قسمت۔۔۔۔۔۔۔کی دیوی۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق

ہر ایک آدمی کا رہن سہن الگ ہوتا ہے اس کے کام کا راگ الگ ہوتے ہیں کوٸی لکھ پتی ہے تو کسی کے پاس کھانے کے لٸے بھی پیسے نہیں ہیں کوٸی لاکھوں میں مہینہ کما رہا ہے تو کوٸی چند ہزار یہ فرق کیوں؟اس کا فوری جواب ہے اپنی اپنی قسمت۔۔
اس قسمت نے انسان کو جتنا گمراہ کر رکھا ہے اتنا کسی اور بات نےنہیں کیا ہے اس قسمت کی پیداٸش کہاں ہوگی۔اس کی کوٸی تعریف نہیں ہے مگر اتنا یقین ہے کہ کچھ نکمے لوگوں نے ہی اس کی شہرت کی ہوگی۔
جو کوٸی کام نہیں کرتے محنت سے گھبراتے ہیں اور جن کی ایک خواہش یہ رہتی ہے کہ ان کے پاس سب کچھ مفت میں سب کچھ چلا اۓ۔وہی قسمت کی بات کرتے ہیں کیا کروں یار میری قسمت ہی ایسی نہیں ہے دوسرے کو ترقی کرتا دیکھ کر خوشحال دیکھ کر وہ کہتے ہیں اس کی قسمت تیز ہے
یہ قسمت کیا بلا ہے؟میں آج تک نہ سمجھ سکا قسمت کا جب کوٸی بات کرتا ہے تو مجھے لومڑی کا قصہ یاد اتا ہے جس نے آنگور نہ پا سکنے کے باعث ان کو کھٹے کہنا شروع کردیا تھا جب کہ اصل میں وہ میٹھے تھے اس نے یہ مان کر صبر کر لیا تھا کہ وہ کھٹے ہیں
اس طرح قسمت کو ماننے والا سب کچھ پانے کی طاقت رکھنے کے باوجود سستی کے باعث یا کمزوری کے باعث قسمت کو مان کر پڑا رہتا ہے اور رہ جاتا ہے جس کی قسمت آپ تیز مانتے ہیں ۔اس کے گریان میں اپنا منہ ڈال کر دیکھیں تو کیا قسمت کے بل پر ہی ان سب کو حاصل کر سکا ہے۔ قسمت اپنے کاموں اور سوجھ بوجھ کا پھل ہوتا ہے آپ ایسا نہیں کر پاتے ہیں اس وجہ سے آپ کی صورت حال کمزور ہے یہ ایک سچ ہے جس کو ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اپ خود تسلیم کریں گےاس لٸے سوجھ بوجھ اور کام کی کامیابی کو نکمے حاسد لوگوں نے قسمت کا نام دیا ہے اس طرح قسمت کا شہرہ ہو گیا ہے
قسمت کی اس تخلیق کے بعد اس کا خالق خدا کو بنا دیا گیا ۔یہ دلیل دی جانے لگی کہ جو کچھ قسمت میں لکھی جا چکی ہے وہی ہوگا۔آدمی کا اپنی قسمت کے آگےبس نہیں چلتا ۔اس کے ثبوت کے لٸےطرح طرح کہ دلیلیں دی جانے لگی۔اس طرح قسمت کے نام پر ایک بہت بڑا گروہ گمراہ کر دیا گیا انسان نے قسمت کی بات کرکے اپنی ترقی کے راستے کو خود روک لیا۔
قسمت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے قسمت انسان کو کچھ کرنے نہیں دیتی اس کو نکما بنا دیتی ہے کسی کام میں ہاتھ ڈالنے پر ناکامی کے باعث وہ اس بات کو مان لیتا ہے کہ قسمت اس کا ساتھ نہیں دے رہی ہے پھر اس کام کو ہاتھ نہیں لگاتا کام ہی چھوڑ دیتا ہے چاہٸے اس ناکامی کے باوجود اس کام میں ہاتھ رکھنے سے کامیابی یقینی ہو۔یہیں پر آدمی سب سے بڑا دھوکہ کھاتا ہے۔ہیرے کی تلاش کیلے ایک آدمی تھوڑی زمین بھی جب کھداٸی کے بعد کچھ ہاتھ نہ لگا تو اس نے چھوڑ دی۔دوسرے نے ذمہ داری لی تھوڑا سا مزید کھودنے پر دوسرے کو بڑا ہیرا مل گیا۔کیا کہیں گے اس کو قسمت!
پہلے والا اپنی سستی اپنے نکمے پن،اپنی کاہلی پر اس کو قسمت کا نام دے کر پردہ ڈال دے گا۔قسمت میں نہیں تھا ملتا کیسے؟جس کی قسمت میں تھا اس کو ملا۔
اس طرح کے خیالات صرف قوت سے محروم ذہن اور محنت اور تجربے سے ڈرنے والے لوگ کیا کرتے ہیں قسمت اصل میں ایک دھوکا اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کا ایک بہانہ ہے ۔اس لٸےقسمت کی بات پر یقین کرنے کا مشورہ کھبی نہیں دے سکتا ضرورت کام کی محنت اور ہمت کی ہے ۔
آپ اور ہم سب کچھ پاسکتے ہیں سب کچھ آپ کی قسمت میں لکھا ہے اپنی قسمت بنانے والے آپ خود ہیں آپ اپنا مقصد خود بنا اور بگاڑ سکتے ہیں۔
اس لٸے میدان میں آٸیں۔بغیر کوشش کے،بیغیر جدوجہد کے کچھ نہیں ملتا۔اگر آپ کے پاس محنت ہے ،ہمت ہے سب کچھ آپ حاصل کر سکتے ہیں یہاں تک کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔جس کا کام اس کا پھل۔آپ خود اس پر فیصلہ کریں۔آپ کو سب ملے گا ۔اپنے بل بوتے پر آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔قسمت والے یا بدقسمت ہونا محض ایک بیانہ لیبل ہے ۔۔اس سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں محنت اور ہمت پر یقین کیجٸے۔۔۔قسمت کی دیوی پر یقین نہ ہی کیجٸے۔۔۔



