احیائے دین کا سرخیل — سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔۔تحریر: مبشرالملک

مولانا سید ابو الاعلی مودودی وہ شخصیت ہیں جنہیں بجا طور پر احیائے دین کے قافلے کا سرخیل کہا جا سکتا ہے۔ امام الغزالی کا فلسفۂ تصوف کروڑوں دلوں پر اثر انداز ہوا، اور امام ابن تیمیہ نے خالص دینی فکراور اجتہادی جرت سے لاکھوں کی رہنمائی کا زریعہ بنا۔ شاہ ولی اللہ امام الہند نے ان دو زاویوں کو یکجا کر کے ایک فکری گلدستہ ترتیب دیا—
بے شک ۔۔۔سید مودودیؒ وہ مردِ درویش ہیں جنہوں نے ان تمام افکار کو ایک ہمہ گیر نظامِ حیات کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
سید مودودیؒ کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے دین کے کسی ایک یا دو پہلو کو نہیں، بلکہ پورے دین کو ایک مکمل نظامِ زندگی کے طور پر، اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں، ہر شعبۂ حیات کے لیے قابلِ عمل بنا کر پیش کیا۔ یہ جامعیت کم ہی شخصیات کے حصے میں آئی ہے۔
ان کا دوسرا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت کی تنگ نظری سے نکال کر ایک ایسی فکر اور تحریک عطا کی جو “واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً” کی عملی تصویر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی دعوت میں وسعت، برداشت اور اجتماعیت کا رنگ نمایاں ہے۔
چوتھا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے دین کو صرف مسجد، محراب اور خانقاہ تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک انقلابی فکر کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو،علامہ اقبال کے شاہینوں کی مانند، بلند پروازی کا حوصلہ دیا اور انہیں دین کے عملی نفاذ کی جدوجہد میں شریک کیا۔
ان کی سینکڑوں تصانیف، خصوصاً تفہیم القرآن، نے دنیا بھر میں ایک فکری بیداری پیدا کی۔ آج بھی اگر کسی جماعت یا تنظیم میں کشادہ دلی، اعتدال، فرقہ واریت سے دوری اور مسلکی قیود سے بالاتر ہونے کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو اس میں ۔۔۔جماعت اسلامی۔۔۔۔ کا نمایاں کردار ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں۔
سید مودودیؒ کے فکری اثرات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ ان کے شاگردوں اور متاثرین میں مرحوم مولانا مفسرالقران امین احسن اصلاحی ۔ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم مولانا اسحاق مرحوم علامہ جاوید احمد غامدی جناب ذاکر نایک ۔جناب انجینیر میرزا ۔مفتی ہمدرد جیسے مبلغ بیسیوں جیسے متعدد اہلِ علم سوشل میڈیا میں رشد ہدایت کا فریضہ نبھا کردنیا بھر میں دین کی دعوت و اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔
ان تمام خدمات کے پیشِ نظر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ:
احیائے اسلام کے اس قافلے کا سرخیل، آج بھی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہی ہیں


