تازہ ترین

آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ اور ’فوکس پاکستان کا کالاش ویلیز میں معذور افراد کے لیے عظیم خدمت تحریر: فخر عالم 

چترال کی خوبصورت اور تاریخی وادیاں بمبوریت، بریر اور رمبور جہاں اپنی منفرد کیلاش ثقافت اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں، وہاں یہ علاقے جغرافیائی لحاظ سے شدید قدرتی آفات، خاص طور پر اچانک آنے والے سیلابوں (Flash Floods) کی زد میں بھی رہتے ہیں۔ ان کٹھن حالات میں جہاں عام انسان کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے، وہاں جسمانی معذوری کا شکار افراد (Persons with Disabilities) کے ساتھ بیوہ خواتین اور بچوں کے لیے آفات کے دوران بقا کا سفر ایک بھیانک خواب بن جاتا ہے۔ تاہم، آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (AKAH) اور فوکس ہومینیٹیرین اسسٹنس پاکستان نے اس سنگین چیلنج کا ادراک کرتے ہوئے ان وادیوں میں ایک ایسا انقلابی نظام متعارف کروایا ہے جس نے نہ صرف انسانیت کی خدمت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے بلکہ معذور افراد اور ان کے لواحقین کے دلوں سے خوف کا خاتمہ کر دیا ہے۔اس کامیابی کی بنیادی کڑی ”کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم” (CERT) کا قیام ہے جس میں 40فیصد خواتین کی شرکت یقینی بنائی گئی ہے۔ ’سرٹ‘ دراصل مقامی تربیت یافتہ رضاکاروں پر مشتمل ایک بنیادی تنظیم ہے جو کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں سب سے پہلے متحرک ہوتی ہے اور فوری طور پر تلاش و بچاؤ (Search and Rescue) کی کارروائیاں شروع کرتی ہے۔ ان رضاکاروں کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ وادی میں اس علاقے کا جامع ڈیٹا بیس بنانے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود تمام معذور افراد کا ایک جامع ڈیٹا بیس یا فہرست تیار کرنا ہے۔
بمبوریت کے وادی کا دورہ کرنے والے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ’سرٹ‘ بمبوریت کے کپتان زاہد عالم نے اس منصوبے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انتہائی فخر کے ساتھ بتایا کہ ہماری ٹیم کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک وادی میں مقیم تمام معذور افراد کی مکمل فہرست تیار کرنا ہے۔زاہد عالم کا کہنا تھا: ”اس فہرست سازی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا قدرتی آفت کے وقت ہمارے رضاکاروں کو معلوم ہو کہ کس گھر میں کون سا معذور فرد موجود ہے، تاکہ وقت ضائع کیے بغیر سیدھا ان کے گھر پہنچ کر انہیں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ آفت کے دوران ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے اور یہ فہرست ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ کس کو سب سے پہلے امداد کی ضرورت ہے۔۔ زاہد عالم نے 2015 کے اس ہولناک اور تباہ کن سیلاب کو یاد کیا جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ وادی کو 2010 اور 2012 میں بھی شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن 2015 کا سیلاب تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن اور برباد کن سیلاب تھا جس نے وادی بمبوریت کے درمیان سے گزرنے والے نالے کے اطراف کی تقریباًایک چوتھائی سے ذیادہ زمین کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔اس قیامت خیز گھڑی میں جہاں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، ’سرٹ‘ کے تربیت یافتہ رضاکاروں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے معذور افراد کو بچانے کا بیڑا اٹھایا۔ زاہد عالم کے مطابق، رضاکاروں نے وادی کے مختلف دیہاتوں جیسے برون (Brun)، گمبک (Gambak)، بتریک (Batrik) اور پڑاواناندہ (Palawandeh) اور دوسرے علاقوں میں میں موجود معذور افراد کو انتہائی مہارت اور سرعت کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ یہ رضاکاروں کی دن رات کی
 تربیت اور عزم کا نتیجہ تھا کہ اتنی بڑی آفت کے باوجود قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہونے دیا
 گیا۔آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (AKAH) اور فوکس (FOCUS) کا یہ اقدام محض ایک فہرست کی تیاری تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ”معذوری دوست نقطہ نظر” کا عکاس ہے۔ ماضی میں، جب بھی بادل گرجتے تھے یا نالوں میں پانی کی سطح بلند ہوتی تھی، تو معذور افراد کے خاندان شدید ذہنی تناؤ اور خوف کا شکار ہو جاتے تھے۔ انہیں ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ اگر اچانک سیلاب آ گیا تو وہ اپنے پیاروں کو، جو چلنے پھرنے یا دیکھنے سننے سے قاصر ہیں، کیسے بچا پائیں گے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ اس جامع نظام کی بدولت معذور افراد اور ان کے رشتہ داروں کے دلوں سے یہ خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ آفت کی صورت میں ’سرٹ‘ کے جوان سب سے پہلے ان کی دہلیز پر ہوں گے اور ان کے معذور پیاروں کو گود میں اٹھا کر یا اسٹریچر کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچائیں گے۔کمیونٹی کا اعتماد اور مستقبل کے لیے ایک ماڈ ل مقامی عمائدین اور معذور افراد کے خاندانوں نے آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ اور فوکس پاکستان کے اس مائیکرو لیول مینجمنٹ پلان کو خوب سراہا ہے۔ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے نے نہ صرف معذور افراد کو معاشرے کا ایک اہم حصہ تسلیم کیا ہے بلکہ انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں تنہا نہیں ہیں۔یہ کہانی صرف چترال کی تین وادیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ یہ پاکستان کے دیگر آفت زدہ اور پہاڑی علاقوں کے لیے بھی ایک بہترین ماڈل ہے۔ رضاکاروں کا یہ جذبہ اور اداروں کی یہ دور اندیشی ثابت کرتی ہے کہ اگر درست منصوبہ بندی اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر دیا جائے، تو بڑی سے بڑی آفت کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور معاشرے کے کمزور ترین طبقے کو بھی تحفظ کا احساس فراہم کیا جا سکتا ہے۔ چترال کی کالاش وادیوں سے اٹھنے والی یہ کامیابی کی داستان آج پورے ملک کے لیے امید اور انسانیت کی ایک روشن مثال بن چکی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button