گلگت بلتستان انتخابات میں ممتاز علمی و سیاسی شخصیت عبدالجہان قراباش کی کامیابی پر علمی و ادبی حلقوں کی طرف سے مبارک باد ۔ ذاکر زخمی

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں ممتاز علمی، سیاسی و سماجی شخصیت عبدالجہان قراباش کی شاندار کامیابی گلگت بلتستان اور چترال، دونوں کے لیے خوش آئند ہے۔ عبدالجہان صاحب نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ چترال میں بھی ایک جانی پہچانی اور نامور شخصیت ہیں۔ آپ کی خدمات جہاں تعلیمی میدان میں نمایاں ہیں، وہاں ادبی طور پر بھی آپ کی کاوشوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔جب معروف ادیب گل نواز خاکی صاحب کی کتاب "تھورون” اشاعت پذیر ہوئی، تو عبدالجہان خان قراباش نے محسوس کیا کہ کھوار زبان کے اس قیمتی علمی سرمائے کو عام لوگوں اور نئی نسل تک پہنچنا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے کتاب کی پبلسٹی، کھوار زبان و ثقافت کے فروغ، اور مالی مشکلات کے شکار طلبہ و قارئین کی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس کتاب کی بھاری تعداد خود خریدی۔ انہوں نے یہ کتابیں گلگت بلتستان (خاص طور پر غذر، جہاں کھوار بولی جاتی ہے) اور چترال کے مختلف ادبی حلقوں، تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور اسکالرز میں مفت تقسیم کیں۔
یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ عبدالجہان قراباش محض ایک انتظامی ماہرِ تعلیم ہی نہیں، بلکہ زبان و ادب سے دلی محبت کرنے والی شخصیت ہیں اور زبان کے تحفظ اور مقامی ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں۔واضح رہے کہ آپ اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کے نگران سیٹ اپ میں بحیثیت نگران وزیر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں آپ کی کامیابی نہ صرف حلقے کے عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے بلکہ کھوار زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی ایک نیک شگون ہے۔ تمام ادبی و سماجی حلقے عبدالجہان قراباش کو اس کامیابی پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں



