ای پیڈز اور ای ٹینڈرنگ نظام کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، فوری نوٹس لیا جائے: کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کاپریس کانفرنس

چترال /گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چترال نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں ای پیڈز (EPADS) اور الیکٹرانک ٹینڈرنگ کے نظام میں مبینہ بدعنوانیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شفافیت کے لیے متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل نظام اب کرپشن اور اقربا پروری کا ذریعہ بن چکا ہے۔
چترال پریس کلب میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر قاضی فیصل، سرفراز الدین، جاوید اختر، اسرار الدین، سبحان الدین، ناصر احمد اور دیگر رہنماؤں نے محکمہ تعمیرات و مواصلات (C&W) اور محکمہ آبپاشی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں محکمہ آبپاشی چترال کے ٹینڈرز میں ایک مخصوص فرم ’’اتفاق کنسٹرکشن‘‘ نے چار مختلف منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کیے۔ ان کے مطابق مذکورہ فرم نے دیگر تمام بولی دہندگان کے مقابلے میں صرف ایک پیسے (0.01 روپے) کے فرق سے کم ریٹس دے کر کامیابی حاصل کی، جو بغیر اندرونی معلومات کے ممکن نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ٹینڈر جمع کرانے کے آخری لمحات میں ای پیڈز پورٹل کو جان بوجھ کر بعض ٹھیکیداروں کے لیے بلاک کر دیا جاتا ہے، جبکہ مخصوص افراد کو سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ رہنماؤں کے مطابق اس عمل سے شفاف مسابقت متاثر ہوتی ہے اور ٹھیکیدار برادری کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
کنٹریکٹرز رہنماؤں نے کہا کہ حکومت نے شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے ای بڈنگ نظام متعارف کرایا تھا، تاہم بعض عناصر نے اسے کرپشن کا بدترین ذریعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سنگل اسٹیج ٹو انویلپ اور ٹو اسٹیج بڈنگ طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان طریقوں سے افسران کو من پسند افراد کو نوازنے کے مواقع ملتے ہیں۔
گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چترال نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، آئی ٹی سیکشن کے مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، محکمہ آبپاشی کے 18 جون کو ہونے والے تمام ٹینڈرز منسوخ کیے جائیں اور ان منصوبوں کے لیے نئے سرے سے شفاف ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا جائے۔






