مضامین

​داد بیداد…….دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی…….. ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

​سائنسدانوں نے انسانی صورت کا پلاسٹکی بندہ تیار کر کے مارکیٹ میں لایا ہے، اس کو مصنوعی دل اور دماغ بھی لگایا ہے۔ ابھی سائنسدانوں کو روح کی تلاش ہے مگر روح نہیں ملے گی۔ اللہ پاک نے قرآنِ حکیم کے سورہ بنی اسرائیل کی آیت 85 میں حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ "تم روح تک نہیں پہنچ سکو گے، تمہارا علم بہت محدود ہے”۔ نئی خبر یہ آئی ہے کہ حرمین شریفین میں حاجیوں اور معتمروں کو آبِ زمزم پلانے کے لیے جگہ جگہ روبوٹ نام کا مصنوعی دل و دماغ والا پلاسٹکی بندہ کھڑا کیا جائے گا۔ اس کے پیٹ میں آبِ زمزم اور سینے میں نلکا ہوگا، وہ اپنے ہاتھ سے گلاس بھرے گا اور لوگوں کو پلائے گا گویا جو مسلمان احرام میں ہوگا وہ بھی بت کے سامنے کھڑا ہو کر آبِ زمزم کی بھیک مانگتا ہوا نظر آئے گا۔ جس جہاز میں 680 مسافر سوار ہوں گے اس کو تربیت یافتہ اور تجربہ کار پائلٹ کی جگہ ایک روبوٹ اڑائے گا اور مسافروں کو منزلِ مقصود پر پہنچائے گا۔
​جدید ترین ہسپتال کے آپریشن روم میں دل، دماغ، گردہ، جگر اور آنکھوں کے پیچیدہ آپریشن آئندہ سرجن نہیں کریں گے، یہ کام بھی پلاسٹکی بندہ کرے گا کیونکہ وہ علم ترقی کر رہا ہے جس کو انگریزی میں روبوٹک انجینئرنگ کہتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے جدید کاروبار کے اہم ترین شخص ایلون مسک (Elon Musk) نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 15 سالوں میں دنیا کے اندر ایسی تبدیلیاں آئیں گی جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ سول انجینئرنگ، ایم بی بی ایس، ایف آر سی ایس اور پی ایچ ڈی سے لے کر بی اے، بی ایس سی تک کسی بھی تعلیم کی ڈگری ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی کیونکہ ڈگری اور سرٹیفکیٹ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ 80 فیصد کام روبوٹ کے سپرد ہوگا، جو 20 فیصد بچے گا وہ کاریگر کو دیا جائے گا۔ کاریگر سے مراد وہ شخص ہوگا جس کو مصنوعی ذہانت کے علم پر دسترس ہو اور وہ ​اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اس مہارت سے کام لے سکتا ہو۔ کسی کاریگر سے تعلیم کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی صرف اس کا کام دیکھا جائے گا۔ یہ ایسی پیش گوئی ہے جس کے ابتدائی اثرات ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ اور پیش گوئی ایسا  شخص کررہاہے جس کا سارا کاروبار یہی ہے اور جس کی ساری دولت اس کاروبار میں لگی ہے۔ وہ دیکھتی آنکھوں جان بوجھ کر اپنے منافع کے لیے انسانی ہاتھوں کا ہنر چھین رہا ہے۔ ہمارے سامنے ماضی کی دو عظیم شخصیات کی پیش گوئیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ چودہویں صدی کے مسلمان شاعر اور عالم شاہ نعمت اللہ ولی کا زمانہِ حیات 1330ء سے 1431ء تک ہے۔ انہوں نے مثنوی کے دو ہزار اشعار میں آنے والے ادوار کے مختلف حالات کی پیش گوئی کی ہے جو علامتوں کی زبان میں فارسی نظم ہے اس میں جنگ، امن، قحط اور خوشحالی کو علامتوں کی مدد سے دکھایا گیا ہے، خاندانی نظام کے ٹوٹنے کی طرف علامتوں کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے، ذرائع آمدن میں آنے والی تبدیلیوں اور ریاستی حکام کے بڑھتے ہوئے مظالم کو بھی علامتوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ لگ بھگ 100 سال بعد فرانس میں ایک ماہرِ فلکیات پیدا ہوا…
​ ​اس کا نام نوسٹراڈیمسNostradamus تھا، وہ 1503ء میں پیدا ہوا، 1566ء میں انتقال کر گیا۔ یورپ میں ان کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے مگر ان کے پیش گوئیوں کی حیثیت کسی بین الاقوامی کھیل پر رائے دینے والے ماہرین کی رائے سے مختلف نہیں۔ مثلاً پہلی جنگِ عظیم ختم ہوئی تو نوسٹراڈیمس کی پیش گوئی منظرِ عام پر لائی گئی، اس میں دنیا کو باور کرایا گیا کہ جیسی پیش گوئی کی گئی تھی،ویسا ہی ہوا عراق کی جنگ 7 سال بعد ختم ہوئی تو کہا گیا کہ اس کی پیش گوئی کی گئی تھی، وجہ یہ ہے کہ اس نے بھی علامتوں کی زبان میں بات کی ہے اور علامتوں کو ڈی کوڈ (Decode) یا ڈی سائفر (Decipher) کر کے اس میں ادا شدہ مضمون کی رمز کشائی دقت طلب کام ہے۔
​عہدِ موجود کے اندر ایلون مسک نے جو پیش گوئی کی ہے اس کا تعلق جفر، رمل اور فلکیات سے نہیں بلکہ ایک کاروباری شخص کے ذاتی تجربات اور امکانات سے ہے، نیز ان تبدیلیوں کے ​بعض اشارے پہلے ہی مل چکے ہیں، مثلاً جہازوں کے اڑانے کا عمل کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہا ہے، ہسپتالوں میں بعض آپریشن روبوٹ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، باقی کام بھی رفتہ رفتہ ہو جائیں گے۔
​شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے 100 سال پہلے آنے والے وقت کی پیش گوئی اردو کے ایک آسان شعر میں کی ہے، وہ کہتے ہیں:
​آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button