چترال، کالاش برادری کے مذہبی تہوار اچال کے پُرامن انعقاد، سیکیورٹی اور کیلاش برادری کے تحفظ کے حوالے سے اہم اجلاس

رومبور (فتح اللہ) وادی رومبور میں تھانہ رومبور میں ڈی ایس پی حسن اللہ اور ایس ایچ او رومبور کی سربراہی میں اچال فیسٹیول کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیسٹیول کے دوران امن و امان، سیکیورٹی انتظامات، کیلاش برادری کو درپیش ممکنہ مسائل، مذہبی رسومات کے تحفظ، سیاحوں کی رہنمائی اور پولیس و مقامی عمائدین کے درمیان باہمی تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سابق چیئرمین سیف اللہ جان، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، مولانا محمد اسحاق، کسان کونسلر جاوید احمد، میر گوجر، گل فیروز، بشگالی خان، قاضی مجیب، قاضی کندھار خان، قاضی راماسن، خواتین مذہبی قاضیاں سمیت مسلم اور کیلاش برادری کے دیگر عمائدین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اچال فیسٹیول کے موقع پر کیلاش برادری کو اپنی مذہبی رسومات اور روایتی سرگرمیاں مکمل آزادی، تحفظ اور پُرامن ماحول میں ادا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس، کیلاش مذہبی پیشواؤں یعنی قاضیوں اور مقامی عمائدین کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی مشاورت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ فیسٹیول کے دوران پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو بروقت حل کیا جا سکے۔
شرکاء نے کہا کہ کیلاش برادری کی مذہبی رسومات، ثقافتی روایات اور اخلاقی اقدار کا احترام تمام متعلقہ افراد کی ذمہ داری ہے۔ فیسٹیول کے دوران ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو مذہبی رسومات یا معمول کی سرگرمیوں میں خلل کا باعث بن سکتے ہوں، جبکہ پولیس کی جانب سے کیلاش برادری کے تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں فیسٹیول کے دوران وادی میں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے حوالے سے بھی اہم امور زیر بحث آئے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیاحوں کو مناسب رہنمائی اور ضروری تعاون فراہم کیا جائے گا، تاہم انہیں کیلاش برادری کی مذہبی رسومات اور فیسٹیول کے طریقہ کار کا احترام کرنے کی تلقین کی جائے گی۔ اگر کسی سیاح کی سرگرمی سے کیلاش برادری یا فیسٹیول کی رسومات میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو پولیس اور مقامی ذمہ داران بروقت مداخلت کرکے صورتحال کو بہتر بنائیں گے۔
اس موقع پر ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ اچال فیسٹیول کے دوران امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ کیلاش برادری کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور ان کی مذہبی رسومات، ثقافتی روایات اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ فیسٹیول کو بہترین اور پُرامن ماحول میں منعقد کرنے کے لیے کیلاش قاضیوں، مقامی عمائدین اور پولیس کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں متعلقہ افراد آپس میں مشاورت کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھیں گے تاکہ فیسٹیول کی سرگرمیاں خوشگوار ماحول میں جاری رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول میں شرکت کے لیے آنے والے سیاحوں کے ساتھ پولیس کی جانب سے بھرپور تعاون کیا جائے گا اور ان کی بہتر رہنمائی کی جائے گی، تاہم سیاحوں کو بھی مقامی مذہبی روایات اور رسومات کا احترام کرنا ہوگا۔ پولیس اس امر کو یقینی بنائے گی کہ سیاحوں کی آمد کی وجہ سے کیلاش برادری کو کسی قسم کی مشکل یا اپنی مذہبی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں میڈیا کوریج کے حوالے سے بھی ضابطہ کار واضح کیا گیا۔ ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ اچال فیسٹیول کی کوریج کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ این او سی رکھنے والے میڈیا نمائندگان کو مقررہ ضابطے کے مطابق کوریج کی اجازت دی جائے گی، تاہم جن کے پاس این او سی موجود نہیں ہوگا، انہیں فیسٹیول کے مخصوص مقامات پر کوریج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص صرف کیمرہ یا میڈیا نمائندے کا حوالہ دے کر کیلاش برادری کی مذہبی رسومات، خصوصاً خواتین کے مخصوص مقامات یا فیسٹیول کے حساس حصوں میں داخل ہو کر رسومات میں خلل پیدا نہیں کر سکتا۔ میڈیا کوریج بھی مقررہ ضابطے اور مقامی روایات کے احترام کے ساتھ کی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اچال فیسٹیول کے دوران سیکیورٹی، مذہبی رسومات کے تحفظ اور سیاحوں کی سہولت کے لیے تمام متعلقہ افراد اپنی ذمہ داریاں باہمی تعاون سے ادا کریں گے۔ اس حوالے سے پولیس اور کیلاش قاضیوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ اچال فیسٹیول ہر سال 22 اگست کو کیلاش برادری کی جانب سے وادی بمبوریت اور رومبور میں اپنی قدیم مذہبی و ثقافتی روایات کے مطابق منایا جاتا ہے۔ فیسٹیول کے موقع پر کیلاش برادری مختلف مذہبی رسومات ادا کرتی ہے جبکہ بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح بھی ان وادیوں کا رخ کرتے ہیں۔





