مستوج روڈ کی انتہائی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاحت، معیشت اور عوامی زندگی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

چترال( )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چترال کے سینئر رہنما اور وی سی سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہ میر نے چترال کی اہم شاہراہوں، بالخصوص چترال-
چترال پریس کلب میں چترال یونیورسٹی کے طلباء کے نمائندہ وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خراب حالت نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں بلکہ تعلیمی و معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اس موقع پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف)، اسلامی جمعیت طلبہ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
امین الرحمن شاہ میر نے خصوصاً یونیورسٹی روڈ کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس مسئلے پر وہ طویل عرصے سے اپنی مدد آپ کے تحت آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ ویلی کی زرعی پیداوار بروقت منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ مریضوں، طلباء اور عام شہریوں کو بھی آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خستہ حال سڑکیں مستقبل میں سی پیک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ممکنہ تجارتی روابط کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی چترال مہتر فاتح الملک کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر چترال سے ملاقات کے بعد یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متعلقہ سڑک پر اتوار سے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے اپنی احتجاجی تحریک اتوار تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے چیو پل کے قریب یونیورسٹی طلباء کے لیے انتظار گاہ تعمیر کرنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکام کا شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ اگر اتوار کو کام کا آغاز نہ ہوا تو چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
امین الرحمن شاہ میر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ سیاحتی سیزن کے آغاز اور شندور فیسٹیول کی آمد کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر نہ صرف سیاحت متاثر ہوگی بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔



