے انسان کو ہر لمحہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ:
نماز کی پابندی کریں
قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کریں
ذکر و دعا کا اہتمام کریں
گناہوں اور فتنوں سے خود کو بچائیں
اپنے اہل و عیال کی دینی تربیت کریں
یاد رکھیں! فتنوں کے دور میں عبادت صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے۔
یہ حدیث ہمیں امید، حوصلہ اور استقامت کا درس دیتی ہے کہ اگر انسان پُرفتن ماحول میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کو مضبوطی سے تھامے رکھے تو اللہ رب العزت اسے غیر معمولی اجر عطا فرماتے ہیں۔ ایسے دور میں عبادت کرنا عام زمانے کی عبادت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی طرف ہجرت کے برابر قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے، عبادت کی لذت نصیب فرمائے اور دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button