چترال میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث گولین، ارکاری اور مدک لشٹ سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں/ڈی سی راؤ محمد ہاشم عظیم

چترال (ڈیلی چترال نیوز ) آغا خان فاونڈیشن پاکستان نے آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان (AKAH-P) کی اشتراک اور یورپی یونین ہیومینیٹیرین ایڈ (ECHO) کے مالی تعاون سے گزشتہ دو سالوں سے جاری پراجیکٹ کی تکمیل کی تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قدرتی آفات سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لایا جائے تاکہ ان کی کاوشیں یکجا ہوکر بہتر نتائج پیدا کرسکیں۔ ” امپرونگ ریسپانس اینڈ انکریزنگ ریزیلنس ٹو ڈیزاسٹرز ان ولنیریبل ایریاز آف چترال” یعنی چترال کے غیر محفوظ علاقوں میں آفات کے خلاف رد عمل کو بہتر بنانے اور مدافعت کو بہتر بنانا کے نام سے پراجیکٹ کی مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس تقریب میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال راؤ محمد ہاشم عظیم مہمان خصوصی تھے جس نے اپنے خطاب میں کہاکہ چترال میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے سے سیلاب (گلاف) کا خطرہ کئی گنا بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں گولین، ارکاری اور مدک لشٹ متاثر ہوسکتے ہیں جس کے لئے اس پراجیکٹ نے پہلے سے کمیونیٹیز کو تیارکرلیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ یونٹ کے ساتھ اس پراجیکٹ کی کوارڈنیشن کے ثمرات کو مثبت قرار دیااور کہاکہ اسے مزید مربوط بنیادوں پر استوارکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ارندو بارڈر علاقہ میں سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے گھرانوں میں اس پراجکٹ کے زریعے فی گھر ایک لاکھ اٹھائیس ہزار روپے کی مالی امداد کو گرانقدر گردانا اور اس پراجیکٹ کی کامیابی قرار دی۔
اسماعیلی ریجنل کونسل اپرچترال کے پریذیڈنٹ امتیاز عالم نے سرکاری محکمہ جات کے ساتھ پالیسی انٹگریشن کو اس پراجیکٹ کا خاصہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ انہوں نے کلائمیٹ کی حساسیت کے حامل یعنی کلائمیٹ سنسی ٹیو بجٹ پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل فوکس ہیومنیٹرین اسسٹنس چترال کے ریجنل پروگرام اینڈ اپریشن منیجر ولی محمد یفتالی، اکاہ چترال کے آفس انچارج انجینئر الطاف حسین شاہ، اکاہ کے ٹریننگ کوارڈنیٹر فداحسن نے پراجیکٹ کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور ٹارگٹ کے حصول میں مشکلات اور چیلنجز کا ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ اپر اور لوئر چترال کے قدرتی آفات سے متاثرہ اور حساس علاقوں میں مقامی آبادی اور سرکاری اداروں کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ اس پراجیکٹ کی مالی معاونت سے پراجیکٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے ضلعی انتظامیہ اپر اور لوئر چترال کے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (DDMU) کے لیے ایک جدید ارلی وارننگ ڈیش بورڈ تیار کیا۔ اس کے ساتھ باقاعدہ آن لائن اور آف لائن سرورز بھی قائم کرکے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیے گئے، تاکہ کسی بھی قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال کے دوران عوام تک بروقت اور درست معلومات پہنچائی جا سکیں اور مؤثر انداز میں پیشگی انتباہ فراہم کیا جا سکے۔
مزید برآں، ارندو کے 1,000 متاثرہ آئی ڈی پیز کو اس پراجیکٹ کے تحت ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے ایزی پیسہ کے ذریعے فی خاندان 128,000 روپے نقد امداد فراہم کی گئی۔ اس امدادی پروگرام پر مجموعی طور پر 12 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور بنیادی ضروریات کی تکمیل میں نمایاں مدد ملی۔
آربیٹریشن اور ریکنسی لیشن بورڈ پاکستان کے چیرمین ڈاکٹر ریاض حسین نے پراجیکٹ کی افادیت پر روشنی ڈالی اور آرلی وارننگ سسٹم کو نہایت مفید قرار دیا جواس پراجیکٹ کا حصہ رہا۔ کلائمیٹ چینج اسپیشلسٹ حامد احمد میر اور اویس احمد نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس پراجیکٹ کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور اپنی تجاویز پیش کی۔ پراجیکٹ سے مستفید ہونے والے کمیونیٹیز کی طرف سے محمد ولی (گرم چشمہ)، سبحا ن الدین (ایون) اور قاری امین (ارندو) نے پراجیکٹ سے ملنے والی فوائد اور اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ پراجیکٹ لیڈ آغاخان فاؤنڈیشن پاکستان انجینئر فرمان اللہ نے پراجیکٹ کے خدوخال اور اس کے حاصل کردہ ٹارگٹس کی تفصیل بیان کی۔















